ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے خیر خواہ ہونے کا دم بھرتے ہیں، اس لیے جی تو نہیں چاہتا کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید جائے، لیکن سچ پر پردہ ڈالنا بھی معروضی حالات میں ممکن نہیں، جب سے وہ صدر بنے ہیں، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے تدبر کی تحسین ان کا واحد مثبت پوائنٹ ہے، لیکن عالمی امن کے لیے انہوں نے جو خطرات پیدا کردیے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وہ جنگوں کے خاتمے اور امن کو دوام دینے کا وعدہ کرکے امریکہ کے صدر بنے تھے۔ امن کے نوبل انعام کے لیے اپنا حق بھی جتا رہے تھے، مگر بین الاقوامی رائے عامہ، ذرائع ابلاغ اور دوسرے متعلقہ اداروں کی متفقہ رائے ہے کہ اس وقت دنیا کو تباہی کا اگر کوئی خطرہ لاحق ہے تو وہ انہی سے ہے، وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ کو عظیم تر بنانے کی بات کرتے تھے، مگر اب ان کے سارے فیصلے اسرائیل کو گریٹر بنانے کے حق میں ہیں، خود امریکی رائے عامہ اس وجہ سے ان کے خلاف ہوچکی ہے، صدر منتخب ہوتے وقت ان کی مقبولیت 51فیصد تھی جو اب کم ہوتے ہوئے 30فیصد رہ گئی ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے درست کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں۔ ان کے متضاد اور متصادم بیانات حیران کن اور عالمی اعتماد کو مجروح کرنے والے ہیں۔ میکرون نے ایران پر اسرائیل کی شہ پر حملے کو انسانی تاریخ کی بے مقصد جنگ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی تھی، مگر ایران اپنے بڑے رہنمائوں کی شہادتوں اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کے باوجود اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔ ایران میں رجیم چینج امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مقصد تھا، جو پورا نہیں ہوسکا۔ اس کے برخلاف امریکہ اور اسرائیل میں رجیم چینج کے امکان بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ امریکی اخبارات ٹرمپ کی خفگی کے باوجود ایسی تبدیلی کے حق میں واضح اشارہ دے رہے ہیں۔ فی الحال تو کانگریس میں ٹرمپ کو اکثریت حاصل ہے، مگر آگے چل کر ان کے مواخذے کی تحریک چل سکتی ہے جو ان کی رجیم کے لیے خطرناک ہوگی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے اربوں ڈالر کے امریکی اسلحہ کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں، ان میں آدھے سے زیادہ انتہائی مہنگے اسیٹلتھ، ٹومو ہاک اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز ان کے علاوہ ہیں۔ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے مزید فنڈ مانگے ہیں۔ یہ جو عارضی جنگ بندی کی گئی ہے اس کی وجہ بھی یہی لگتی ہے کہ امریکہ کے پاس جنگ کے لیے ہتھیار کم پڑ گئے ہیں، کیونکہ اسرائیل کو بھی جو جنگ بندی معاہدے کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اسلحہ اور مالی امداد دینا پڑتی ہے۔
امریکہ، ایران سے ہزاروں میل دور ہے۔ وہاں سے ایران پر میزائل حملے شاید نہیں ہوسکتے، اس لیے امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے عرب مسلمان ملکوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ ایران پر وہیں سے حملے کیے جارہے ہیں۔ ایران ان اڈوںپر جوابی حملے کرتا ہے تو مقامی انفرا سٹرکچر بھی ان کی زد میں آجاتا ہے۔ اسرائیل کی اصل منشا بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے مروائو تاکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔
کہنے کو تو یہی کہا جاتا ہے کہ جنگ سے امریکہ پر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ٹرمپ سمیت سب جانتے ہیں کہ ایران جنگ میں اب تک امریکہ کے 35 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوچکے ہیں۔ تیل کی قیمت میں 5فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ حصص کی منڈیاں خسارے کا شکار ہیں۔ مہنگائی عروج پر ہے اور عام امریکی معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ لیو نے امن کی بات کی تو ٹرمپ نے انہیں دھتکارا کہ تم میری وجہ سے پوپ بنے ہو، اس پر کیتھولک کے علاوہ پروٹسٹنٹ عیسائی بھی ٹرمپ کے خلاف ہم نوا ہوگئے۔ پوپ نے احتجاجاً امریکہ کے 250ویں یوم آزادی کی تقریبات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ 62فیصد عوام ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ اس کا اظہار واشنگٹن میں کیلیفورنیا کے ایک شخص کی اس تقریب میں فائرنگ سے بھی ہوا، جس میں ٹرمپ شریک تھے۔ یہ خیال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ کا اصل مقابلہ ایران سے نہیں، روس اور چین سے ہے اور امریکہ جنگ کے معاملے میں ان سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جس سے ہزاروں امریکی نقل مکانی کررہے ہیں۔ ایران جنگ میں اسلحہ اور وسائل جھونکنے کی وجہ سے کانگریس میں امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس کی مالیت81کھرب، 27ارب ڈالر ہے جو پچھلے بجٹ کے مقابلے میں42فیصد زیادہ ہے۔ ٹرمپ ایرانی بحریہ فضائیہ، بری فوج حتیٰ کہ خود ایران کو تباہ کرنے کے دعوے کررہے ہیں جبکہ خفیہ امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ ایران میں سب کچھ اپنی جگہ پر قائم ہے اور لوگ اپنی حکومت کے ساتھ ہیں۔ روزانہ سڑکوں پر حکومت کے حق میں اور امریکہ کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔
نیٹو ممالک نے بھی ایران جنگ کو بے معنی قرار دے کر امریکہ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ خود امریکی نوجوانوں کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی اسرائیل پالیسی کے خلاف ہوگئے ہیں۔ امریکی سرمایہ کار معیشت کی قیمت پر دفاعی اخراجات بڑھانے کی مذمت کررہے ہیں۔ امریکہ انسانی حقوق کا علمبردار بنا پھرتا تھا۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا نے اس دعوے کا پردہ چاک کیا ہے اور ہزاروں فلسطینیوں کےاسرائیل کے ہاتھوں قتل عام کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ امریکہ کو یہ تو فکر ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار بنالیے تو اسرائیل پر حملہ کردے گا مگر خود جو اسرائیل کوبے تحاشہ ایٹمی ہتھیار دے رہا ہے اور ڈھائی لاکھ فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کراچکا ہے وہ اسے یاد ہی نہیں آتے۔
دنیا اس وقت انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔ ٹرمپ، نیتن یاہو اور اپنی کابینہ کے انتہا پسندوں کے دبائو میں ایران کے خلاف جو کچھ کررہے ہیں اور کیوبا، اسپین اور دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضے کے لیے جو کچھ کرنے والے ہیں، اس کا سدباب کرنے کے لیے عالمی برادری کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، ورنہ بدمست ہاتھی دنیا کے پورے جنگل کو اجاڑ کر رکھ دے گا۔