افواہ اڑانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کاغذ کا جہاز اڑانا، سو آئے روز جھوٹی افواہیں اڑتی رہتی ہیں۔ ایک افواہ جو خوف پیدا کرنے کیلئے اڑائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جلد ہی سیاسی اور آئینی نظام کو لپیٹ کر پاکستان میں مارشل لا لگادیا جائیگا۔ فوج کے سربراہ، صدر پاکستان بن جائیں گے وہ باوردی صدر ہونگے اور ملک کا نظم ونسق تبھی ٹھیک ہوگا جب جمہوری تکلف اور اسکے ساتھ جڑی خرابیوں سے جان چھڑائی جائےگی۔ اس حوالے سے چین، سنگاپور اور مصر کی مثالیں دی جاتی ہیں جہاں تیز ترین ترقی ہوئی اور شفاف نظام قائم ہے مگر وہاں پاکستان کی طرح کی جمہوریت نہیں ہے۔ اسلام آباد کے حلقوں میںا کثر یہ افواہ اُڑتی ہے کہ ہائبرڈ کے مصنوعی نظام کی ضرورت ہی کیا ہے اس ملک کی اصل طاقت توفوج ہے اسے کھل کرسامنے آنا چاہئے اور خود ملک کے نظم ونسق کو چلاناچاہیے، بجائے بالواسطہ حکمرانی کے براہ راست حکمرانی ہونی چاہیے، یہی وہ دلیل تھی جسکی بِنا پر ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا نافذ کرکے سیاسی نظام اور ملک کے ریاستی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ اور کئی برسوں پر محیط کوششیں کیں۔ ماضی کی یہ تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوئیںمارشل لا کے نفاذ کے وقت جو اہداف مقرر کئے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ ہوا اور چاروں مارشل لا بالآخر پھر سے جمہوریت کے اجرا پر منتج ہوئے۔ مارشل لا کے ہر تجربے سے پہلے کہا گیا کہ ماضی کے مارشل لا میں دراصل یہ غلطی ہوگئی تھی اب اس غلطی کی اصلاح کرلی گئی ہے، اب کی بار مارشل لا واقعی ملک کی سمت درست کردے گا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا نکلتا ہے ۔ یقیناً اس بار بھی اقتدار کے اونچے ایوانوں میں اس موضوع پر گفتگو ہوئی ہوگی اور اس حوالے سے مختلف ترجیحات پر غور کیا گیا ہوگا۔ یہ تو علم نہیں کہ کیا بحث ہوئی اور کس نے کیا کہا مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے مارشل لا کے نفاذ کی سنجیدہ اور بھرپور حمایت نظر نہیں آرہی اور عمومی اتفاق رائے یہی ہے کہ آئین کے اندر رہ کر ہی ملک کو چلانا ہے، یہ بات یقیناً خوش آئند ہے۔
آئین ریاست کا برقع ہے برقع اڑ جائے تو ریاست عریاں ہوجاتی ہے پھر ہر کسی کو اسکی طاقت کے اصل مراکز کا پتہ چل جاتا ہے اور پھر اغیار کیلئے اچھا موقع ہوتا ہے کہ وہ ریاست کی کمزور جگہوں پر اسے نشانہ بنائیں بظاہر یہ لگتا ہے کہ موجودہ نظام نے جمہوری اور آئینی لبادہ نہ اتارنے پر اتفاق کررکھا ہے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایک نیو کلیئر ریاست جمہوری پردے اور آئینی برقع میں ہی ملبوس رہے تاکہ اس کے نیو کلیئر اثاثے بحفاظت چھپے ہوئے اور محفوظ رہیں۔
برقع ویسے تو ترکی کی ایجاد ہے مگر پردے کیلئے یہ انتہائی کارگر طریقہ ثابت ہوا ہے مسلمان تو مسلمان کافروں نے بھی کچھ چھپانا ہوتو برقع کام آسکتا ہے۔ حسن بے نقاب ہوتو اسکی تاب لانا مشکل ہوتا ہے ۔ مارشل لا میں فوج، حکومت اور ریاست کا چہرہ اور جسم دونوں بن جاتی ہے آج کی دنیا میں مارشل لا والی ریاست اور حکومت پر تنقید کرنا اور نشانہ بنانا نسبتاً آسان ہے مثلاً دولت مشترکہ اور یورپین یونین نے تو یہ واضح اصول وضع کر رکھا ہے کہ جس ملک میں بھی مارشل لا کا نفاذ ہوگا۔ اس سے انکے تعلقات ختم ہوجائیں گے اور اس ملک کی ان اداروں میں رکنیت معطل ہوجائے گی۔جمہوری سے غیر جمہوری ہونے کے سفر کی عالمی مشکلات کو اب ہر کوئی جانتا ہے لیکن قانونی اور آئینی مشکلات بھی شروع سے ہیں 1958ء میں جنرل ایوب خان نے جو پہلا مارشل لا لگایا اسکے لئے لازماً سپریم کورٹ کے ججوں سے مشورہ لیا گیا ہوگا اس لئے تو جسٹس منیر نے مارشل لا کو جائز قرار دیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا تو ابھی کل کی بات ہے جنرل مشرف کے مارشل لا کے واقعات بھی ہمارے سامنے کے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کو قانونی، آئینی اور بین الاقوامی مشکلات کا احساس تھا اس لئے وہ ’’ اے کے بروہی،شریف الدین پیر زادہ اور عزیز منشی کو بروئے کار لائے اور راستہ یہ نکالا گیا کہ جمہوری آئین1973ء، منسوخ نہیں ہوگا بلکہ معطل ہوگا شریف الدین پیر زادہ المعروف جدہ کے جادوگر آئین میں کچھ ویلڈنگ کرکے جمہوری اور غیر جمہوری کا ایک ہائبرڈ بنادیا کرتے تھے تاکہ نظام چلتا رہے صدر ضیاءالحق وردی سمیت صدر رہے وہی روایت جنرل مشرف نے بھی اپنائی اور وہ بھی وردی سمیت سویلین عہدے پر صدر رہے بظاہر تاثر نیم جمہوری نظام کا تھا مگر تاریخ میں ان دونوں ادوار کو آمرانہ ہی کہاگیا۔اب کوئی حافظ آباد کا جادوگر بروئےکار ہےیاکوئی اور غیر جمہوری بزرجمہر جو کوئی بھی ہے اس نے حکومت کو مشورہ یہی دیا ہے آئین میں پیرزادہ کی طرح ویلڈنگ نہ کی جائے کیونکہ اس سےبرقع اتر جاتا ہے اس مشیر نے قائل کرلیا ہے کہ جمہوری لبادہ انتہائی ضروری ہے اس عمروعیار کا فارمولا یہ ہے کہ اقتدار واختیار لینے کیلئے جمہوری لبادہ اتارنا ضروری نہیں اس جمہوری پیراہن کے اندر ہی اندر جو ممکن ہوسکتا ہے وہ کرلیا جائے تو نظام مضبوط رہے گا، اگر ماضی کی طرح جنرل ضیاء اور جنرل مشرف والا مارشل لا آیا توجو عالمی فضا اسوقت پاکستان کے حق میں ہے وہ اس کے خلاف بھی جاسکتی ہے۔
غرضیکہ آج تک کی صورتحال یہی ہے کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے جمہوری میک اپ خراب ہوجائے کل کو کیا ہوجائے گا اس بارے میں حتمی طور پرکچھ کہنا اور پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کیونکہ کل کو کوئی نیا واقعہ یا حادثہ پیش آئے گا تو سوچ اور منصوبہ بندی مکمل طور پر بدل بھی سکتی ہے ۔یاد رہے کہ جنرل مشرف کو بھی چیف ایگزیکٹو بنایا گیاتھا نام جوبھی دیا جائے سیاسی اور سول حکومت کو مکمل فارغ کردیاجائے توپھر فیصلے مشترکہ نہیں یکطرفہ ہونےشروع ہوجاتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم اِندر کمار گجرال نے اس عاجز کے ساتھ انٹرویو میں ایک منفرد تاریخی حقیقت بیان کی تھی کہ دوجمہوری ممالک میں آج تک ایک بھی جنگ نہیں ہوئی اور اگر لڑائی ہوبھی جائے تو جمہوری ادارے اسے لمبا نہیں ہونے دیتے۔تیسری دنیا اور دوسری دنیا میں جمہوریت کے خلاف دلائل کا انبار بھی لگا دیا جائے تو سوسال سے جمہوری ثمرات حاصل کرنے والے ممالک کو دلائل سے کہیں زیادہ اپنے تجربات پر زیادہ انحصار ہوگا۔ بجائے اس کے کہ ہم غیر جمہوری ممالک کی طرح اپنے مخصوص حالات کا بیانیہ بناکر جمہوریت کا بستر گول کرنےکیلئے بہانہ تراشی کریں بہتر یہ ہوگا کہ آئین اور جمہوریت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اسٹیبلشمنٹ اور دفاع کی طاقت کو اپنے برقع کے نیچے چھپائے رکھیں، سیاسی اور آئینی حکومتیں کمزور بھی ہوں نااہل بھی ہوں تو وہ غیر جمہوری حکومتوں سے کہیں بہتر ہوتی ہیں ۔عاجز تو یہی عرض کرسکتا ہے کہ برقع نہ اتارو…!!