• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو کیس میں قوانین کی خلاف ورزی ہوئی: طلال چوہدری

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو کیس میں قوانین کی خلاف ورزی ہوئی۔

 فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور ریاست ناجائز قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین کی خلاف ورزی کی، جبکہ 3 کمپنیوں نے اس جگہ کو ہوٹل بنانے کے لیے لیز حاصل کی تھی، امیر ہو یا غریب قانون سب کے لیے برابر ہے۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ 2005ء میں پلاٹ کی نیلامی ہوئی جس کی بنیاد پر بینک سے قرض لیا گیا، تاہم اقساط کی عدم ادائیگی پر متعلقہ گروپ دیوالیہ ہو گیا، معاملہ بعد ازاں نیب میں گیا جہاں کمرشل جائیدادیں دینے کا وعدہ کیا گیا، حالانکہ اس کا قانونی استحقاق موجود نہیں تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً 250 رہائشی اپارٹمنٹس لیز ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے، جبکہ کمپنی کے مالکان پر عوام سے فراڈ اور اداروں کو دھوکہ دینے کے الزامات بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے واضح کیا تھا کہ اس جگہ کو ہوٹل کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، 2014ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نوٹس لیا اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیس ای آئی اے کو بھیج دیا، بعد ازاں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی۔

طلال چوہدری کے مطابق 2016ء میں سی ڈی اے نے اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر لیز ایگریمنٹ منسوخ کر دیا، جبکہ 2017ء میں اطہر من اللہ کی عدالت نے بھی سی ڈی اے کے مؤقف کی توثیق کی۔

انہوں نے کہا کہ ون شاہراہ دستور کا قبضہ پہلے ہی سی ڈی اے کے پاس ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔

قومی خبریں سے مزید