مولانا فضل الرحمٰن ہیں تو سکہ بند مولوی مگر محفل میں دنیا داروں کی طرح ایسی رنگارنگی پیدا کرتے ہیں کہ ہر بار ان سے ملنے کے بعد قریبی تعلق مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ آج کل کے سیاستدانوں میں روکھا پن دور سے ہی نظر آتا ہے مگر مولانا فضل الرحمٰن میں وہ خوئے دل نوازی موجود ہے جو نوابزادہ نصر اللہ خان، قاضی حسین احمد یا پھر نواب اکبر بگٹی و میر بلخ شیر مزاری کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ ماضی کی سیاسی محافل میں احترام، محبت اور وضعداری نمایاں ہوتی تھی اختلاف رائے کو نرمی اور دلیل و منطق سے بیان کیا جاتا تھا اور اگر رائے میں تضاد بھی ہوتا تو رویوں میں احترام اور رشتوں میں دراڑ نہیں آنے دی جاتی تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن گزشتہ دنوں لاہور آئے تو انہوں نے چند صحافیوں کو مدعو کر کے ماضی کی ان محافل کی یاد تازہ کر دی۔
مولانا فضل الرحمٰن سیاست کے بادشاہ کہلاتے ہیں انہیں بات کرنے کا فن آتا ہے۔ وہ اپنا مافی الضمیر منطق و دلیل کے ذریعے بیان کرتے ہیں مثالوں سے اپنے موقف کی حقانیت پر زور دیتے ہیں لہجہ نرم ہوتا ہے مگر اس میں سخت سے سخت گلہ اور شکوہ پیش کرنا خاص انہی کا ملکہ ہے وہ ہی ہیں جو طاقتور سے طاقتور کو کہہ سکتے ہیں کہ غصے سے خدا تعالیٰ نے پیغمبر السلامؐ کو منع کیا ہے اسلئے آپ بھی اس سے احتراز کیا کریں اور یقیناً طاقت والے نے بھی انکے مشورے سے اتفاق کیا ہوگا۔
مولانا سے گفتگو شروع ہوئی تو ہر کوئی افغانستان کے تازہ ترین حالات کے بارے میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا۔ ایک ہی موضوع پر کئی سوالوں کی بوچھاڑختم ہوئی تو مولانا نے مسکراتے ہوئے مدبرانہ لہجے میں کہا کہ فکر تو یہ ہے کہ پاکستان کی افغانستان، بھارت اور ایران تینوں کیساتھ سرحدیں بوجوہ بند ہیں اگر سرحدیں بند ہوں تو تجارت اور معیشت کو جھٹکا لگتا ہے جو لگ رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم دو طرفہ لڑائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مولانا نے افغانستان کے حوالے سے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ وہاں کی طالبان حکومت اب خود بھی انتہا پسند گروپوں سے بہت تنگ ہے اور وہ ان کیخلاف کارروائی کر رہی ہے۔ پاکستان کی شدید بمباری کے بعد افغان حکومت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستان کیلئے خطرہ بننے والے انتہا پسند خود اس کیلئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ مولانا نے اپنے آبائی اضلاع ڈیرہ اسماعیل بنوں اور لکی مروت کے بارے میں بتایا کہ وہاں انتہا پسندی عروج پر ہے ابھی چند روز پہلے ان نام نہاد طالبان نے پولیس کے ایس ایچ او کو گولیاں مار دیں۔ انہوں نے ریاست اور سیاست کے مخمصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پختونخوامیں تضادات سے پر پالیسی روبہ عمل ہے وہاں اب بھی گڈ اور بیڈ طالبان ہیں ریاست کے بعض ادارے گڈ طالبان کے نام پر مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک حاضر سروس باوردی افسر کو قتل کرنیوالے طالبان کو یہ کہہ کر چھڑا لیا گیا یہ تو اداروں کا اپنا آدمی ہے اسے رہا کر دیا جائے انکے خیال میں یہ دو عملی تباہ کن ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن صرف حجرے تک محدود سوچ کے مالک نہیں وہ بین الاقوامی اور خارجہ امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ کے حوالے سے وہ پاکستان کے غیر جانبدارانہ اور ثالثی کردار کے معترف تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف انہیں گاہے بگاہے اپنی حکومت کی کوششوں پر اعتماد میں بھی لیتے رہتے ہیں۔ مولانا بخوبی سمجھتے ہیں کہ ریاستی دبائو اور انتہا پسندی کا دبائو مختلف اور متضاد عنصر ہیں ریاستی دبائو پر مذاکرات ممکن ہیں انتہا پسندوں سے یہ بھی ممکن نہیں ہوتا بقول مولانا یہ کیسا جہاد ہے جو صرف پاکستان میں آکر ہی کیا جاتا ہے۔ افغانستان والے ہوں یا عرب والے، ISIS ہوں یا طالبان یا اور طرح طرح کی تنظیمیں ان سب نے پاکستان کو میدان جنگ کیوں بنایا ہوا ہے کافروں کیخلاف جا کر جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ مولانا کی تشویش دو پہلوئوں سے زیادہ تھی ایک تو انکا خیال تھا کہ فاٹا کے علاقے بغیر کسی تیاری کے صوبے میں شامل کر دیئے گئے پرانا نظام ختم کر دیا گیا اور نیا نظام بن نہیں سکا یوں آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ ہے ان علاقوں کا اب کوئی پرسان حال نہیں۔ انکی تشویش کا دوسرا بڑا پہلو دینی مدارس کی سرکاری رجسٹریشن کا ہے ۔ مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت کے مشورے اور مدارس کے تعاون سے جدید مضامین کو کورس میں شامل کر لیا گیا ۔کہا گیا تھا کہ اگر یہ ہو گیا تو یونیورسٹی کے برابر ڈگری ملے گی مگر ابھی تک ڈگری ملنا یا سرکاری طور پر ماننا تو کجا دینی مدارس کے بینک اکائونٹس تک نہیں کھل رہے ہر روز انتظامیہ نئے اعتراضات اٹھا دیتی ہے، نام نہاد تنظیموں کے مدارس کی رجسٹریشن جاری ہے اور بڑے مکاتب فکر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت اور مقتدرہ سے یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہی کوئی نہیں مگر یہ مسئلہ کئی سالوں کے بعد بھی حل ہونے میں نہیں آرہا۔
پاکستان کی اندرونی سیاست کے حوالے سے اب بھی 2024ء کے انتخابات کے بارے میں دھاندلی کا معاملہ انکے ذہن میں اٹکا ہوا ہے اور وہ شکوہ کناں ہیں کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں انکا مینڈیٹ چھین کر دوسروں کو دیدیا گیا انکے خیال میں صرف خیبر پختونخوا میں انہیں قومی اسمبلی کی 16 نشستوں پر نمایاں برتری حاصل تھی مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان سے یہ نشستیں چھین لی گئی۔ تحریک انصاف سے ممکنہ تعاون اور مشترکہ تحریک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم دونوں جماعتیں اپوزیشن میں ہیں دونوں کے سماجی روابط بہت خوشگوار ہیں۔ مستقبل میں اتحاد یا تحریک میں تعاون پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا ہر لیڈر دعویٰ کرتا ہے کہ عمران نے اسے پیغام دیا ہے کہ مجھ تک پہنچائے مگر ہر پیغام رساں کا پیغام مختلف اورمتضاد ہوتا ہے اسلئے کس پر یقین کریں اور کس پر نہیں؟
پاکستانی سیاست کو جاننے اور سمجھنے والے مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی شطرنج کا ماہر تو مانتے ہیں مگر بیشتر کو علم نہیں کہ مولانا اردگرد کے لوگوں کا شخصی تجزیہ بھی کمال مہارت سے کرتے ہیں ان کے تجزیے فوراً سمجھ نہیں آتے مگر وقت گزرنے کیساتھ جب وہ درست ثابت ہونے لگتے ہیں تو تب پتہ چلتا ہے کہ مولانا کس قدر غیر جذباتی اور سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے پر قادر ہیں ۔ مولانا نے صاحبان اقتدار کی نفسیات پر بتایا کہ وہ چاہے جس بھی پس منظر سے آئیں اقتدار میں آکر سب کی سوچ خود غرض اور اقتدار پرستی تک محدود ہو جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی پرانی اور روایتی سیاست کی چنگیر کی آخری چند روٹیاں یا نان ہیں جن کاذائقہ روایتی ہے اب نئی روٹیاں اور نئے نان جو سیاست کے نام پر مصنوعی آگ سے جلتے تندوروں پر بک رہے ہیں ان روٹیوں اور نانوں میں نہ کوئی مزہ ہے اور نہ انکی تاثیر ۔پرانی روٹیاں اور نان آج بھی مزہ دیتے ہیں کیونکہ ان میں صرف اناج نہیں ، ذاتی محبت و احترام اور روایت کا تڑکہ بھی ہوتا ہے یہی وجہ تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہر صحافی ملاقاتی نے انہیں آئندہ دورہ لاہور پر اپنے گھر ضیافت کی دعوت دی۔ مجیب الرحمٰن شامی ہوں، افتخار احمد ، حفیظ اللہ نیازی ، حبیب اکرم یا یہ ناچیز سب نے انہیں خلوص دل سے آئندہ مہمان بنانے کی پیشکش کی کہ ایسی محفلیں اب عنقا ہو چکیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تو نہیں لیکن تجزیے کے طور پر ہی کہا جا سکتا کہ ملک میں کسی فوری سیاسی تبدیلی کا امکان نہیں بیرونی دنیا کے حالات نے ایسے کسی بھی امکان کو دور دھکیل دیا ہے گویا جو ہے اسی پر فی الحال گزارہ کرنا ہو گا خوشی سے یا نا خوشی سے۔ مرضی آپ کی ہے…!