• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! مہنگائی کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں اول درجہ آئل اور گھی کے نرخوں میں 13سے 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح مختلف بیکری آئٹمز کے نرخ بھی تاجروں، دکانداروں نے از خود بڑھا دیئے ہیں، بڑی بریڈ کی قیمت میں 16روپے اور چھوٹی بریڈ کی قیمت میں 10روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ رّس کے پیکٹ اور فروٹ کیک کے نرخوں میں بھی 20 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء کے نرخوں میں یہ اضافہ پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں حالیہ اضافہ کے بعد ہوا ہے نیز پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھائے جا چکے ہیں۔ یہ اضافہ بلا شبہ عام آدمی کے صبر، برداشت اور معاشی سکت کا امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔ گھی، کوکنگ آئل، بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایسے وقت کیا گیا جب عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور پانی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ مہنگی ہونے سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقہ توپہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے بارہا یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ جب بنیادی خوراک، ایندھن اور گھریلو استعمال کی اشیاء مسلسل مہنگی ہوں تو عام آدمی ان حکومتی دعوؤں پر بھلا کیسے یقین کر سکتا ہے۔بجٹ سے قبل مہنگائی کے مزید جھٹکے دینا کسی بھی فلاحی ریاست کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فلاحی ریاست کا تصور یہی ہے کہ حکومت شہریوں کو بنیادی سہولتیں مناسب نرخوں پر فراہم کرے، کمزور طبقات پر معاشی بوجھ کم کرنے کے اقدامات کرے۔ اگر اس کے برعکس ہر چند روز بعد نئی قیمتوں کا اعلان ہو رہا ہو اور شہریوں کی مشکلات بڑھتی جائیں تو اس سے یہی احساس اجاگر ہوتا ہے کہ عوامی فلاح حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔یہ صورتحال حکومتی گورننس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ جب قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی روکنے، ناجائز منافع خوری کے خاتمے اور یوٹیلیٹی سروسز کو منظم کرنے میں ناکامی دکھائی دے تو عوام کا سسٹم پرسے اعتماد متزلزل ہونا فطری امر ہے۔ کسی بھی حکومت کی اصل طاقت عوامی اعتماد ہوتا ہے، اور اگر یہی کمزور پڑ جائے تو اس سے حکومتی، ریاستی پالیسیوں کی قبولیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر نگرانی سخت کی جائے، بجلی، گیس، پانی کے نرخوں میں ممکنہ حد تک ریلیف دیا جائے۔

دوسری جانب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل اور درآمدی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ہماری حکومت نے جس طرح جنگ کو جواز بنا کر تیل مہنگا کیا ہے، یہ خطے میں سب سے زیادہ ہے، حالانکہ خطے کے دیگر ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ میں تیل و گیس کی درآمد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔

ہمارے پاس قدرت کی مہربانی سے کھاد اور گھر یلو صارفین کیلئے گیس مقامی طور پر موجود ہے، بلکہ قطر سے ایل این جی سپلائی معطل ہونے کے بعد اب کچھ گیس بجلی پلانٹس کو بھی دی جارہی ہے، نیز گیس کی پیداوار میں اضافے کی بھی بڑی گنجائش موجود ہے، جس کی تصدیق گیس پیداوار پر کام کرنے والی کمپنیاں کر چکی ہیں، اسی طرح ہم تقریباً 75 فیصد ڈیزل بھی مقامی طور پر تیار کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت نے خطے کے مقابلے میں پٹرولیم قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے، جسکی تصدیق عالمی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں کر دی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت کا گلا گھٹ رہا ہے، جو پہلے ہی گزشتہ 3چار برسوں سے بری حالت میں ہے، تیل سے ہر چیز کی قیمت جڑی ہوتی ہے، ڈیزل مہنگا ہونے کا مطلب ذرائع نقل و حمل مہنگا ہونا ہے اور اس کے اثرات چھوٹی سے لیکر بڑی ہر چیز پر پڑتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے معیشت کا گلا گھٹنےلگا ہے، تجارتی انجمنیں مزید فیکٹریاں بند ہونے کا انتباہ کر رہی ہیں، جبکہ لاگت میں اضافے سے کاروبار کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے، مہنگائی کی نئی شدید لہر عوام کا سانس بند کر رہی ہے، گزشتہ ایک ماہ میں ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ عوام کی آمدن مزید کم ہو رہی ہے، روزگار کے مواقع مزید محدود ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے وزیر پیٹرولیم پٹرول مزید 55 روپے لیٹرمہنگا کرنے کی نوید سناتے نظر آرہے ہیں۔سونے پہ سہاگااسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جسکے بعد مجموعی طور پر شرح سود ساڑھے 10 سے بڑھ کر ساڑھے 11 فیصد ہو گئی ہے۔ جس پر کاروباری تنظیموں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ملک میں تاجروں اور صنعتکاروں کی سب سے بڑی اور نمائندہ تنظیم ایف پی سی سی آئی نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے بھاری ٹیرف کے ساتھ ساتھ اس مانیٹری سختی سے کئی مینوفیکچررز ڈیفالٹ یا مکمل بندش کی طرف چلے جائیں گے۔ حکومتی معاشی فیصلوں سے عوام سے لیکر کاروباری برادری تک سب پریشان ہیں، حکومت کچھ تو احساس کرے اور عوام و کاروباری برادری کو ریلیف دینے کیلئے کام کرے، معیشت کا گلا مت گھونٹیں بلکہ معیشت اور عوام کو سانس لینے کا موقع دیں۔

تازہ ترین