• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ کبھی ناانصافی نہیں کرتا۔ فرخ فتح علی خان اپنے بڑے بھائی نُصرت فتح علی خان سے اگر زیادہ نہیں تو اُن کے برابر میٹھے ضرور تھے۔ الاپ سے جان کھینچ لینے پر قادر۔ تانوں، مُرکیوں، پلٹوں میں ’’سا‘‘پریُوں سہج سہج پلٹ کرآتے، جیسے کوئی صدیوں کا بھٹکا مسافر گھر آجائے۔

مگر فُرخ نے قُربانی دی۔ ہمیشہ ’’نصرت فتح علی خان اور ہم نوا‘‘ لکھوایا، اپنا نام گُم کردیا۔ بڑے بھائی کے پہلو، بڑے بھائی کے سائے ہی میں چُھپے رہے۔ چھوٹے ہی رہے، بڑا بننے کی ضد نہیں کی۔ اوردیکھیے، اللہ نے کیا انصاف کیا بھلا؟ نصرت کی تمام تر سُریلی وراثت کی پگڑی فرخ کے بیٹے کے سر پر رکھ دی۔ وہی بیٹا، جسے ہم لوگ راحت فتح علی خان کے نام سے جانتے ہیں۔ بےشک، اللہ بڑا مُنصف ہے۔

سُر، فطرت کا بہت پُراسرار اظہاریہ ہے۔ صدا کا یہ سچا ٹُکڑا بنی آدم کے گلے کی بُھول بھلیّوں اور رگ وپے میں صدیوں سفر کرتا ہے۔ چُپکے چُپکے، دھیرے دھیرے، ہولے ہولے نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ گُلوئے خوش الحان یعنی سُریلے گلے سے اگلے سُریلے گلے تک کتنے ہی بھیس بدلتا اور رُوپ دھارتا ہے۔

ایک ہی گھرانے کی دو ’’پیڑھیوں‘‘ میں کہیں گرج دار کھرج، کہیں نرم و نازک تان، کہیں چڑھا ہوا تیور طنطنہ، کہیں اُترا ہوا کومل ٹھہراؤ۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ اور خاموشی سُر کی غیر موجودگی پر روتی ہے، تب کہیں جا کر سکوت کے باغ میں کوئی ایسا شدید میٹھا، سُریلا اور مدُھر بلبل پیدا ہوتا ہے کہ آواز جس کی مٹھاس اور انداز جس کا خاص احساس ہوتا ہے۔

شہنشاہِ قوالی، نُصرت فتح علی خان کے گھرانے میں بھی سُر نے صدیوں کا سفرطے کیا۔ کہیں تانوں، مُرکیوں کی اوٹ سے جھانکا، تو کہیں ٹُھمری میں ٹھاٹ باٹ سے جھلک دکھلائی۔ کہیں قوالی کے قول میں قُلقلِ مینا سا بجتا رہا، تو کہیں غزل میں غزال بن کر سجتا رہا۔ اور پھر لائل پور کی ایک گلی میں موجود ایک گلے میں یہ تمام عناصر یک جا بہم ہوگئے۔

بوجھیے تو کیا ہوا؟ جی ہاں، درست پہنچے آپ! شہکار کا نام رکھا گیا، نُصرت فتح علی خان۔ اب بات یہ ہے صاحبو کہ عموماً برگد کے گھنے پیڑ تلے دوسرا برگد اُسی شان و شوکت، اُسی رنگ و بُو کے ساتھ پھل پھول نہیں سکتا، لیکن نُصرت کے گھرانے نے یہ کرامت بھی دیکھی کہ نُصرت کا بویا ہوا بیج یعنی راحت فتح علی خان اُنہی پھولوں میں مزید رنگ ترنگ بھر رہا ہے کہ جن کی پہلی پہلی آب یاری نُصرت نے خود کی۔ برگد تلے برگد کی یہ مثال حیران کُن ہے۔

ہماری راحت سے پہلی ملاقات یادگار اور بہت دل چسپ تھی۔ حسَن بادشاہ ہمارے بھائی ہیں اور اِس وقت پاکستانی میوزک انڈسٹری میں چھائے ہوئے ہیں۔ علی ظفر سے عاطف اسلم تک اور راحت فتح علی خان سے رفاقت علی خان تک بادشاہ بھائی کے بنائے گانے گا کر ہر طرح کے میوزک لووَرز کے شوق کی تسکین کررہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے اسٹوڈیو کے افتتاح کی تقریب میں ہمیں بلوایا تو راحت بھی مدعو تھے۔

سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس، آستینیں اُلٹے ہوئے، ایک کلائی میں دمک دار گھڑی اور دوسری میں زنجیر، انگلیوں میں انگوٹھیاں (کہ جن میں سے ایک میں دُرِنجف ہمیں دُور ہی سے نظر آگیا)، ڈھیلا ڈھالا سادہ سچا دیسی لہجہ، نہ سُپر اسٹار ہونے کا تکبّر، نہ سلیبریٹی ہونے کا غرور، نگاہ میں عاجزی اور آواز میں ایسی مٹھاس کہ تحت اللفظ بھی ترنم جیسا، یاروں کے یار اور حاسدوں کے لیے بھی دُعاگو۔ یہ تھا، ہمارا راحت سے پہلی ملاقات کا مشاہدہ۔

مِلے تو خُوب گرم جوشی سے گلے ملے۔ بادشاہ بھائی نے بہت سخی تعارف کروا رکھا تھا کہ رحمان فارس نسلِ نَو کے مقبول ترین شعراء میں سے ایک ہیں۔ پہلی ہی ملاقات میں راحت بھائی نے شاید اِسی تعارف کے زیرِاثر بہت محبّت سے فرمائش کی کہ مَیں اُنہیں گانے کے لیے اپنی کوئی غزل دوں۔ ’’عشق بخیر‘‘ کی کاپی اُنہیں پیش کی، تو وہیں بکمالِ محبت دو غزلیں سُنیں اور خُوب داد سے نوازا۔ راحت شعر کی داد بھی یُوں دیتے ہیں، جیسے بڑا گویّا سَم پر محظوظ ہوتا ہے۔ مطلب، خُوب جُھوم جُھوم جاتے ہیں۔

اسٹوڈیو کے افتتاح کی رسم جاری تھی اور مَیں راحت کے ساتھ صوفے پر بیٹھا اُن کی آواز کی دُھن سُن کر سر دُھن رہا تھا۔ پوچھا کہ ’’راحت بھائی! آپ کو تو اُستاد ہی اُستادوں کے اُستاد، نُصرت فتح علی خان نصیب ہوئے۔ بتائیے تو سہی، وہ کیسے اُستاد تھے؟‘‘ اس سوال پر راحت کے چہرے پر یک دم گہری اُداسی کے مِٹے مِٹے مٹیالے بادل سے چھا گئے۔ ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد بتایا کہ نصرت کے بطور تایا اور بطور استاد رُوپ مختلف تھے۔ بچپن ہی سے راحت کی صُورت میں انہیں راحت انگیز وارث مل گیا تھا، مگر وہ وارث کی تربیت میں کسی قسم کی رعایت کے حق میں ہرگز نہیں تھے۔

جو سِکھاتے گہرائی سے سِکھاتے، بار بار پوچھتے، کڑا ریاض کرواتے، امتحان لیتے، دُہرائی کرواتے۔ تھیوری الگ سکھاتے۔ اور سب سےبڑھ کریہ کہ اسٹیج کا حوصلہ انہوں نے بہت ہی مُنّی سی عُمر میں راحت کو دِلوا دیا۔ آپ خُود ہی سوچیے کہ نُصرت فتح علی خان اور فرخ فتح علی خان کے پہلو میں بیٹھ کر اسٹیج پر ہزاروں کے سامنے بھیرویں اور جے جے ونتی اور بھیم پلاسی اور درباری اور مالکونس اور بھاگیشری اور ماروا اور یمن کلیان اور جون پُوری کا الاپ کرنے والا چھے سات سالہ بچّہ بڑا ہونے تک کس قدر خُود اعتمادی، بھروسے اور یقین سے مالا مال ہوچکا ہوگا؟

خیر، اُس روز راحت کے ساتھ چائے بھی پی، سموسے بھی ہڑپے، گپ شپ بھی کی، دوستی بھی ہوئی اور اُن سے سیکھا بھی بہت۔ راحت رُخصت ہونے لگے تو ہم اُنہیں باہر تک چھوڑنے گئے۔ آگے آگے چل رہے تھے۔ اسٹوڈیو سے باہر باغ میں جو دروازہ کُھلتا ہے، اُنہوں نے بہت محبّت سےکھولا اور ہمارے انتظارمیں کھڑے ہوگئے کہ ہم گزریں۔ اُن کی یہ ادا بہت دل موہ لینے والی تھی۔ شاید سچے سُریلے کی ہر ادا سُریلی ہوتی ہے۔ راحت کی تو ہے!

ایک بار کراچی ادبی کانفرنس کے لیے جاتے ہوئے لاہور ائیر پورٹ ہی پر راحت سے ملاقات ہوئی۔ وہ اپنے پورے بینڈ کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور اُن کے گروپ کا ہر رُکن چاہے وہ کوئی میوزیشن ہو یا قوالی میں اُن کا ہم نوا، خود کو اُتنا ہی باعزت محسوس کرتا ہے، جتنے کہ راحت خُود ہیں اور یہ امر راحت کی اعلیٰ ظرفی ہی سے ممکن ہے۔ چاہنے والوں کا تانتا بندھا ہو تو چاہے جانے والے میں طنطنہ آ سکتا ہے، لیکن ظرف عالی ہو تو عاجز، عاجز ہی رہتا ہے اور مقامِ بندگی چھوڑکرخدائی اختیار کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔

راحت فتح علی خان بھی عاجزی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ہم نے ائیرپورٹ پر بھی دیکھا کہ کسی فین کی کسی گزارش کو نہیں ٹھکرایا بلکہ ایک صاحب تو چار پانچ سیلفیاں مختلف زاویوں سے لینے کے بعد پھر پلٹ آئے کہ ’’راحت بھائی ! فون کا کیمرا ہی نہیں چلا، دوبارہ زحمت کرنا ہوگی۔‘‘ مجال ہے کہ راحت کے ماتھے پر ہلکی سی شکن، آواز میں ذرا سی بےزاری یا لہجےمیں تھوڑی سی بھی تھکن آئی ہو۔ پہلے جیسی خندہ پیشانی سے ملے، ہنس کر تصویر بنوائی اور مُسکرا کر رخصت کیا۔

امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشن APPNA امریکا بھر میں اُردو زبان و ثقافت کی ان تھک، بےمثال خدمت کررہی ہے۔ موسیقی ہو کہ مجسمہ سازی، مصوری ہو کہ شاعری، یہ محنتی اور محبّتی تنظیم پاکستان کے کلچر کی عَلم بردار ہے۔ اسی سال جنوری میں گزشتہ برس کی صدر، سُخن شناس شخصیت ڈاکٹر حمیرا قمر کو الوداع اور آئندہ صدر، بہترین پروفیشنل اور منتظم ڈاکٹر بابر راؤ کو خوش آمدید کہنے کے لیے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں جس شان دار تقریب کا اہتمام کیا گیا، ہمیں اُس میں ’’ماسٹر آف سیریمنیز‘‘ کے فرائض سرانجام دینا تھے۔

تقریب کے فوری بعد راحت فتح علی خان کا شان دار کنسرٹ تھا۔ وہاں بھی جس پُرتپاک اور گرم جوش انداز میں راحت گلے ملے، یقین کیجے، راحت مل گئی۔ آٹھ ساڑھے آٹھ سو ڈاکٹرز کی موجودگی میں راحت نے گانا شروع کیا تو وہ لوگ بھی تھرکنے لگے کہ جنہوں نے شاید زندگی میں کبھی رقص نہ کیا ہو۔ ہال کے اندر کی روشنیاں قمقموں کی صُورت رنگ برنگی تھیں اور جلتی بُجھتی جھلکیوں کے درمیان راحت کی آواز کسی پُراسرار خوشبو کی طرح سماعتوں میں رچی بسی جارہی تھی۔ راحت کے سُر آٹھ سالہ بچّے پر بھی اُسی طرح اثرانداز تھے، جس طرح اٹھاسی سالہ بزرگ پر۔

ارے یاد آیا! پچھلے دِنوں سرحد کےدوسری طرف کےایک شاعر دوست سے بات چیت ہورہی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ راحت برِعظیم پاک و ہند کی موجودہ موسیقی کے منظرنامے کی وہ آواز ہیں کہ جو سرحدپار بھی آوازہ لگا سکتی ہے۔ دونوں طرف اُن کے چاہنے والے کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ کیا راحت نے سونونگم اور اریجیت وغیرہ کا بالی وُڈ کیرئیر خطرے میں ڈال دیا؟

اس پرہمارے دوست تھوڑی جز بز کے بعد بولے کہ ’’تقابل کی ضرورت ہی کیا ہے؟ سُر تو سُر ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا، یہ تو صد فی صد درست ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ چوں کہ بالی وُڈ کی نغمگی سراسرعشق کی خوشبو میں بسی ہوتی ہے، اِسی لیے راحت کی دل نشیں آمد نے اس رومان کے آسمان پر ایک نئی کہکشاں روشن کردی ہے۔ اب آپ خُود ہی دیکھ لیجے کہ ’’تیرے مست مست دو نین‘‘، ’’سجدہ‘‘ اور ’’مَیں تینوں سمجھاواں کی‘‘ جیسے نغموں سے تو محبّت کی بازی ہی پلٹ گئی۔

قوالی کے افق سے اُبھرتا ہوا یہ درخشاں ستارہ جب بالی وُڈ کی فضاؤں میں چمکا دمکا تو یہ راز عیاں ہوا کہ اس صنف میں بھی اُس کی مہارت اپنی مثال آپ ہے۔ قوالی کی روایت سے پلے بیک گائیکی تک کا سفر اُن کے لیے محض Genre کی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایک خوش گوار ارتقاء ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بالی وُڈ نے اُنہیں عظیم موسیقاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا موقع دیا، اور اس سنگت نے اُن کے فن کو نئی جہتیں عطا کیں۔ اگرچہ روایت پسندوں نے اس موڑ پرسوالات بھی اٹھائے مگر راحت کے نزدیک یہ سرگوشیاں ناگزیر تھیں۔

راحت وہ ہیں کہ جنہوں نے چھے سات برس کی بالی عُمر میں اپنے مرشد کے ساتھ قوالی کا آغاز کیا، اور اب وہ ہرصنف میں حُسنِ نغمہ تلاش کرنے کے قائل ہیں۔ہم نے پاکستان فلمی صنعت کے بارے میں پوچھا تو اُن کی آواز میں ایک ہلکی سی حسرت جھلکنے لگی۔ کہنےلگے کہ صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، مگروسائل کی قلت ایک زنجیربنی ہوئی ہے۔ راحت چاہتےہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو حکومتی سرپرستی ملے تاکہ خوشبو بھرے خوابوں اور سُر بَھرے سپنوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

چلیے، مزے کی بات سُنیے۔ بیرونِ مُلک ایک ناچتے گاتے، سرکتے تھرکتے کانسرٹ کے بعد ملاقات کے دوران ہم نے راحت سے پوچھا کہ عالمی نوبل امن ایوارڈ کی تقریب میں نغمہ سرا ہونے والے پہلے پاکستانی بننے پر کیا احساسات تھے؟اور یہ بھی کہ آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ایک میوزک رُوم کا نام اُن کے نام پر رکھا گیا تو اُن کی کیا کیفیت تھی؟ راحت خُوب پُرلطف آدمی ہیں۔ اُن کے کچھ ایکسپریشنز عام لوگوں سے بہت ہٹ کر ہیں۔

محمّد رفیع صاحب کا لازوال گیت یاد آتا ہے کہ ’’اشاروں اشاروں میں دل لینے والے! بتا یہ ہُنر تُونے سیکھا کہاں سے؟‘‘ راحت نے ہمارے دونوں سوالوں کا جواب اشاروں اشاروں میں یعنی کانوں کو ہاتھ لگا کرآسمان کی طرف دیکھ کر خاموشی سے دیا۔ عاجزی اور تشکر کےاظہار کا یہ نہایت سُریلا طریقہ ہے۔ حسن بادشاہ کا ذکرہم نےپہلے بھی کیا۔ وہ صدارتی ایوارڈ یافتہ بانسری نواز باقر عباس کےچھوٹے بھائی بھی ہیں۔ راحت کی شخصیت کے حوالے سے ہم نے اُن سے تفصیلی بات کی۔

کہنے لگے کہ راحت میں جو عادت سب سے واضح ہے، وہ اُن کی انسان دوستی اور سُر سےمحبّت ہے۔ راحت کوجہاں سچا سُر سُنائی دے اور سچا سُریلا دکھائی دیے، وہ اپنا تمام تر Stardom ترک کر کے، شہرت کے سنگھاسن سے اُتر، مقبولیت کا تاج اُتار کے سلیبریٹی ہونے کا تمغہ ایک طرف رکھ کےسُراورسُریلے سے بغل گیر ہوجاتے ہیں۔ بادشاہ بھائی ہی نے بتایا کہ بعض بڑے فن کاروں میں فن و ہنر کے دنیاوی اعزازیے کی ادائی کے حوالے سے دیر سویر ہوجاتی ہے۔

راحت ایسے بالکل بھی نہیں ہیں۔ سُر کی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی، لیکن طے شُدہ اعزازیہ وقت پر تمام ٹیم ممبرزتک پہنچانا راحت کی شخصیت کی پہچان ہے۔ بادشاہ بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ راحت کے فارم ہاؤس والے اسٹوڈیو میں تھے۔ بادشاہ اپنی ہی بنائی ہوئی ایک میٹھی دُھن کو راحت کے لیے ترتیب دے رہے تھے۔ کام مکمل ہوا، نصف شب سے زیادہ گزر چُکی تھی۔ بادشاہ تھکن سے چُور رُخصت کے لیے کھڑے ہوئے کہ راحت نے اُنہیں پل بھر کو روکا، اندر کمرے میں گئے، واپس آئے تو اُن کے ہاتھ میں ایک لحیم شحیم لفافہ تھا۔

کہنے لگے۔ ’’بادشاہ بھائی! فن کی قیمت چُکانا ممکن نہیں، لیکن یہ میری طرف سےمحبّت کا نذرانہ آپ کی نذرہے۔‘‘ اور بادشاہ کے بقول، وہ طے کردہ سے بھی کئی گنا زیادہ محبّت تھی۔ یہ یقیناً ایک بڑے فن کار ہی کی نشانی ہے۔ اِس ناچیز کے لکھے ہوئے دو گیت راحت ریکارڈ کر چُکے ہیں اور بہت جلد راحت فتح علی خان، رحمان فارس اور حسن بادشاہ کی ٹیم کے یہ شاہ کار منظرِعام پر آنے والے ہیں، ان شااللہ۔

صاحبو! کسی بھی بڑے فن کار کا گھر اُس کے ذوق کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بدھائی ہو کہ بیدیاں روڈ پر واقع راحت کا عالی شان فارم ہاؤس (جو اُن کے نزدیک تو ایک سادہ سا آشیانہ ہی ہے) موسیقی کے ایک مدُھر مسکن میں ڈھل چُکا ہے۔ راحت اپنی آواز کے ہر ارتعاش کو وہیں سنوارتے نکھارتے ہیں تاکہ سامعین تک صرف باکمال بازگشت ہی پہنچے۔ حال ہی میں ’’عشقِ ممنوع‘‘ کا ٹائٹل سونگ بھی اِسی خلوت کدے میں جنما اور یہیں اُن کے آئندہ البم کے تمام سُر پروان چڑھ رہے ہیں۔

ہمارا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ راحت قوالی میں حال کھیل رہے ہوں کہ بغیر قوالی حالتِ حال میں ہوں، اُن کی معصومیت بامِ عروج پر ہوتی ہے۔ امریکا میں ہم مشاعرے پڑھنے جہاں جہاں بھی گئے، پاکستانی امریکن کمیونٹی نے مشاعروں کے ساتھ میوزک ایونٹ کی گفتگو میں ایک نام کا مسلسل الاپ سرِفہرست کیا، یعنی راحت فتح علی خان۔ اُس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ راحت کے کھرج میں نُصرت گونجتے ہیں اور اُس گونج کو راحت نے مدھم ہونےدیا، نہ ماند پڑنے۔

وہ قوالی میں محو ہوں یا غزل میں مست، گیت گنگنائیں یا الاپ دُہرائیں، سُر سَچّا سُچّا ہی رہتا ہے۔ مینڈھ کا چمتکار دکھائیں یا کھٹکے کا، اندولن میں سُروں کا رقص دکھائیں یا پلٹے میں پلٹ پلٹ کر آئیں، آپ راحت کو سُنتے ہیں تو صرف راحت ہی کو نہیں سُنتے، اُن کے پیچھےاُن کےکاندھے تھپتھپاتے شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کی آواز بھی گونجتی ہے اور فرخ فتح علی خان کا ہارمونیم بھی۔ سو، صاحبو! راحت فتح علی خان کا کوئی بھی گیت لگائیے، آنکھیں بند کیجےاور اُس فردوسِ گوش میں کھو جائیے کہ جہاں ہر آواز سُریلی اور ہر تان رسیلی ہے۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید