یہ معاملہ بہت عجیب ہے اور اس میں کوئی ایک بھی غریب نہیں ہے ۔ سب امیر لوگ ہیں ۔ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پرایک فائیو اسٹارہوٹل کے سامنے ایک بلند و بالا رہائشی عمارت کا مالک عرصہ دراز سے پاکستان کے آئین وقانون کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ موصوف نے بہت سال پہلے یہاں ایک فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کیلئے جگہ لی لیکن کچھ عرصے کے بعد قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہاںایک رہائشی عمارت بنا ڈالی جسکے اپارٹمنٹ انتہائی مہنگے داموں فروخت کر دیئے گئے۔ اپنے غیرقانونی منصوبے کو تحفظ دینے کیلئے ان صاحب نے کچھ طاقتور لوگوں کو انتہائی سستے داموں اپارٹمنٹ دیئے ۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے قرض لیکر ان مہنگے اپارٹمنٹس کی قیمت ادا کی ۔اس غیر قانونی منصوبے کو سی ڈی اے عدالت میں لے گئی لیکن اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس منصوبے کو جائز قرار دیدیا۔سی ڈی اے نے ہمت نہیں ہاری ۔ سی ڈی اے کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر یہاں سرنڈر کر دیا گیا تو پھر سی ڈی اے عام لوگوں کی تعمیر کردہ ناجائز تجاوزات کیخلاف کا رروائی کا اخلاقی جواز کھودے گی ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ دو مافیاز کی لڑائی بن گئی ۔ ایک مافیا سی ڈی اے کے اندر ہے ۔ یہ مافیا بہت سے دیگر مافیاز کی سہولت کاری کرتا ہے ۔ لینڈ مافیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے ہی اسلام آباد کے جنگلات اور پہاڑ کاٹ کر یہاں ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کرتا ہے ۔ اگر کوئی سرکاری افسر اس ملی بھگت کا حصہ نہیں بنتا تو اُسکا ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔ میں سی ڈی اے کے ایک سابق چیئرمین کو جانتا ہوں ۔ اُسے ایک ناجائز طور پر تعمیر کی گئی عمارت کیخلاف آپریشن سے روکنے کیلئے ایک ارب روپے کی رشوت پیش کی گئی جو اُس نے ٹھکرا دی۔ شاہراہ دستور پر قائم متنازعہ عمارت کے معاملے پر وطن عزیز کے طاقتور لوگوں کے مفادات ایسے ٹکرائے کہ یہ آمنے سامنے آچکے ہیں۔ وفاقی کابینہ اس معاملے پر تقسیم ہو چکی ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گرینڈ حیات نامی عمارت میں رہنے والے بااثر افراد کا تعلق تمام اہم سیاسی جماعتوں سے ہے ۔ ان میں کئی ریٹائرڈ سرکاری افسران اور سفارتکار بھی شامل ہیں ۔ لیکن یہ کوئی واحد عمارت تو نہیں جو قانون کے خلاف تعمیر کی گئی ہے۔اسلام آباد کے ریڈ زون اور بلیو ایریا میں بہت سی دیگر ناجائزتعمیرات بھی ہیں ۔ان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر واقع گرینڈ حیات کیخلاف آپریشن روک کر ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس عمارت میں رہنے والوں سے ہمدردی ہے کیونکہ انہوں نے تو باقاعدہ رقم ادا کر کے اپارٹمنٹ خریدے۔ اگر قصور ہے تو ان صاحب کا ہے جو جنرل پرویز مشرف کے دور سے لیکر آج تک ہر حکومت کو اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں ۔ یہ صاحب اعلیٰ عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلے بھی لے لیتے ہیں اور سی ڈی اے کا آپریشن بھی رکوا لیتے ہیں لیکن اس عمارت سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر نور پور شاہاں کا علاقہ ہے ۔ یہاں بری امام المعروف حضرت عبد اللطیف بری سرکارؒ کا مزار ہے ۔ اس مزار کے آس پاس صدیوں پرانی بستیاں ہیں جن میں نور پور شاہاں کا علاقہ بھی ہے ۔ نور پور شاہاں کی زمین پر قائد اعظم یونیورسٹی قائم تھی ۔ قریب ہی ایک اور پرانی بستی مل پور آباد ہے ۔ اس بستی کے قبرستانوں میں کئی سو برس پرانی قبریں موجود ہیں۔ سی ڈی اے نے نور پور شاہاں اور مل پور میں کئی ماہ سے ایک آپریشن شروع کر رکھا ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل کے تعمیر کردہ سینکڑوں نہیں ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں۔ جب سے وزیر اعظم نے گرینڈ حیات کیخلاف آپریشن رکوایا ہے تو نور پور شاہاں اور مل پور کے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے ؟ ہمارے پاس تو قانونی کاغذ بھی ہیں اور عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں ۔ ہماری دفعہ تو کسی نے کوئی انکوائری کمیٹی نہیں بنائی ۔ کیا ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ غریب ہیں ؟ میری ناچیز رائے میں یہ امیر اور غریب کا مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ قانون کی بالادستی کا مسئلہ ہے ۔ سی ڈی اے نے نور پور شاہاں اور مل پور میں جو آپریشن شروع کیا وہ ناجائز تھا ۔ اس آپریشن میں ایسے گھر بھی مسمار کئے گئے جنکے مالکان کے پاس قانونی کاغذات موجود تھے ۔ سی ڈی اے نے صرف رہائشی مکانات مسمار نہیں کئے بلکہ کچھ علاقوں میں لا تعداد درخت بھی کاٹ ڈالے ۔ مل پور وہ جگہ ہے جسے سی ڈی اے خود ایک ماڈل ویلیج قرار دے چکا ہے ۔ مل پور وہ مقام ہے جسے محفوظ بنانا حکومت پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے کیونکہ یہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے 1944 ء میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت اس خوبصورت جگہ کے پہاڑوں کے دامن میں قائم کیا جائیگا ۔ اسلام آباد کی تاریخ کے بارے میں مولانا اسماعیل ذبیح نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں لکھا ہے کہ 26 جولائی 1944ء کو قائداعظم سرینگر سے راولپنڈی آ رہے تھے ۔ مل پور کے قریب اُنہوں نے اپنی گاڑی روکی اور سڑک کے کنارے ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر اپنے دائیں طرف واقع پہاڑوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہاں پاکستان کا دارالحکومت قائم ہوگا ۔ اس موقع پر محترمہ فاطمہ جناح سڑک کنارے واقع ایک گھر کے اندر چلی گئیں اور عورتوں کے پاس بیٹھی رہیں ۔ یہ گھر آج بھی موجود ہے ۔ اس گھر کے بزرگ مالک راجہ کمال کیانی نے اُس درخت کو ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے جس کی چھاؤں میں قائد اعظم نے چوہدری غلام عباس کو کہا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت یہاں بنے گا ۔ راجہ کمال کیانی سمیت مل پور کے دیگر رہائشیوں کو سی ڈی اے نے اپنی جگہ خالی کرنے کا نوٹس دے رکھا ہے کیونکہ اس علاقے سے پنجاب حکومت نے راولپنڈی سے مری تک ایک ٹرین گزارنی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے میں مل پور گیا اور راجہ کمال کیانی کے گھر کے باہر محفوظ کئے گئے اُس پرانے درخت کو بھی دیکھا جو سی ڈی اے کے کسی بلڈوزر کا انتظار کر رہا ہے۔ ذرا سوچیے ! وہ گھر جس نے قائد اعظم اور فاطمہ جناح کی میزبانی کی اور جس گھر کے دروازے پر لگے درخت کی چھاؤں میں قائداعظم بیٹھے رہے وہ گھر ہمارا قومی ورثہ ہے یا نہیں؟ اس گھر اور مل پور کو مسمار کرنے کیلئے نوٹس جاری کرنا قومی جرم ہے یا نہیں ؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے شاہراہ دستور پر قائم ایک متنازعہ عمارت کیخلاف آپریشن تو رکوا دیا لیکن کیا وہ مل پور کے رہائشیوں کو دیئے گئے نوٹسز کی بھی انکوائری کروائیں گے ؟ یہ بھی پتہ کریں کہ نور پور شاہاں اور مل پور کے قدیم اور تاریخی علاقوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر وہاں کون سی ہاؤسنگ اسکیم شروع کی جائیگی ؟ اگر گرینڈ حیات کے رہائشی بڑے مظلوم ہیں تو انہیں ریلیف ضرور دیں لیکن کیا نور پور شاہاں اور مل پور کے رہائشی پاکستانی نہیں ؟ یہ صرف اسلام آباد کی نہیں پاکستان کے ہر بڑے شہر کی کہانی ہے جہاں قانون امیر کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے ۔ ایک پاکستان میں دو قانون چلائیں گے تو ایک دن آپکے لئے بھی دو قانون بنیں گے ۔ اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس لاٹھی سے بچئے۔