• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

میرے ابّا جی، ملک نور زمان نے اپنی پوری زندگی نسلوں کی تربیت جیسے مقدّس فریضے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ایک ایسے استاد تھے، جن کی شخصیت کے اثرات محض گھر کی چار دیواری ہی تک محدود نہ تھےکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے سائبان ، تو اپنے طلبہ و معتقدین کے لیے ایک روشن چراغ کے مانند تھے۔ اور مَیں کس قدر خوش بخت ہوں کہ مَیں نے اس عظیم ہستی کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا۔

وہ صرف ہمارے والد ہی نہیں، ایک پورا عہد تھے، ایک ایسا کردار، جن کی موجودگی خود ایک درس گاہ کی سی تھی۔ وہ گھر میں اتالیق اور ا سکول میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ میرے والد مرحوم25نومبر 1933ء کو ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں رنگلی میں ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی، جہاں دیانت، محنت، خودداری اور ذمّے داری، زندگی کے بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ قیامِ پاکستان سے قبل سناتن دھرم ہائی اسکول جنڈ سے مزید تعلیم حاصل کی، بعدازاں اُن کے والد(ہمارے دادا) ملک میر زمان، جو خود بھی استاد تھے، انہیں ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی اسکول بسال لے گئے۔ بسال کے زمانۂ طالب علمی نے اُن کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہاں انہیں نام وَر استاد اور بہترین منتظم، نذیر احمد قریشی (جنرل احمد شجاع پاشا کے والد) جیسے اساتذہ کی رہنمائی حاصل رہی۔

اس تربیتی ماحول نے اُن میں نظم و ضبط، وقت کی پابندی، سنجیدگی اور اصول پسندی جیسی صفات پروان چڑھائی۔ میٹرک کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج، اٹک سے گریجویشن کیا اور پھر پنجاب یونی ورسٹی، لاہور سے بی۔ایڈ کی ڈگری کے حصول کے بعد 1956ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول جنڈ سے ان کے تدریسی سفر کا آغاز ہوا۔ کچھ عرصہ حسن ابدال میں خدمات انجام دینے کے بعد 28اپریل 1960ء کو بطور سینئر انگلش ٹیچر گورنمنٹ ہائی اسکول، فتح جنگ تعینات ہوگئے۔

فتح جنگ اسکول میں اُن کی تعیناتی درحقیقت ایک ایسے معلّم کی آمد تھی، جو بعد میں اس شہر کی علمی تاریخ کا روشن حوالہ بن گیا۔ انگریزی زبان پر عبور، نظم و ضبط پر غیر متزلزل یقین اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت نے اُنھیں جلد ہی ممتاز مقام عطا کر دیا۔

31مئی 1975ء کو اس ادارے کے سربراہ مقرر ہوئے، تو اُن کے دوَر میں ہائی اسکول فتح جنگ نے تعلیمی میدان میں بے مثال ترقی و کام رانی کی بے مثال منازل طے کیں۔ بورڈ امتحانات میں شان دار نتائج، ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کام یابیاں اور ایک مضبوط تعلیمی و اخلاقی ماحول کی فراہمی اُن کی بصیرت افروز قیادت ہی کا نتیجہ تھی۔

نیز، اپنی مدد آپ کے تحت اسکول میں مسجد اور چار دیواری کی تعمیر کے علاوہ شجرکاری کے ذریعے اسکول کے بنجر میدان کو سرسبزگل زار بنادیا۔ اُن کے دَور کو بجا طور پر ادارے کا سنہری دَور کہا جاسکتا ہے کہ اُن کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض امتحان میں کام یابی نہیں، کردار سازی تھا۔ وہ وقت کی پابندی، خودداری اور احساسِ ذمّے داری کو تعلیم کا لازمی حصّہ سمجھتے تھے۔

ہر روز صبح کی اسمبلی میں مختلف دینی و سماجی موضوعات پر کی جانے والی اُن کی مختصر، مگر پُراثر تقاریر آج بھی اُس دَور کے طلبہ کے ذہنوں میں نقش ہیں۔ اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی انتہائی ایمان داری اور خلوصِ دل سے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردینے اور مسلسل38سال تک تین نسلوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے بعد 25نومبر 1993ء کو ریٹائر ہوئے، تو اُن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے اسکول سے ملحقہ شاہ راہ اُن کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام ’’ملک نور زمان روڈ‘‘ رکھ دیا۔

ابّا جی، نماز روزے کے سخت پابند، انتہائی عبادت گزار تھے۔ 22مرتبہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ سچ کہوں تو اُن کی زندگی عبادت، خدمت اور عاجزی کا حسین امتزاج تھی۔ وہ بیواؤں، یتیموں اور نادار طلبہ کی خاموشی سے ہر ممکن مدد کرتے۔ بہت سے غریب بچّوں کی تعلیم، کتابوں اور یونی فارم کا بندوبست کرواتے اور اس بات کو یقینی بناتے کہ کوئی بچّہ وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔

آج اُن سے کسبِ فیض حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی کام یابیوں کا سہرا اپنے اس عظیم استاد کے سر باندھتے ہیں۔ وہ زندگی میں ایک کڑی آزمائش سے بھی گزرے، جب دسمبر 2017ء میں اُن کے بڑے صاحب زادے، ملک امیر محمد خان ایڈووکیٹ کا انتقال ہوا، مگر اس عظیم صدمے کو بھی انہوں نے صبر، ایمان اور وقار کے ساتھ برداشت کیا اور اپنے ہی دیے گئے سبق پر عملی مُہر ثبت کردی۔

واقعی، بڑے انسان اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ 17اپریل 2025ء کو 92برس کی عُمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ سفرِ آخرت پر روانہ ہونے سے قبل جمعے کی شب، جب کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے مجھے الوداعی نظروں سے دیکھا، تو مَیں تڑپ کر صرف ’’ابّا جی، ابّا جی‘‘ ہی پُکارتا رہ گیا، لیکن وہ ہم سب کو تنہا چھوڑ کر اپنی ابدی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کی آواز، اُن کی گفتگو، اُن کی شفقت، اُن کی تربیت، اُن کی دُعائیں اور اُن کے دیے ہوئے اصول آج بھی نہ صرف ہماری، بلکہ ہزاروں طلبہ کی زندگیوں میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ میرے ابّا جی، ملک نور زمان مرحوم کی کامل مغفرت فرما کر انھیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے منور کردے اور اُن کی خدمات کو اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنادے، آمین۔ (ملک شاہد محمود ، فتح جنگ)

سنڈے میگزین سے مزید