کانگو بخار، جسے طبّی اصطلاح میں ’’Crimean-Congo Hemorrhagic Fever ‘‘ (CCHF) کہا جاتا ہے، ایک نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر جان لیوا وائرل بیماری، ہے جو Nairovirus نامی وائرس کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری بنیادی طور پر مویشیوں پر موجود چچڑیوں(Ticks) کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، تاہم بعض صُورتوں میں متاثرہ جانور کے خون یا جسمانی رطوبات کے ساتھ براہِ راست رابطہ بھی اِس وائرس کی منتقلی کا باعث بن سکتا ہے۔
اِس وائرس کی تاریخی شناخت دنیا کے مختلف خطّوں میں مختلف ادوار میں ہوئی۔ پہلی مرتبہ اِس نوعیت کے کیسز 1940 ء کی دہائی میں کریمیا(Crimea) کے علاقے میں رپورٹ ہوئے، جہاں اِس بیماری نے طبّی ماہرین کی توجّہ حاصل کی۔ بعد ازاں،1950 ء کی دہائی میں افریقی مُلک، کانگو میں اِسی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد اِن دونوں خطّوں کی نسبت سے اِس بیماری کو مشترکہ طور پر’’ Crimean-Congo Hemorrhagic Fever ‘‘کا نام دیا گیا۔
یہ وائرس عموماً اُن چچڑیوں میں پایا جاتا ہے، جو بکری، بھیڑ، گائے، بیل، دنبے اور اونٹ جیسے مویشیوں کی جِلد پر موجود ہوتی ہیں۔ جب یہ متاثرہ چچڑیاں، کسی انسان کو کاٹتی ہیں، تو وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر بیماری پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، متاثرہ جانور کے خون، گوشت یا دیگر جسمانی رطوبات کے ساتھ براہِ راست اور غیر محفوظ رابطہ بھی اِس بیماری کے پھیلاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے، خصوصاً اگر ذبح کے عمل کے دَوران احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں۔
پاکستان کی صُورتِ حال: پاکستان میں’’ کریمین-کانگو ہیمرجک فیور‘‘کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1976 ء میں بلوچستان میں رپورٹ ہوا تھا، یوں مُلک میں پہلی بار اِس بیماری کی شناخت ممکن ہوئی۔
بعد ازاں، 1990ء اور2000 ء کی دہائی میں اس کے کیسز زیادہ واضح اور باقاعدہ رپورٹ ہونا شروع ہوئے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے سرحدی اور دیہی علاقوں میں، لیکن اصل تشویش ناک اضافہ2010 ء کے بعد سے دیکھنے میں آیا، جب ہر سال باقاعدگی سے مختلف صوبوں خصوصاً بلوچستان، خیبر پختون خوا اور سندھ میں کیسز رپورٹ ہونے لگے۔ اِس عرصے میں مویشی منڈیوں کے پھیلاؤ، شہری آبادی کے ساتھ دیہی رابطے اور عیدالاضحیٰ کے دَوران جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے نے بیماری کا پھیلاؤ مزید بڑھایا۔
گزشتہ تقریباً ایک دہائی (2015 ء کے بعد سے) صُورتِ حال یہ ہے کہ ہر سال وقفے وقفے سے کانگو وائرس کے درجنوں کیسز اور اموات رپورٹ ہوئی ہیں اور یہ رجحان خاص طور پر عیدالاضحیٰ کے ایّام میں زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اِسی وجہ سے اب اِسے پاکستان میں ایک اُبھرتا ہوا مستقل پبلک ہیلتھ رِسک سمجھا جانے لگا ہے۔
کراچی سمیت سندھ کی صُورتِ حال: سندھ، خصوصاً کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں، یہ بیماری زیادہ تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے، کیوں کہ یہاں مویشی منڈیوں، شہری آبادی اور جانوروں کی نقل و حرکت کے درمیان قریبی تعلق پایا جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دَوران یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے کہ اِس عرصے میں جانوروں کی خرید و فروخت، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور انسانوں کا اُن سے براہِ راست رابطہ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو کئی گُنا بڑھا دیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سندھ میں سال2025 ء کے دَوران کانگو بخار سے مجموعی طور پر6 اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے5 اموات کراچی میں ہوئیں۔
یہ کیسز عیدالاضحیٰ(6 جون 2025ء) کے بعد سامنے آنا شروع ہوئے اور18 جون سے لے کر26 ستمبر2025 ء تک اِن کا تسلسل دیکھا گیا- یہ صُورتِ حال واضح طور پر اِس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ قربانی کے بعد کے ہفتے بیماری کے پھیلاؤ کے لحاظ سے نہایت حسّاس اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اِسی تسلسل میں، سال2026 ء میں کراچی میں ایک17 سالہ نوجوان کی پہلی ہلاکت22 اپریل2026 ء کو رپورٹ ہوئی، جس کا تعلق ٹنڈو محمّد خان سے تھا اور جسے علاج کی غرض سے کراچی لایا گیا تھا-
بیماری کیسے پھیلتی ہے؟: یہ بیماری مختلف طریقوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے اور ہر طریقہ اپنے اندر ایک واضح خطرہ رکھتا ہے٭متاثرہ چچڑی کے کاٹنے سے وائرس براہِ راست انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے۔ ٭متاثرہ جانور کے خون، گوشت یا جسمانی رطوبات کے ساتھ براہِ راست رابطہ، خصوصاً ذبح کے دَوران، وائرس کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔٭آلودہ گوشت، خون یا آلات کو بغیر حفاظتی اقدامات کے چُھونا بھی خطرے کو بڑھاتا ہے۔٭قصاب یا گوشت کا کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، خصوصاً اگر اُن کے ہاتھوں پر زخم یا کٹ موجود ہوں۔
کِن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟: اگرچہ یہ بیماری کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم کچھ افراد میں اِس کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔٭مویشی پالنے والے افراد، جو روزمرّہ کی بنیاد پر جانوروں کے قریب رہتے ہیں۔ ٭قصاب یا کوئی ایسا کام کرنے والے افراد، جو براہِ راست جانوروں کے خون سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ٭زرعی مزدور، جو کُھلے ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ٭ویٹرنری ڈاکٹرز، جو جانوروں کے معائنے اور علاج میں مصروف رہتے ہیں۔ ٭مویشی منڈیوں میں کام کرنے والے افراد۔٭ عیدالاضحیٰ کے دوران عام شہری، جو قربانی کے جانوروں کے قریب آتے ہیں۔
انکیوبیشن پیریڈ: خاموش، خطرناک مرحلہ:سی سی ایچ ایف کا انکیوبیشن پیریڈ1 سے14 دن تک ہوتا ہے۔ اِس دوران وائرس جسم میں موجود تو ہوتا ہے، مگر علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ مریض بظاہر صحت مند نظر آتا ہے اور معمول کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، لیکن اندرونی طور پر وائرس تیزی سے سرگرم رہتا ہے۔
یہی خاموشی بیماری کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے کہ متاثرہ شخص کو اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا، اِس لیے وہ غیر ارادی طور پر دوسروں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ یہ مرحلہ بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
علامات: کانگو بخار کی علامات عام طور پر اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور تیزی سے شدّت اختیار کر سکتی ہیں۔ جیسے: ٭تیز بخار٭شدید جسمانی درد، خصوصاً کمر، گردن اور پٹّھوں میں٭متلی اور قے٭گلے میں سوزش٭جِلد پر سُرخ دھبّے٭بیماری کی شدید حالت میں ناک، مسوڑھوں یا دیگر اندرونی اعضاء سے خون بہنا شروع ہو سکتا ہے، جو ایک انتہائی خطرناک علامت ہے۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صُورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
عیدالاضحیٰ پر احتیاط کی ضرورت: عیدالاضحیٰ کے موقعے پر لاکھوں جانوروں کی قربانی کے باعث کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اِس دوران مویشی منڈیوں میں خون، پسینے اور جسمانی رطوبات کی موجودگی وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ قصابوں کے لیے خطرہ اُس وقت بڑھ جاتا ہے، جب وہ بغیر حفاظتی اقدامات کے جانور ذبح کرتے ہیں، جب کہ عام شہری بھی، جو اِس عمل میں شریک ہوتے ہیں، غیر دانستہ طور پر اِس خطرے کی زَد میں آ سکتے ہیں۔
اہم خطراتی عوامل: کانگو وائرس کے پھیلاؤ میں چند بنیادی عوامل کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔جیسے:٭غیر تربیت یافتہ قصاب٭مویشی منڈیوں میں ناقص صفائی کا نظام٭چچڑیوں کی موجودگی٭عوامی سطح پر احتیاطی تدابیر سے غفلت۔جب یہ عوامل ایک ساتھ موجود ہوں تو بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گُنا بڑھ جاتا ہے اور معمولی لاپروائی بھی صحت کے بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
طبّی عملے کے لیے ہدایات :طبّی عملے کو چاہیے کہ وہ مریض کا علاج کرتے وقت مکمل حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔٭ڈاکٹرز اور نرسز ہمیشہ دستانے، ماسک اور حفاظتی گاؤن پہن کر رکھیں۔ مریض کو ہمیشہ الگ کمرے میں رکھا جانا چاہیے تاکہ بیماری دوسرے افراد میں نہ پھیلے۔٭انجیکشن اور سرنج استعمال کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے اور استعمال کے بعد اُنہیں محفوظ طریقے سے تلف کرنا ضروری ہے۔٭اگر مریض کی وفات ہو جائے، تو تدفین بھی حفاظتی طریقے سے کرنی چاہیے۔ مریض کے استعمال شدہ کپڑے اور اشیاء تلف کر دی جائیں یا پھر اُنھیں جراثیم سے پاک کیا جائے۔
محکمہ لائیو اسٹاک کے لیے ہدایات: ٭مویشی منڈیوں میں باقاعدہ چچڑی مار اسپرے کیا جائے۔٭جانوروں کا باقاعدہ طبّی معاینہ یقینی بنایا جائے۔ ٭متاثرہ جانور فوری طور پر دیگر مویشیوں سے الگ کیے جائیں۔٭باڑوں اور منڈیوں کی صفائی یقینی بنایا جائے۔
عوام کے لیے احتیاطی تدابیر: عوامی سطح پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔٭مویشی منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ اور مکمل آستین والے کپڑے پہنیں۔٭جانور خریدتے وقت اُس کے جسم کا بغور معائنہ کریں۔٭منڈی سے واپسی پر نہائیں اور کپڑے تبدیل کریں۔٭بچّوں کو مویشی منڈی لے جانے سے حتی الامکان گریز کریں۔ ٭جانور کو ہاتھ لگاتے وقت دستانے استعمال کریں۔ ٭قربانی کے دوران خون سے براہِ راست رابطے سے بچیں۔٭گوشت اچھی طرح دھو کر اور مکمل پکا کر استعمال کریں۔
بروقت تشخیص کی اہمیت: کانگو وائرس کی ابتدائی علامات عام بخار یا فلو سے مشابہ ہونے کی وجہ سے اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں، جو بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر بروقت تشخیص و علاج نہ ہو، تو بیماری چند دنوں میں شدّت اختیار کر سکتی ہے اور خون بہنے جیسی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اِسی لیے فوری طبّی معائنہ اور تشخیص اِس بیماری میں مریض کی جان بچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
علاج اور طبّی دیکھ بھال: کریمین-کانگو ہیمرجک فیور کا کوئی مخصوص یا مکمل علاج موجود نہیں ہے، اِس لیے علاج کا انحصار زیادہ تر معاون طبّی نگہہ داشت پر ہوتا ہے۔٭جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھا جاتا ہے۔٭آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔٭بلڈ پریشر کنٹرول کیا جاتا ہے۔٭اضافی انفیکشنز کا علاج کیا جاتا ہے۔ کچھ تحقیقی مطالعات میں اینٹی وائرل دوا’’ Ribavirin ‘‘کے محدود مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، تاہم اس کا مؤثر ہونا ابھی تک مکمل طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔ اِس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت :٭مویشی منڈیوں میں باقاعدہ اسپرے، صفائی اور چچڑیوں کے خاتمے کے لیے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔٭عیدالاضحیٰ کے دوران تمام بڑی مویشی منڈیوں اور حسّاس علاقوں میں فوری طبّی امداد اور بروقت تشخیص کے لیے خصوصی میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں۔
٭اسپتالوں میں کانگو بخار کے مریضوں کے لیے الگ اور مکمل طور پر فعال آئسولیشن وارڈز تیار رکھے جائیں، جہاں حفاظتی آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔٭عوامی سطح پر مستقل بنیادوں پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ بیماری کی علامات، احتیاطی تدابیر اور محفوظ رویّوں سے آگاہ رہیں-
محکمۂ صحت، سندھ کے اقدامات: صوبائی وزیرِ صحت سندھ، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور سیکریٹری صحت، طاہر حسین سانگی کی ہدایات کے بعد محکمۂ صحت، سندھ نے تمام اسپتالوں اور ضلعی صحت مراکز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
حکّام کے مطابق متعلقہ اداروں کو فوری طبّی سہولتوں کی فراہمی، حفاظتی اقدامات کی سختی سے پابندی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی مزید مؤثر بنانے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کے خطرات کم سے کم کیے جا سکیں۔
آگاہی، میڈیا اور سماجی شمولیت: کانگو وائرس جیسے خطرناک مرض کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے اہم عُنصر عوامی آگاہی اور سماجی رویّوں میں تبدیلی ہے۔ موجودہ دَور میں میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا معلومات کی ترسیل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، جن کے ذریعے بروقت، سادہ اور درست پیغامات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر علامات، احتیاطی تدابیر اور ہنگامی اقدامات سے متعلق آگاہی مہمّات عوامی شعور میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیمی ادارے نوجوان نسل کو بنیادی معلومات فراہم کر کے انہیں کمیونٹی لیول پر آگاہی پھیلانے کے قابل بناتے ہیں۔ مذہبی رہنما بھی اپنے خطبات کے ذریعے صفائی، احتیاط اور ذمّے دارانہ رویّے اختیار کرنے کی تعلیم دے سکتے ہیں۔
ہنگامی ردّ ِعمل (Rapid Response ) کی مضبوطی: اس بیماری سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نظامِ صحت کی استعدادِ کار بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ اسپتالوں میں فوری تشخیص کی سہولتیں، تربیت یافتہ طبّی عملہ اور مکمل حفاظتی انتظامات موجود ہونے چاہئیں تاکہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔
ریفرل سسٹم بھی مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ پیچیدہ کیسز فوری طور پر بڑے اسپتالوں تک منتقل کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ، ضلعی سطح پر’’ Rapid Response Teams‘‘ کی تشکیل ہنگامی صُورتِ حال میں فوری کارروائی کو یقینی بناتی ہے، جس سے بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔
نگرانی، تحقیق اور بارڈر کنٹرول: کانگو وائرس کے مستقل کنٹرول کے لیے ڈیٹا کلیکشن اور تحقیق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر کیس کی تفصیلی ریکارڈنگ بیماری کے پھیلاؤ کا پیٹرن سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جب کہ تحقیقی ادارے مستقبل میں بہتر علاج اور ویکسین کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سرحدی علاقوں میں جانوروں کی سخت نگرانی اور قرنطینہ نظام، وائرس کے بین الاضلاعی اور بین الصوبائی پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
طویل المدّتی حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی تعاون: اِس بیماری کے مؤثر کنٹرول کے لیے ایک جامع، طویل المدّتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جس میں محکمۂ صحت، لائیو اسٹاک اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط رابطہ شامل ہو۔ مُلک گیر سطح پر ڈیزیز سرویلنس سسٹم کو فعال کیا جائے اور مویشیوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے۔
نجی شعبے اور این جی اوز کی شمولیت وسائل میں اضافہ کرتی ہے اور آگاہی مہمّات کو مزید مؤثر بناتی ہے۔ اِس طرح مربوط اور مستقل اقدامات کے ذریعے کانگو وائرس کے خطرات نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔
کریمین-کانگو ہیمرجک فیور ایک خطرناک، مگر بڑی حد تک قابلِ روک تھام بیماری ہے۔ اگر بروقت احتیاط، صفائی، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی یقینی بنائی جائے، تو اس کا پھیلاؤ نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمّے داری کا مظاہرہ کریں تاکہ نہ صرف خود محفوظ رہیں، بلکہ اپنی کمیونٹی کو بھی اِس خطرناک بیماری سے بچا سکیں۔ کیوں کہ’’ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط اور ترقّی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔‘‘
(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)