• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر چالس ڈاروِن کےنظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) کو درست مان لیا جائے تو ڈارون کے اصولوں کے مطابق نسلِ انسانی کو اپنی بقا کیلئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑیگی۔ آج کا انسان ہزاروں مشکلات، بیماریوں، جنگوں، بھوک اور حتٰی کہ عظیم الجثہ و ہیبت ناک جنگلی جانوروں کا مقابلہ کرکے آج کی سائنسی اور مصنوعی ذہانت کی دنیا تک پہنچا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر دور کے کامیاب انسانوںاور کامیاب قوموں نے ’’وقت کی ضرورت کیا ہے؟‘‘ کے سوال کو سمجھ کر اس پر عمل کرنےکی جان توڑ کوشش کی ہے۔

آج کی دنیا میں مادی ترقی کی دوڑ ہے ،ہم خواہی نخواہی اس دوڑ کا حصّہ ہیں۔ اخلاقیات، محبت، امن اورمعاشرتی روایات، معاشروں کے تا دیر امن اور قیام کے بعد پیدا ہونیوالی خوبیاں ہیں وگرنہ کئی تجربات میں ثابت ہوچکا ہے انسانی جبلّت میں آج بھی وحشی پن، نفرت اور ایک دوسرے پر برتری کا جذبہ موجود ہے۔ اس مبارزت میں اخلاق، محبت یا دردِ دل کی کوئی خوبیاں رکاوٹ نہیں ڈالتیں۔ بار بار کی جنگیں اور انسانوں کی نفرت، اسی انسانی جبلّت کا خطرناک اور تاریک پہلو ہیں جن سے پہلو تہی کئے بغیر ہم وقت کی ضرورت کو نہیں سمجھ سکتے۔ جب سے یہ دنیا بنی ہے یہاں طاقت اور وہ بھی اندھی طاقت کی ہی حکمرانی رہی ہے، کبھی جسمانی طاقت سب کچھ تھی اندھی طاقت کیساتھ پھر ذہنی طاقت یعنی ذہانت کا زور بڑھنے لگا۔

سکندر اعظم نے دنیا صرف اسلئے فتح نہیں کی تھی کہ اسکے فوجی طاقتور اور بہادر تھے بلکہ وہ ہر جنگ ذہانت اور چالاکی سے لڑتا تھا اور ہر لڑائی میں کوئی نہ کوئی نئی تکنیک اختیار کرتا تھا جس سے دشمن آسانی سے چت ہوجاتا تھا۔ صرف سکندر اعظم ہی کیا دنیا میں تقریباً ہر جگہ کی یہی کہانی ہے۔ افغانستان میں مجاہدین کی روس سے جنگ شروع ہوئی تو روس جہازوں سے بمباری کرتا تھا اپنے سپاہیوں کا نقصان کئے بغیر روسی سپاہی افغانوں کا شدید نقصان کردیتے تھے۔ امریکہ نے مجاہدین کو کندھے پر رکھ کر چلانے والا اسٹنگر میزائل دیکر جنگ کا پانسہ پلٹ دیا، ایک غیر تربیت یافتہ مجاہد بھی اپنے کندھے پر ایک اسٹنگر رکھ کر مارتا جو روسی جہاز کے پرخچے اڑا کر رکھ دیتا۔ روسی جہاز ایک ایک کرکے گرنا شروع ہوگئے تو اس بھاری نقصان کے بعد روس نے جہاز بھیجنا ہی بند کردیئے اور یوں فضاؤں سے مجاہدین کو جو خطرہ تھا وہ سرے سے ختم ہوگیا۔ باقی کہانی جو بھی ہے مگر اسٹنگر میزائل نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔

افغان جہاد دوئم میں امریکہ نے نائن الیون کے بعد طالبان رجیم کو ختم کیا تو اس بار مجاہدین جارح کی بجائے مزاحمتی پالیسی اختیار کرگئے اور دُور پہاڑوں کی محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ گئے۔ وہاں امریکی یا پاکستانی کسی بھی فوج کے نہ جہاز پہنچ سکتے تھے اور نہ فوجی دستے۔ ایسے میں امریکہ نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا اور پھر القاعدہ اور طالبان کے رہنما پہاڑوں میں چھپنے کے باوجود ایک ایک کرکے مارے جانے لگے۔ اسامہ بن لادن ایک خصوصی آپریشن کا نشانہ بنے وگرنہ سبھی نامور جہادیوں کو ڈرون نے ڈھونڈڈھونڈ کر مارا۔ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کے پروگرام تیار کرکے غزہ اور لبنان میں بڑے بڑے مجاہدین کو شہید کیا۔ ایران کے اندر امریکہ نے جسے چاہا اسے نشانہ بنایا کیونکہ ٹیکنالوجی، طاقت اور ذہانت کا ایک نیا ہتھیار ہے جس سےدشمن کو باآسانی زیر کیا جاسکتا ہے۔

مسلم اُمّہ وقت کی ضرورت کو سمجھنے سے قاصر ہے، آپس کی لڑائیوں اور ناسمجھی نے اسے کمزور بنانے اور مستقبل کو نہ پڑھ سکنے کے ویژن سے محروم کر رکھاہے۔ فی الحال مغربی دنیا سے لڑنے یا مقابلہ کرنیکا وقت نہیں اور نہ ہی اسکی ضرورت ہے انسانی ترقی صرف کسی ایک ملک کی نہیں یہ انسان کی مجموعی ترقی ہے مغرب کی ترقی طاقت اور ٹیکنالوجی سے لڑائی فضول ہے اس میں شکست ہونی ہی ہوتی ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام ،غزہ اور لبنان میں یہ ہوچکا اور ایران کیخلاف یہ ہورہا ہے۔ مسلم اُمہ کو لڑائیوں، جنگوں اور مخاصمت کی پالیسیوں کی بجائے علم اور ٹیکنالوجی کو سیکھنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہی آج کی ضرورت ہے۔ جنگ، دفاع اور جہاد سے غفلت کیے بغیر علم اور ٹیکنالوجی کا حصول مسلم دنیا کو طاقت اور ذہانت کے دائرے میں نمایاں مقام دلاسکتا ہے۔

ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام میں کرشماتی طور پر تعلیم کا اہم ترین کردار ہے۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیامِ میں ان چار شخصیات کا کردار نمایاں ترین ہے قائدِ اعظم محمد علی جناح، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرواور علّامہ محمد اقبال۔ؒ چاروں کی خاص بات ولایت سے تعلیم تھی۔ یہ چاروں ولایت نہ جاتے اور دلائل سے مسلح ہوکر جنگ نہ لڑتے تو پتہ نہیں کب ہندوستان آزاد ہوتا اور کب پاکستان بنتا۔ اور تو اور پاکستان کا قیام تو تعلیم کے ساتھ سو فیصد منسلک ہے قیام پاکستان کی تحریک کا آغاز ہی سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوتا ہے، اسی یونیورسٹی نے تحریک پاکستان کی ساری قیادت تیار کی اور پھر اسی یونیورسٹی نے اسلامیانِ ہند کا رخ متعین کیا۔ پاکستان کو چلانے میں بھی علی گڑھ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا اہم ترین کردار رہا ۔گویا تعلیم نے نہ صرف پاکستان بنایا بلکہ اس کو چلانےمیں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ وقت کی ضرورت کو سمجھنے کیلئے بیسویں اور اکیسویں صدی کے مغربی دنیا اور مسلم دنیا کے واقعات کو دوہرانا ضروری ہے، پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ،ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی اس لئے پہلی جنگ عظیم میں ہندوستانی اور پنجابی سپاہیوں نے اس جنگ کو جیتنےمیں انگریزوں کا ساتھ دیا،لڑائی کے نتیجے میںعرب و حجاز نے ترکی سےعلیحدگی اختیار کر کے آزادی حاصل کر لی جس کیلئے عرب برطانیہ اور مغربی ممالک کے احسان مند تھے کہ انہوں نے ان کو ترکوں سے آزادی دلائی ۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی ہندوستان اور بالخصوص پنجاب نے انگریزوں کا ساتھ دیا، 50 ہزار پنجابی جانیں قربان ہوئیں تب جاکر برطانیہ کو فتح نصیب ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کہیں خوشی سے اور کہیں مجبوری سے مسلم دنیا کے 57نو آزاد اور خود مختار ممالک کا ظہور ہوا ۔تاہم ان 57ممالک میں سےکسی ایک نے بھی تادم تحریر کوئی سائنسی دریافت، کوئی نئی ٹیکنالوجی یا کوئی نیا بین الاقوامی نظریہ یا تھیوری پیش نہیں کی۔ دھیان رہے کہ جنگ اور تصادم کا راستہ اختیار کرکے 8 مسلمان ملک آزاد خود مختاری اور اپنا دفاع کھوچکے ہیں فی الحال جو بھی اس راہ پر چلے گا اس کا حال ایسا ہی ہو گا ۔ ابھی لڑائی کا نہ وقت ہے نہ امید کی کوئی وجہ۔ ابھی تو مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں ہے ایسے میں لڑنا صرف اور صرف خود کشی ہے باقی ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگلا دور جنگوں کا نہیں معاشی ، تکنیکی اور عملی مقابلوں کا ہے جس طرح زمینی جنگ کا دور ختم ہوکر فضائی جنگ کا دور شروع ہو چکا ہے۔ اسی طرح اب ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے علوم وقت کی ضرورت ہیں۔ انسانوں کو مارنے ،تباہ کرنےسے نکل کر ایک دوسرے کو تقویت اور ترقی دینے پرتوجہ دینا ہوگی۔

تازہ ترین