مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
سندھ ہائی کورٹ کے جج، جسٹس ایس اے ربّانی سے اگرچہ میرا کوئی خونی رشتہ تو نہیں، مگر ایک انصاف پسند، بہترین مُنصف اور سچّے، کھرے انسان ہونے کے ناتے اُن سے انسانیت کا رشتہ ضرور تھا۔ وہ 6جون 1940ء کو پیدا ہوئے۔ بی ایس سی، پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز اور1970ء میں پی سی ایس (جوڈیشل) کے امتحان میں کام یابی کے بعد سول جج کے طور پر عدلیہ میں شمولیت اختیار کی اور 20اپریل1999ء سے5جون 2002ء تک سندھ ہائی کورٹ میں بطور جج خدمات انجام دیں۔
اُن کا شمار پاکستان کے نام وَر ججز میں ہوتا تھا اور وہ اپنے عدالتی فرائض کے دوران مختلف اہم مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کے لیے جانے گئے۔ اُن کی ایک وجۂ شہرت یہ بھی تھی کہ اپنی عدالت میں زیرِسماعت کیسز کے فیصلوں میں کبھی غیر ضروری تاخیر نہیں کیا کرتے تھے۔
وہ سندھ ہائی کورٹ کے علاوہ شریعت کورٹ سے بھی بہ حیثیت جج منسلک رہے اور اس اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کا راز اُن کی اعلیٰ علمی استعداد وصلاحیت تھی اور یہ صلاحیت و قابلیت اُن میں انگریزی و اردو ادب، نیز مذہبی کتب کے مطالعے سے پیدا ہوئی، خصوصاً انگریزی اخبارات کے مطالعے سے انگریزی زبان پرکمال مہارت حاصل ہوگئی، جس کی بِنا پر امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے لگے اور اسی علمیت و قابلیت کی بنیاد پر مقابلے کے امتحانات بھی پاس کیے، سرکاری ملازمت کا حصول ممکن ہوا۔ نیز، ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے جج کے عہدے تک جا پہنچے۔
اُن کی شخصیت کا دوسرا پہلو رُخ اُن کا اعلیٰ کردار اور عُمدہ اخلاق تھا، میری اُن سے پہلی ملاقات، ان کی صاحب زادی، معروف افسانہ نگار اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شیما ربّانی کے توسّط سے ان کی کتاب’’ کچوکے‘‘ کی اشاعت کے سلسلے میں ہوئی، جس کے بعد متعدد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر جسٹس صاحب کی کتاب سے اُن کی تعلیمی استعداد، ذہنی لیاقت، سوچ کی وسعت اور فکر کی گہرائی کا بہتر اندازہ ہوا، تو مجھے ان کی خداداد صلاحیتوں کا معترف ہونا پڑا۔
جسٹس صاحب کی تیسری خوبی ان کا وسیع المطالعہ ہوناتھا، جس کی بنیاد پر انہوں نے نہ صرف ادب ومذہب کی کتابیں، بلکہ اپنے پیشے سے متعلق متعدد کتب تصنیف کیں، جو نہ صرف پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلکہ ملک کے تمام ہائی کورٹس اور جوڈیشنل اکیڈمیز میں آج بھی موجود ہیں، اور طالبانِ علم وادب اُن سے بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔
جسٹس صاحب نے اپنی خودنوشت’’ وقت میرے حصّے کا‘‘ بھی لکھی ،جو اُن کی زندگی کا بھرپور تعارف پیش کرتی ہے۔ یاد رہے، اُن کی صاحب زادی، ڈاکٹر شیما ربانی نے اپنے والد کے نام اور کام کو زندہ رکھنے کے لیے 2023ء سے ’’ جسٹس ایس اےربانی ایوارڈ‘‘ کا بھی اجرا کر رکھا ہے، جس کے تحت ہر سال مختلف اصناف ِادب کی پانچ اوّل آنے والی کتب کو بیس، بیس ہزار روپے کے نقد انعامات اور ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔
جسٹس صاحب اپنے دو بیٹوں (خاور ربّانی اور یاسر ربّانی) اور ایک بیٹی(ڈاکٹر شیما ربانی) کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرکے اعلیٰ عہدوں اور بڑے مناصب کے قابل بناکر اس دارفانی سے مقام ابدی کی طرف کُوچ کرگئے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُنھیں جنّت الفردوس میں نبی مکرم حضور اکرم نور مجسّمﷺ کا پڑوس نصیب فرمائے، آمین۔ (شاعر علی شاعر)