عالیہ توصیف، آسٹریلیا
’’ایک بات کر کر کے آپ تھکتیں بھی نہیں، کتنی بارکہا ہے، ایک بات کو ایک ہی بار کیا کریں۔ آپ کو یاد کیوں نہیں رہتا کہ یہ بات، یہ قصّہ، مَیں اِس سے پہلے بھی کئی بار سُنا چُکی ہوں۔‘‘ ننّھے سے وجود نے دیکھا تھا وہ غصیلا لہجہ، محسوس کیا تھا وہ طنز۔ نہ جانے یہ اتنے سال پرانی بات بیٹھے بیٹھے کیوں یاد آگئی۔ مَیں نے اپنی ڈائری کا ورق پلٹا۔
گم گشتہ یادوں کی سیاہی میں ایک لائن کا اضافہ کیا۔ قلم کو ڈائری کے ساتھ بنے ہولڈر میں ڈالا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کرآنکھیں موند لیں۔ بچّوں کا شور ہنگامہ مجھے مسلسل ماضی کی یادوں سے نکلنے پر مجبورکر رہا تھا۔ مَیں نے اُنھیں ڈانٹ پلا کرکچن کا رُخ کیا۔ دودھ کا ایک گلاس بنایا اور امّی کے سامنے پیش کردیا۔ ’’شائستہ! تمہیں کتنی بار کہا ہے، دودھ چھان کر دیا کرو مجھے۔
ہر باربالائی کی تہہ ہوتی ہے۔ آخرایک بات کتنی بارکرنے پرتمہیں سمجھ آتی ہے؟ حد ہے، شرمندہ ہونے کے بجائے مُسکرارہی ہو؟‘‘ امّی نے مجھے مُسکراتا دیکھ کر مزید خفگی سے کہا۔’’آج واقعی بھول گئی تھی۔ لائیں، چھان کر لا دوں۔‘‘ مَیں نے محبّت سے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو اُنہوں نے بڑی بےاعتنائی سے جھٹک کر مجھے منع کر دیا۔ ’’وہ جو تمھاری بوا ماں ہوتی تھی ناں، ارے وہی، جو تمہارے ابّو کی پھوپی لگتی تھی۔ جو ہر وقت لمبے لمبے بال کھولے رکھتی۔
وہ دودھ ابال کررکھتی تھی، پھر گھر میں جب بھی کسی کو دینا ہوتا تو سب کی پیالیوں میں بالائی بھی ڈال دیتی۔ اُس کی ماں بھی اُسےمنع کرتی، مگر وہ جان بوجھ کر ایسا کرتی تھی۔ لڑکے کی شادی کی اورکسی خاندان والے کو برتا برتایا نہیں۔ سگی ماں سے بات تک نہیں کی۔ غلام علی سے جب اُس کی شادی ہوئی تھی، اتنی سی تھی، صحیح طرح بالوں میں کنگھی تک کرنی نہیں آتی تھی۔‘‘ وہ اپنی اِس بالائی والی بات سے جُڑی ایک بات لے کر ہمیشہ کی طرح بیٹھ گئیں۔
اِس بار تو مَیں نے جان بوجھ کراُن کی یہ ایک بات سُننے ہی کے لیے دودھ میں بالائی ڈالی تھی۔ مَیں نے پورے انہماک سے اُن کی طرف دیکھا۔ ’’اُس کی چاچی نے اُسے پڑھایا لکھایا، ادب آداب، اُٹھنا بیٹھنا سب کچھ سکھایا، مگر آج تک اُس نے کبھی جھوٹے منہ اِس بات کا تذکرہ بھی نہیں کیا کہ اُس کی چاچی کا اُس پر کوئی احسان ہے۔ بےچاری بےاولاد چاچی، اُس کے پیچھے پیچھے بھاگتی رہتی۔ یہ جو اُس کی شخصیت میں اتنا نکھار ہے، اُسی چاچی کی وجہ سے ہے۔‘‘
امّی نے بات درمیان سے روک کر دودھ کا ایک گھونٹ بَھرا۔ ’’آج ہر دل عزیز ہے، تو بھی اس میں اُس کی چاچی کا ہاتھ ہے، ورنہ اُس میں اتنی عقل، سمجھ بوجھ کہاں تھی۔ ابھی بھی اپنے بچّوں سے بہت ناانصافی کی باتیں کرجاتی ہے۔‘‘امّی نے سانس لیا۔ مَیں مسلسل مُسکراتے ہوئے، بہت محبّت سےاُن کی طرف دیکھ رہی تھی اور ان کی بات ایسے سن رہی تھی، جیسے یہ بات اُنہوں نے آج سے پہلے کبھی کی ہی نہ ہو اور میرے لیے یہ بالکل نئی بات ہو، جب کہ یہ ایک بات وہ کوئی ایک سو بار کر چُکی تھیں۔ اُن کی بات ابھی جاری تھی اور مَیں بہت اطمینان اور تسلی سے بیٹھی تھی، مگر بچّوں کے اودھم کی آوازوں نے مجھے ذہنی طور پر منتٹر سا کردیا تھا۔
’’حد ہوگئی، یہ بچّے دو پل بھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔ وہ فاخرہ تھی ناں، پرانے محلے والی، اُس کے دو ہی بچّے تھے۔ جب اُس کا میاں فوت ہوا، اُس کا چھوٹا بچّہ تین ماہ کا تھا…‘‘امّی نے بچّوں کا شور سُن کر ایک نئی بات شروع کردی۔ ’’امّی! پلیز ایک منٹ رُک جائیں۔ مَیں ابھی آرہی ہوں۔‘‘ بچّوں کی لڑائی کی آواز، چیخ و پکار نے بالآخر مجھے مجبور کردیا کہ آج پہلی بار مَیں نے امّی کو پلٹ کراتنا کہہ ہی دیا۔ یوں بھی فاخرہ کی یہ بات، وہ مجھے کوئی بیسیوں بار بتاچُکی تھیں۔ مَیں نے بچّوں کو ڈانٹ کر، کھانا دے کر سُلانے لٹایا۔
اُن کا سارا پھیلاوا سمیٹا، بیگز، یونی فارم، جوتے وغیرہ سیٹ کیے۔ امّی کے کمرے میں اُن کے کھانے کے برتن اُٹھانےگئی تو وہ ریڈیو کان سے لگائے کوئی چینل سیٹ کرنے میں مصروف تھیں۔ ’’یہ دیکھو، لگ کے نہیں دے رہا۔ تمہیں پتا ہے، جب مَیں چھوٹی تھی، ابّا کے پاس ایک چھوٹا سا ریڈیو ہوتا تھا، اُن کے پاس ایک خُوب صُورت سا کور بھی تھا، جو امّی جی نے کروشیے سے بنایا تھا۔ وہ ہر وقت اُس ریڈیو پر چڑھا رہتا…‘‘ اُنھوں نےمجھے دیکھتے ہی بولنا شروع کردیا تھا۔
’’لائیں، مَیں لگا دوں، کیا لگانا ہے؟‘‘مَیں نے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بہت نرمی سے کہا۔ تو انہوں نے فوراً ریڈیو مجھے تھماتے ہوئے اپنے من پسند چینل کا بتادیا۔ ’’وہ جو ہمارے ابّا جی کےساتھ والا گھر تھا۔ وہ لوگ اکثر ابّاجی کے پاس آتے اور گھنٹوں بیٹھے رہتے۔ ہم اُنہیں چاچا خیرو کہتے تھے، لگتے بھی وہ ہمارے چاچا ہی تھے۔‘‘ ’’امّی وہ جن کی بڑی بڑی مو نچھیں تھیں، اونچے لمبے سے؟‘‘میں نے اُن کی بات میں دل چسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
وہ یہ بات بھی کوئی سو بار کر چُکی تھیں۔ مجھے کچن اور دیگر چھوٹے موٹے کئی کام سونے سے پہلے نمٹانے تھے، مگر اُن کے ساتھ بیٹھنا میری مجبوری تھی کہ گھر کے اکثر لوگ اُن کے کمرے میں آنے سے اِسی لیےکترانے لگے تھے کہ وہ کوئی نہ کوئی قصّہ لے کر بیٹھ جاتیں، جو عموماً بہت طویل ہوتا۔ مَیں اکثر اُن کی کئی کئی بار کی جانے والی بات بھی اُسی توجہ اور لگن سے سُنتی، جیسے یہ کوئی نئی بات ہو۔ ’’ہاں ہاں بالکل وہی۔ اُن کی چھوٹی بیٹی کو اُس کا شوہر بہت تنگ کرتا تھا۔
ایک دن اُس کی بیٹی کے شوہر نے…‘‘یہ بھی وہ قصّہ تھا، جس کی سنچری مکمل ہوچُکی تھی۔ اب تومجھے اس کا ایک ایک لفظ حفظ تھا۔ مجھے اُن کے پاس بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ہوچُکا تھا۔ اُن کی بار بار کی ہوئی باتیں، قصّے کسی صُورت ختم نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میرے چہرے پرنہ کوئی بےزاری تھی، نہ خفگی اور نہ ہی عدم دل چسپی کا تاثر، البتہ کام نمٹانے کی فکر ضرور تھی۔
’’شائستہ…!!‘‘ اچانک ہی اُنھوں نے مجھے میرا نام لے کر پکارا۔ ’’جی امّی…‘‘ مَیں نے مُسکراتے ہوئے آنکھوں میں پیار بھرکراُن کی طرف دیکھا۔ ’’جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ۔ مجھے معلوم ہے، تمہارے سو کام ادھورے پڑےہیں۔‘‘ اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت ہی عجیب انداز کسی قدر بےقراری اور اداسی سے کہا۔ ’’نہیں امّی! آپ کریں، اپنی بات۔‘‘ مَیں نے اُن کی اداسی محسوس کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’کیا بات…‘‘؟ اُنہوں نے اَن جان بنتے ہوئے میری طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’وہی، جو آپ بتا رہی تھیں، چاچا خیرو اور اُن کی سوتیلی ماں کی بات۔‘‘مَیں نے بہت سہولت سے اُن کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔ ’’شائستہ… یہ ایک بات…اور دوسری ہر ہر بات، جو مَیں تم سے کرنے بیٹھ جاتی ہوں، وہ تو تم سو سو بار سُن چکی ہو۔‘‘ اُنہوں نے ایک لمحے کو رُک کر میری طرف دیکھا۔ اُنہوں نے میرے چہرے پر پھیلی حیرانی اور بےیقینی کو بھی فوراً پڑھ لیا تھا۔ ’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا۔’’یہی کہ… میرا مطلب ہے…نہیں تو…پتا نہیں۔‘‘ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ مَیں کیا جواب دوں۔
’’شائستہ… تم بہت نیک، بہت پیاری بچّی ہو۔ اللہ تمہیں بہت خوشیاں دے۔ میرا ہر قصّہ، کہانی اور بات تم اتنی توجہ سے کیسے سن لیتی ہو، جب کہ وہ ایک ایک بات مَیں کوئی سو سو بار کر چُکی ہوتی ہوں؟‘‘ اُنہوں نے بہت محبت و اپنائت سے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’مجھے اندازہ نہیں تھاامّی کہ آپ کواس بات کا احساس ہے کہ آپ یہ باتیں کئی کئی بارکرچُکی ہیں۔‘‘ مَیں ہنوزبےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
’’پہلے احساس نہیں تھا۔ مجھے خیال بھی نہیں رہتا تھا اور نہ یاد رہتا تھا کہ کون سی بات کرچُکی ہوں اور کون سی نہیں۔ مگر پھرمَیں نے تمہاری ڈائری پڑھی۔ مَیں بہت شرمندہ ہوں شائستہ… اے کاش! وقت لوٹ آئے اور مجھے معافی کی مہلت مل جائے۔‘‘ اُن کی آنکھوں میں پانی کھڑا تھا،آواز لڑکھڑا رہی تھی۔ یہ میرے لیے بھی ایک انکشاف ہی تھا کہ امّی میری ڈائری پڑھ چُکی ہیں۔
’’تم ایسا کیوں کرتی رہی شائستہ! تم نے کچھ کہے بغیر مجھے شرمندہ کردیا۔ مجھے آئینہ دکھا دیا۔ مجھے میری نظروں میں…‘‘ ’’امی پلیز…ایسی باتیں نہ کریں…‘‘میرا دل ڈوبنے لگا تھا۔ ’’دنیا تو مکافات…‘‘’’امّی پلیز…‘‘مَیں نےاُن کے کچھ بولنے سے پہلے ہی تڑپ کر اُن کی بات کاٹ دی۔’’مجھے خود نہیں معلوم امّی! مجھ میں اتنا صبرواستقامت،حوصلہ کیسے آگیا۔ مجھے بچپن میں سمجھ نہیں تھی، لیکن مَیں بہت بارنانی ماں کا اُترا ، بجھا ہوا،اداس چہرہ دیکھتی تھی۔
وہ مجھے اکثر انگیٹھی کے پاس اداس بیٹھی نظر آتیں، تو مَیں اُن کے پاس چلی جاتی۔ وہ میری باتوں سے محظوظ ہوتیں اور کچھ ہی لمحے بعد ساری اداسی بھول کرخوش ہو جاتیں۔ پھرجب مجھے کچھ شعور آیا، تو مجھے وجہ سمجھ آنے لگی۔ مَیں نے اکثر دیکھا، جب آپ نانی کوجھڑک کر چُپ کروا دیتیں کہ ’’یہ ایک بات آپ کوئی سو بار کرچُکی ہیں۔ اب بس بھی کریں۔‘‘ اور اُن کی وہ ایک بات اُن کے دل، اُن کی زبان ہی تک رہ جاتی۔ مَیں دل میں سوچا کرتی کہ نہ جانے وہ اس ایک بات کو کرنے کے لیے کتنی بےکل ہو رہی ہوں گی، مگرجب کرنے لگیں تو… پتا نہیں اُن کے ساتھ واقعی یادداشت کا مسئلہ تھا کہ وہ ہر ہر بات بھولنے لگی تھیں یا کیا پتا اُن کو کوئی سننے والا کان چاہیے تھا۔
کوئی شریک چاہیے تھا، جس کے ساتھ وہ باتیں کرکےاپنا وقت گزار سکتیں۔ مَیں اُن کے ساتھ بیٹھنے لگی تو وہ اپنی باتیں مجھ سے کرنے لگیں۔ اُن کی باتوں میں بہت مزہ تھا۔ وہ مجھ سےمیری عُمر کے مطابق بہت سے قصے شیئرکرتیں اور کئی کئی بار کرتیں، مگر مجھے ہر بار سُننا اچھا لگتا۔ پھر اُنہوں نے ایک دن ایک قصّہ سنایا کہ آپ یعنی میری ماں جب چھوٹی تھی، تو ایک بات کئی بار پوچھتی۔ وہ کوئی ایک بات بار بار کرتی اور وہ جتنی بار کرتی، مَیں اُتنی ہی بار اُسے بہت خوش ہو کر جواب دیتی۔
بچّہ اپنی ناسمجھی میں ایک بات کئی کئی بارکرتا ہے اور ماں باپ ہر بار اُس کی بات بہت اطمینان، تسلی سے سُنتےہیں، توکیا اولاد کو نہیں چاہیے کہ جب ماں باپ اُس عمر کو پہنچ جائیں، جب ایک بات کئی کئی بار کرنے لگیں، تو ہم بھی اُنہیں اُتنی ہی تسلی اور اطمینان سے سُنیں۔‘‘مَیں نے رُک کر امّی کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اُن کے گال بھیگ رہے تھے۔ میرا مقصد ان کو دُکھ دینا نہیں تھا۔ مَیں خاموش ہوگئی۔
’’کہو، مجھے سُننا ہے، رُکو مت۔‘‘ اُنہوں نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں امّی! آپ بہت اچھی ہیں۔ اصل میں ہمیں بعض اوقات خُود بھی علم نہیں ہوتا کہ ہم کسی کے ساتھ کیسی دل آزاری والی بات کرگئے ہیں۔ ہمیں وہ بات معمولی لگتی ہے، مگر کسی دوسرے کے لیے وہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ا ٓپ کی سو سو بار کی جانے والی بات بھی میرے سرآنکھوں پر۔ ماں کا دل دُکھا کر مَیں کوئی بھی خوشی، آسودگی کیسے پا سکتی ہوں۔
مَیں نہیں چاہتی کہ مَیں آج آپ کی بات صرف اس لیے نظر انداز کروں کہ مجھے گھر کے سو کام ہیں۔ گھر کے کام اپنی جگہ، مگر کیا پتا وہ ایک بات، جوآپ کےدل میں ہے، اس کے کہنے میں آپ کے دل کی کتنی خوشیاں پنہاں ہیں۔ وہ ایک بات کرنے سے آپ کوکتنی خوشی، سکون ملے گا کہ کوئی آپ کو سُنتا ہے۔ کسی کی نظر میں آپ کی اہمیت ہے۔‘‘میری آواز کپکپا رہی تھی۔ مَیں نے اُن کی طرف دیکھا۔ انہوں نے محبّت سے مجھے گلے لگا لیا اور پھراپنے دل کا سارا غبار آنسوئوں میں بہا دیا۔
میرا بھیگا کاندھا میری ماں کا سارا غم، پچھتاوا دھو چُکا تھا۔ مجھے اِس بات پر بہت فخر محسوس ہوا کہ مَیں نے نہ صرف اپنی ماں کی عزت واحترام میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی بلکہ آج اُنھیں اندر سے بھی بہت ہلکا پھلکا کردیا۔ انہوں نے میرے ماتھے پر پیار دیا اور بستر سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔