• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

کمال شخصیت، مجسّم حُسن، سراپا محبّت

’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیراحمد خلیلی نے یمن پر اچھا مضمون تحریرکیا۔ اب جو حالات یمن کے ہیں، پڑھ کر دُکھ ہی ہوتا ہے کہ بچپن میں تو ہم یمن کے بادشاہوں کی کہانیاں بصد شوق پڑھا کرتے تھے اور اب کیا حالات ہوگئے ہیں۔ رؤف ظفر کی ’’رپورٹ‘‘ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، کیا خُوب لکھا، ’’ایک کمرے کی فیکٹری‘‘۔ 

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا موجود تھے، جو ہمیشہ سے پسندیدہ ترین تجزیہ نگار ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں اختر سعیدی اپنی لمبی چوڑی نظم کے ساتھ آئے، ساتھ ہی نئی کتابوں پرتبصرے بھی فرمائے۔ آبائی شہر شکارپور سےشری مُرلی چند کافی عرصے بعد تشریف لائے۔

اگلے جریدے کے پہلے ہی صفحے پر مفتی خالد محمود کا سیرحاصل مضمون پڑھا۔ ڈاکٹر محمد ریاض علیمی اور رانا اعجاز حسین چوہان کے رمضان المبارک سے معلق مضامین اچھے تھے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے ایران کی بدلتی صورتِ حال پر روشنی ڈالی۔ نیا سلسلہ ’’احسنِ تقویم‘‘ بےحد پسند آیا۔ ہمارا تو پہلی مرتبہ رحمان فارس سے تعارف ہوا، واہ! کیا کمال شخصیت ہیں۔ مجسّم حُسن سراپا محبت۔ نئی کتابوں میں منور راجپوت کا ادبی ڈائجسٹ پر تبصرہ اچھا لگا اور ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی تیسری قسط بھی اچھی رہی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: جی بالکل، ایسا ہی ہے۔ رحمان فارس کو جانا، تو یہ جانا کہ سراپا علم و ادب، مجسّم عجز و انکسار ہیں اور شاید اِسی لیے اللہ نے اُنہیں ہر اعتبار سے خُوب ہی نوازا ہے۔

خاصی درگت بنائی گئی

’’حالات و واقعات‘‘ میں منورمرزا نے ایران کے بحران پر سیر حاصل تجزیہ پیش کیا۔ منیر احمد خلیلی نے قدیم سلطنت، عمان سے متعلق شان دار معلومات فراہم کیں۔ رفیع اللہ مندوخیل پولیو وائرس کےحوالے سے معلوماتی مضمون لائے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال صحت وصفائی کےاصولوں سے آگاہ کر رہے تھے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’آسیہ‘‘ کی آخری قسط پیش کی گئی۔ ’’پیارا وطن‘‘ میں ملک عصمت اللہ نے میاں والی اور رانا محمّد شاہد نے بورے والا کا احوال رقم کیا۔

سیّد ثقلین نقوی نے ایک ہول ناک واقعے کی رُلا دینے والی رُوداد پیش کی۔ اختر شاہ عارف کا افسانہ اچھا تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ بے کار لگا کہ اِس میں میری خاصی درگت بنائی گئی۔ اگلے شمارے کے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی نے شبِ برات کے فضائل تفصیلاً بیان کیے۔

حافظ بلال بشیر یومِ یک جہتیٔ کشمیر پر مضمون لائے۔ منور راجپوت نے سانحۂ گل پلازا سے متعلق دل خراش رپورٹ پیش کی۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے انور مسعود کا تعارف بہت دل چسپ انداز میں پیش کیا۔

منور مرزا کی دنیا کے حالات پر کڑی نظر تھی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی پہلی قسط پڑھی۔ آگے دیکھیے، کیا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے تعلیمی بحران پر روشنی ڈالی، تو ڈاکٹر فوزان عالم ہاشمی ہوائی فائرنگ کے نتائج سے آگاہ کر رہے تھے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں میرا خط شامل نہیں تھا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: درگت بنانے والی باتوں سے احتراز کریں، ہرگز نہیں بنے گی کہ ناحق بنانے کا قطعاً کوئی اشتیاق نہیں۔

سیلف میڈی کیشن کا رجحان

ماڈل کے پیچھے کا منظر بہار کے آنے کی نوید جیسا تھا۔ افشاں نوید نے ’’اعجازِ قرآن مجید‘‘ پرحوالہ جات کے ساتھ خُوب صُورت مضمون تحریرکیا۔ منیر احمد خلیلی بھی اپنے مخصوص موضوع پر خُوب تحریر لائے۔ یمن کو عالمی ساشوں کا گڑھ کہتے ہوئے انہوں نے اِس کی وجوہ بھی عُمدہ پیرائےمیں بیان کیں۔ رؤف ظفر ادویہ کے بےدریغ استعمال پرلکھ رہے تھے۔ کبھی ہمارے بزرگ شدید بخار پر بھی دوا نہیں لیتے تھے، جب کہ ہم نزلہ، زکام یا پر بھی اسپتال جارہے ہوتے ہیں، پھر سیلف میڈی کیشن کا رجحان بھی بہت بڑھ گیا ہے۔

رستم علی خان کا موضوع ’’اربوں کی خیرات اور بڑھتی ہوئی گداگری‘‘ ہمارے نظام پر سوالیہ نشان ہے کہ اس قدر خیرات، امداد کے باوجود بھی گداگری بڑھ رہی ہے، تو اصل مرض تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔’’احسنِ تقویم‘‘ بہترین سلسلہ ہے۔ یوں ہمیں نادرِ روزگار شخصیات کے خاکے پڑھنے کو ملیں گے۔ گزشتہ ہفتے انور مسعود اور اس ہفتے افتخار عارف کا خاکہ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ زیادہ شخصیات علم وادب ہی سے وابستہ ہوں گی کہ لکھاری کا اپنا تعلق بھی اِسی شعبے سے ہے۔

ویسے قلم سے نکلے دونوں خاکے انتہائی دل چسپ واقعات سے بھرپور تھے۔ ذیابطیس اور صحتِ دندان پر مضامین دل چسپی سے پڑھے۔ ’’پیارا گھر‘‘ کی تینوں تحریریں بھی اچھی تھیں، خصوصاً ثروت اقبال کی ’’ہنرآموزی‘‘ کا موضوع بہت منفرد تھا۔ اِسی طرح ’’ڈائجسٹ‘‘ پر روبینہ یوسف کے فسانے ’’ہرے دادا‘‘ اور سعدیہ عظیم کے ’’آئیڈیل‘‘ کے موضوعات ذراہٹ کے معلوم ہوئے۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)

خوشیوں کا واحد سہارا

آج تو ہم لڑائی جھگڑے، ہاتھا پائی کے ارادے سے آئے ہیں کہ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو ٹیڑھی کرکے نکالنا پڑتا ہے۔ ’’سنڈے میگزین‘‘ میں ایک عرصے سے ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور آج ہم سب ناانصافیوں کا بدلہ لینے آئے ہیں کہ ہم کراٹے کے بلیک بیلٹ رہ چُکے ہیں۔ آج آپ کو آخری بار وارننگ دے رہے ہیں کہ ہمارے خطوط مِن و عن شائع کیا کریں اور ہمیں فوری طور پر ماڈلنگ کا موقع دیں۔ ہماری باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے، ورنہ… ورنہ… ورنہ کیا… ہم کچھ بھی نہیں کریں گے، اِسی طرح ہمارے منہ سے پھول جھڑتے رہیں گے۔

ارے بھئی، یہ سب اونگیاں بونگیاں ہیں۔ یوں بھی ہم تو جوتے کھانے کےعادی ہو چُکے ہیں۔ آخر میں ہم دس منٹ کےلیے مُرغا بنتے ہیں اورآپ سے معافی مانگتے ہیں کہ ہماری باتوں سے تنگ آکر آپ کہیں ہمارا سنڈے میگزین میں داخلہ ہی نہ بند کردیں، جب کہ ہمارے لیے خوشیوں کا واحد سہارا ایک یہی جریدہ تو ہے۔ (نواب زادہ بےکار ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: آپ کے بقول یہ جریدہ ہی خوشیوں کے حصول کا واحد ذریعہ ہے، اِس کے باوجود آپ لایعنی باتوں سے باز نہیں آتے، تو اب ہم مزید کیا کہیں کہ ہم تو پہلے ہی آپ کے معاملے میں برداشت کی آخری حدیں بھی چُھو چُکے۔

نام ہی معیار کی علامت

’’سنڈے میگزین‘‘ کا تو نام ہی سب سے پیارا ہے کہ اس کا معیار جو اعلیٰ، جداگانہ ہے اور جب نام ہی معیار کی علامت بن جائے، تو نام سے بھی محبّت ہوجاتی ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ سن ڈے اور ’’سن ڈے میگزین‘‘ گویا لازم و ملزوم ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا، دیکھا ہی نہیں جاسکتا۔ (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)

ہر فن مولا ہیں

اللہ کے فضل و کرم سے آس رکھتا ہوں کہ اہلِ بزم خوش و خرم ہوں گے۔ سالِ نو ایڈیشن کا تیسرا حصّہ موصول ہوا، خُوب ہوا، پڑھا، اچھا لگا۔ ونیزویلا اور امریکا کا تنازعہ شروع ہوا، بحران پیدا ہوا، جس سے نئے سال کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ ہمیشہ کی طرح روزِ روشن کی طرح عیاں تھے۔ منور مرزا نے ہمیشہ کی طرح بہترین تجزیہ پیش کیا، مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہر بڑی مچھلی، چھوٹی مچھلی کو کھانے جارہی ہے۔

وحید زہیر نے بھی ’’آفات‘‘ کے تحت سالِ رفتہ کا جائزہ بہت عُمدگی سے لیا۔ ’’درس تدریس‘‘ میں رابعہ فاطمہ نے حقائق سے خُوب پردہ اٹھایا۔ رائو محمّد شاہد نے ’’کائناتی دریافتوں‘‘ کے حوالے سے شان دار قلم کاری کی اور ’’سائنس/ آئی ٹی‘‘ کے ضمن میں لکھا کہ 2025ء ایک فیصلہ کُن سال تھا۔ واقعی حیرت ہے، دنیا کیا سے کیا ہوگئی ہے۔ ’’سلور اسکرین‘‘ سے پتا چلاکہ چین اِس شعبے میں بھی سبقت لےگیا، بہت ہی حیرت ہوئی۔ محمّد ریحان احمد کے اندازِ تحریر کے تو کیا ہی کہنے۔ ثانیہ انور بھی ہر فن مولا ہیں۔

ہر موضوع ہی پر خُوب گرفت رکھتی ہیں۔ ’’ٹی وی اسکرین‘‘ کا سال بھر کا جائزہ لینا اس قدر آسان امر نہ تھا، وہ بھی کر گزریں، بہت خوب بھئی۔ کلیم الدین ابوارحم ہر سال کی طرح ’’کھیل کھلاڑی‘‘ پر رقم طراز تھے۔ بلاشبہ، تمام ہی لکھاریوں نے اپنے اپنے شعبہ جات پر لکھ کر حق ادا کردیا۔ باپ حلم و وقار کا امتزاج ہو تو فرشتہ صفت ہی لگتا ہے۔ افشاں اور عائشہ نے ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے صفحے کو چار چاند لگا دیے۔

مطالعہ کُتب اور وہ بھی کُتب خانے ہیں، نرگس فاطمہ نے عُمدہ رپورٹ پیش کی۔ ڈاکٹر علیمی مصنوعی ذہانت کے شائق نظر آئے۔ عرفان جاوید ’آسیہ‘‘ کے بعد ’’بےدیارم‘‘ لائے۔ حُسنِ انتخاب داد کا حق دار ہے۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ واقعتاً دِلوں کی آواز ہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی زبردست رہا۔ مسند پر راجا براجمان تھے اور وہ وہاں سجتے بھی خُوب ہیں۔ (ڈاکٹر محمّد حمزہ خان ڈاھا، لاہور)

ج: کچھ لوگوں کے خطوط یا تو ملتے تاخیر سے ہیں یا شاید وہ خُود ہی پوسٹ کرنے میں کچھ تاخیر کرتے ہیں۔ بہرحال، آپ بھی اُن ہی لوگوں میں شامل ہیں، تو براہِ مہربانی کوشش کریں کہ تبصرہ لکھتےہی فوری سُپردِ ڈاک بھی کردیں، کیوں کہ ہم پہلے ہی خطوط کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب ڈیڑھ دوماہ کے فرق سے (خط ملنے اور شایع ہونے کے بیچ) چل رہے ہیں۔

بے حد ممنون، شُکر گزار

بندے کی ارسال کردہ تحریر ’’جواہر پارے‘‘ اس اتوار شائع ہوئی، جس پر آپ کا بے حد ممنون، شُکر گزار ہے۔ ’’فاتحِ سندھ، محمد بن قاسم‘‘ کے عنوان سے بھی ایک تحریر حاضرِ خدمت ہے، گر قبول افتد۔ (بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)

ج: ہرلائقِ اشاعت تحریرباری آنے پر شایع کردی جاتی ہے، جب کہ آپ کی متعدد تحاریرکی عدم اشاعت کی وجہ اُن کا تاخیر سے وصول پانا (یاشاید بھیجا جانا بھی)ہے۔ یاد رہے، اہم ایام سے متعلقہ تحریریں ہمیں کم سے کم بھی ایک ماہ قبل موصول ہوجائیں، تو ہی اُن کی اشاعت ممکن ہو پاتی ہے۔

                         فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

شمارہ موصول ہوا، سرِورق پر’’روشن روشن شام، آیا ماہِ صیام‘‘ پڑھ کر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی محفل میں پہنچے، جو ماہِ صیام کو تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیۂ نفس کا عظیم مظہر بتا رہے تھے۔ بےشک، صبرو برداشت، ایثار و ہم دردی، گناہوں سے باز رہنا اور انفاق فی سبیل اللہ ہی روزے کی حقیقی رُوح ہیں۔

مذکورہ بالا صفات پیدانہ ہوں، توصرف بھوکا پیاسا رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ روزہ ہی وہ عبادت ہے، جو اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر ماننے کا کامل یقین پیدا کرتی ہے، سخت بھوک پیاس میں بھی چُھپ کر کھانے پینے سے باز رکھتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ یہ یقین پختہ ہوجائے، تو بندہ ہر برائی سے آپ ہی آپ رُک جائے۔

اِسی کا نام تقویٰ ہے اور یہی روزے کا مقصود ہے۔ منور مرزا افغانستان کے ’’حالات و واقعات‘‘ بیان کررہے تھے۔ ہم تو چالیس برس سے اُنہیں بھگت رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی پچاس لاکھ افغانوں کی میزبانی ہی کا صلہ ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’کم ظرف پر احسان کرنے کے بعد اس کے شر سے بچو‘‘ اور یہ کم ظرف، احسان فراموش آج ہمارے دشمن بھارت کی گود میں بیٹھ کرہمارے خلاف پراکسی وار لڑرہے ہیں۔ ٹھیک کہا ہے کسی نے ؎ بھاگ اِن بردہ فروشوں سے، کہاں کے بھائی… بیچ کھاتے ہیں، جو یوسفؑ سابرادر ہووے۔

ہمارے خیال میں تو محدود جوابی کارروائی سے بھی یہ باز آنے والے نہیں۔ نبیل مرزا پی آئی اے کی بحالی، ترقی کا لائحہ عمل بتا رہے تھے۔ کسی زمانے میں یہی پی آئی اے ایشیا کی بہترین کمپنی تھی، کئی خلیجی ممالک کی کمپنیز کو تربیت دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، مگر آج خُود لڑکھڑاکر گرگئی۔

کوئی تحقیق نہ تفتیش کہ کن عناصر نے اسے بربادی کے اندھیروں میں دھکیلا اور نج کاری کا عمل بھی حیران کُن، جیسے تحفے میں دے دی گئی ہو۔ منور راجپوت پانچ ہزار سالہ موہن جودوڑو کی تہذیب سے سیکھنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

بھائی! اتنا پیچھے جانے کی کیا ضرورت ہے، ہمارے آس پاس ہی کئی تہذیبیں ترقی کی اڑان بھررہی ہیں، اگر چاہیں تو اُن سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں داکٹر سکندراقبال کا کہنا تھا کہ ’’روزے سے پوراسال صحت مند رہ سکتے ہیں، اگر اعتدال کا دامن تھامیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘‘ رحمان فارس نے معروف مزاح نگار، عطاء الحق قاسمی کا خاکہ اِس عُمدگی سے کھینچا کہ اس سے قبل شاید ہی کسی نے کھینچا ہو۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی نے بھی روزے کی افادیت کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے بیان کیا۔

ویسے آپ کی ماڈلز صرف ماہِ صیام ہی میں حجاب لیے ہوتی ہیں۔ خواتین کے لیے یہ حُکم تو سارے سال ہی کے لیے نہیں ہے۔ یوں بھی حجاب خواتین کا محافظ ہے۔ اگر آپ ہر ہفتےحجاب پہننے والی ماڈلز کا انتخاب کریں تو یقیناً خواتین کو ترغیب ملے گی اور آپ بھی عنداللہ ماجور ہوں گی۔ منور مرزا جاپان کے انتخابات میں پہلی بار خاتون وزیرِاعظم کی کام یابی کا تذکرہ کررہے تھے، جب کہ ہم تو دو دہائی قبل ہی تجربہ کرچُکے اور اب ایک خاتون وزیرِاعلیٰ کی کارکردگی سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔

افشاں نوید ماہِ صیام میں معمولی نیکی کے بھی بڑے اجر کی نوید سُنارہی تھیں۔ ’’بےدیارم‘‘ کی آخری قسط بس ایویں ای سی تھی، اُس کی نسبت تو کرن عباس کا افسانہ ’’انتظار‘‘ زیادہ متاثرکن لگا۔ قمر عباس کی غزل خوب تھی اور ہمارے صفحے پر حسبِ معمول محمّد سلیم راجا کی کھٹی میٹھی دل چسپ چٹھی نے پہلا اعزاز پایا، مبارکاں۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: صرف اُن ہی احکامات کا رٹّا لگارکھا ہے، جو خواتین کے لیے ہیں یا مَردوں سے متعلقہ احکامات کی بھی کچھ خبر ہے؟ خواتین کے پردے کے حُکم کے ساتھ ہی حضرات کے لیے نگاہیں نیچی رکھنے کابھی حُکم ہے۔ مگر بخدا اپنی پوری زندگی میں گنتی کے چند ایک مَردوں کو بھی اس حُکم کی بجاآوری کرتے نہیں دیکھا اور رہی ہمارے’’عنداللہ ماجور‘‘ ہونے کی بات، تو آپ کو اس فکر میں گُھلنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ وہ ہمارا اور ہمارے اللہ کا معاملہ ہے۔

گوشہ برقی خطوط

* مَیں آپ کے موقر جریدے کے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے لیے ایک افسانہ ارسال کرنا چاہتی ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ کیا تحریر موبائل یونی کوڈ میں (یعنی فون سے براہِ راست ٹائپ کردہ) یا ایم ایس ورڈ، موبائل یونی کوڈ فارمیٹ میں بھیجی جا سکتی ہے یا صرف اِن پیج کی فائل ہی قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے؟(مہوش عروج، کراچی)

ج: ہماری پہلی ترجیح تو اُردو ان پیج فارمیٹ ہی ہوتاہے، لیکن بہ امرِ مجبوری یونی کوڈ فارمیٹ بھی قبول کرلیا جاتا ہے۔

* اُمید ہے، بخیر ہوں گی، میگزین کی ادبی فضا فکر و شعورکی روشنیاں بکھیر رہی ہوگی۔ مَیں نےایک تحریر اگست میں آپ کی خدمت میں ارسال کی تھی۔ محض اشاعت کی خواہش میں نہیں بلکہ اُس قافلے کا حصّہ بننے کی تمنّا میں، جو جنگ میگزین کے ذریعے اہلِ قلم کو اظہار کا موقع دیتا ہے۔

اکثر دیکھتی ہوں، چند مخصوص لکھاریوں کی تحریریں تسلسل سےشائع ہوتی ہیں، جو یقیناً اپنےانداز میں خُوب ہیں، مگر کیا نئے لکھنے والوں کے لیے بھی وہ دروازہ کُھلا رہنا ضروری نہیں، جس سےکبھی بڑے بڑے قلم کار گزرے تھے؟

ادب اور صحافت کی خُوب صورتی ہی اُس تنوّع میں ہے، جہاں ہر قلم کو اظہار کا موقع ملتا ہے۔ میرے خیال میں ہر لکھاری کو کم ازکم ایک موقع ضرور ملنا چاہیے تاکہ اُس کی کاوش کا وزن پرکھا جا سکے۔ یہ صرف شکوہ نہیں، ایک ادبی التجا ہےکہ قلم کے قافلے میں سب کو برابر چلنے کا حق دیا جائے۔ (ضویا نعیم، کراچی)

ج: جس تحریر میں تھوڑی بہت بھی جان ہوتی ہے،حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ اُسے سنوار نکھار کر قابلِ اشاعت بنا دیا جائے، لیکن کسی مُردے میں رُوح پھونکنا بہرحال کارِمحال ہے اور یہ تو آپ نے بہت عجیب بات کی کہ ہر لکھاری کوکم ازکم ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔ مگر کوئی لکھاری ہو تو سہی۔ جو بھی ہاتھ میں قلم پکڑ لے، وہ قلم کار تھوڑی ہوجاتا ہے۔

ایک شخص سِرے سے لکھنا ہی نہیں جانتا تو اُسے اظہار کا موقع بھلا کیسے مل سکتا ہے اور اگر ہم نے محض کسی کو موقع دینےکے لیے ایک تحریر نئے سرے سے ری رائٹ ہی کرنی ہے، توبہتر ہے کہ وہ موقع خُود کو دیا جائے۔ واضح رہے، اِس جریدے کا ایک معیار ہے اور اُس معیار سے کم سطح کی کسی تحریرکی اشاعت کسی طور ممکن نہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید