• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بحیرۂِ روم(بحرِ متوسّط) کے مشرقی ساحل پر واقع، لبنان خُوب صُورت لوگوں کا ایک ایسا لہولہان مُلک ہے، جہاں خون ریزی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ لبنان کے ساتھ اِسی ساحلی پٹّی پر یہودیوں کی ناجائز ریاست، اسرائیل ہے۔ دونوں میں سرحدی تنازع بھی ہے۔ صیہونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے بعد تو فلسطین کے ساتھ لبنان بھی مسلسل بحرانوں اور لڑائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ لبنان کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہ مُلک اکثر فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی شکار رہتا ہے۔

یہاں عیسائی، شیعہ اور سُنّی مسلمانوں کے علاوہ شیعہ فرقے سے نکلے ہوئے ایک اور فرقے،’’دروز‘‘کے بھی پیروکار رہتے ہیں، جن کے درمیان بہت سے اختلافات بھی ہیں۔ دراصل، پہلی عالمی جنگ کے بعد بڑی طاقتوں کے تخلیق کردہ عالمی ادارے’’لیگ آف نیشنز‘‘ کے مینڈیٹ پر عراق اور فلسطین، برطانیہ کے ماتحت آئے، جب کہ شام اور لبنان پر فرانس کا قبضہ ہوا اور یہ استعماری قوّتیں اپنے زیرِ قبضہ ممالک سے رخصت ہوتے ہوئے وہاں پیچیدہ اور جنگوں کی بنیاد بننے والے مسائل تخلیق کر گئیں۔

کشمیر، فلسطین اور لبنان کے مسئلے اِنہی قوّتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ فرانس نے لبنان کو ایک الگ، آزاد مُلک کا درجہ تو دے دیا، لیکن جاتے ہوئے وہاں مذہبی فرقہ واریت کی بڑی چنگاری چھوڑ گیا۔ بعدازاں، اِس مذہبی تقسیم اور فرقہ واریت کو لبنان اور شام، دونوں ممالک میں پختہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے، یکم ستمبر1921 ء کو جنرل ہینری گورائود نے’’گریٹر لبنان‘‘ کا اعلان کیا۔ دنیا کے کم و بیش ہر مُلک میں مختلف نسلی، لسانی اور مذہبی اکائیاں ہوتی ہیں، مگر وہ پُرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت شِیر و شکر ہو کر رہتی ہیں۔

تاہم، فرانسیسی انتظامیہ نے لبنان میں قومی شعور پختہ کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ منافرتوں کے بیج بوئے اور تین مذہبی فرقوں پر مشتمل حکومت کا ایک ایسا دستوری فارمولا نافذ کیا، جس کے تحت تینوں فرقوں کی آپس میں چپقلش شروع ہو گئی۔ دستور کی رُو سے طے ہوا کہ اِس نئے مُلک کا صدر مارونی عیسائی، وزیرِ اعظم سُنّی اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شیعہ ہوگا اور اِسی تقسیم نے حکومتی نظام کو کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا۔

لبنان میں عسکریت پسندی کی اصل بنیاد مارونی عیسائی چرچ کے پیروکار، پیرے جمائل (Pierre Gemayel)نے رکھی تھی۔ اُس نے ہٹلر کی فاشسٹ پارٹی کے ڈسپلن سے متاثر ہو کر 1936ء میں’’کتائب پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی، جسے ’’Phalange Party‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس عیسائی کتائب پارٹی کی اسرائیل سے ہمیشہ قربت رہی ہے۔ اِس عیسائی عسکریت پسند تنظیم کے بعد فلسطین کی آزادی کے لیے بھی متعدّد پارٹیاں وجود میں آئیں، جن کے اتحاد سے’’تنظیمِ آزادیٔ فلسطین‘‘ (PLO) متعارف ہوئی، جس میں شامل کئی دھڑے عسکری جدوجہد کے قائل تھے۔

اُدھر شیعہ کمیونٹی نے بظاہر اسرائیل کے مقابلے کے لیے 1982ء میں’’حزب اللہ‘‘ کے نام سے ایک عسکری تنظیم قائم کی۔ عباس الموسوی اس کے ابتدائی لیڈر اور سیکرٹری جنرل تھے اور صبحی الطفیل 1989ء سے 1991ء تک اس کے سیکرٹری جنرل مقرّر ہوئے، جب کہ حسن نصراللہ تنظیم کے بانی ارکان میں سے تھے اور 1992ء میں اس کے ہمہ مقتدر لیڈر بن گئے۔ 2024ء میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی اور حسن نصر اللہ اپنے متعدّد ساتھیوں سمیت شہید کر دیئے گئے۔

لبنان کے لیے داخلی طور پر ایک مشکل یہ پیدا ہوئی کہ حزب اللہ نے لبنانی حکومت کے تابع رہنے کی بجائے ایران کے انقلابی گارڈز کے زیرِ اثر ایک متوازی حیثیت اختیار کر لی، جس کی وجہ سے بار بار سیاسی اور انتظامی بحران پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اِس ماحول میں وزیرِ اعظم اکثر بے بس ہوتا ہے۔ تینوں اکائیوں کو آبادی میں مقبولیت کے لحاظ سے نہیں، بلکہ بندوق کی نالی سے ترجیح ملی، تو حزب اللہ نے سُنّی وزیرِ اعظم کو اکثر’’معطّل‘‘ ہی رکھا، جب کہ لبنانی عیسائیوں نے بھی اپنے مسلّح جتّھے بنائے، جنہیں اسرائیلی سرپرستی حاصل رہی ہے۔

یہ جس مُلک کو پہلی جنگِ عظیم کے بعد سے’’ لبنان‘‘ کہا جاتا ہے، قدیم تاریخ میں 2900قبلِ مسیح سے 1000قبلِ مسیح تک اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہودیوں کی مذہبی کتاب تورات میں ستّر سے زیادہ مرتبہ یہ نام آیا ہے اور اگر جغرافیائی اور قدرتی علامتوں کے لحاظ سے شمار کیا جائے، تو تقریباً ایک سو بار اِس کا ذکر آیا ہے۔ رومی، اموی، عباسی عہد میں اور پھر عثمانی خلافت کے عرصے میں بھی یہ مسلم سلطنت کا حصّہ تھا، لیکن پہاڑی وادیوں کا انتظام قبائلی سرداروں ہی کے ہاتھ میں رہا۔

لبنان میں خانہ جنگی کے شعلے بھی بھڑکتے رہتے ہیں اور یہ اسرائیلی جارحیت کا بھی نشانہ بنتا ہے۔ اندرونی شورشوں سے پہلے یہ مُلک علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ قاہرہ کے بعد سب سے زیادہ پبلشنگ کا کام بیروت میں ہوتا تھا اور اعلیٰ معیار کی کتابیں شائع ہوتی تھیں۔ استعماری قوّتیں جہاں جہاں قابض رہیں، وہاں اُنہوں نے عیسائی مشنز متحرّک کیے۔ ان کی مہمّات کا مقصد مذہبی بنیادوں پر عیسائی آبادی کا تناسب بڑھانا اور مغربی کلچر کو مقبول بنانا تھا۔ چناں چہ لبنان میں فرانسیسی تسلّط کے دوران تبدیلیٔ مذہب کا عمل تیز رہا، عیسائی آبادی میں اضافہ ہوا اور لبنان میں مغربی کلچر بھی مقبول بنایا گیا۔

پندرہویں اور سولھویں صدی میں جس طرح اٹلی احیائے علوم کا مرکز بنا، اِسی طرح فرانس مغربی ثقافت کا محور کہلایا۔ گزشتہ صدی کے وسطی عرصے میں بیروت کو’’مشرق کا پیرس‘‘ کہا جاتا تھا۔ خانہ جنگی میں مسلّح ملیشیا کا اہم کردار ہوتا ہے اور اگر اس کردار کی بنیاد تلاش کی جائے، تو لبنانی عیسائی اس کے موجد قرار پائیں گے۔ دو لبنانی صدور، بشیر جمائل اور امین جمائل کا والد، پیرے جمائل فاشسٹ پارٹی فلنگسٹ کا بانی تھا۔ وہ 1930ء سے 1984ء تک لبنانی سیاست کا انتہائی اہم کردار رہا۔

اُس نے اپنی پارٹی’’کتائب‘‘ یا’’فلنگے پارٹی‘‘ (Phalange Party) کی بنیاد1936 ء میں رکھی تھی۔ یہ پارٹی موروثی نوعیت کی رہی ہے۔ پیرے جمائل 2006ء میں لبنان کا وزیرِ صنعت تھا، تو اِسی دوران21 نومبر2006 ء کو کچھ نامعلوم اسلحہ برداروں نے اُسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ شام کا ڈکٹیٹر، حافظ الاسد اور اس کا بیٹا بشارالاسد بھی لبنان کے معاملات میں بہت زیادہ دخیل رہے۔ حزب اللہ ایرانی شیعہ سوچ سے وابستہ تھی، لیکن الاسد خاندان کی سرپرستی بھی اُسے حاصل رہی ہے۔

پیرے جمائل کے قتل کا الزام’’سیرین سوشلسٹ نیشنلسٹ پارٹی‘‘ پر لگا، جو 1932ء میں ایک لبنانی عیسائی، انطون سعادہ نے تشکیل دی تھی اور یہ شام، لبنان اور خطّے کے دیگر ممالک سے آپریٹ ہوتی تھی۔ پیرے جمائل کے دو بیٹے، بشیر جمائل اور امین جمائل اپنے والد کے پے در پے جانشین بنے اور دونوں قتل ہوئے۔ اب’’کتائب پارٹی‘‘ کا ساتواں لیڈر پیرے جمائل کا پوتا، سامی جمائل ہے، جو اپنی پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ کا رُکن بھی ہے۔

ریاست کی جڑوں میں فرانس نے جو فرقہ واریت انڈیلی، اُس کے نتیجے میں لبنان میں سیاسی قتل، گویا ایک روایت بن گئی۔ بشیر جمائل صدر منتخب ہونے کے بعد اور منصب سنبھالنے سے پہلے 14ستمبر1982ء کو قتل کر دیئے گئے۔ صدر رینیہ معوض بھی صدارت کے عُہدے کا حلف اُٹھانے کے صرف سترہ روز بعد قتل ہوئے۔ اُن کی گاڑی میں بم رکھ دیا گیا تھا۔ اِسی طرح تین وزرائے اعظم بھی مارے گئے۔

لبنان کی آزادی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے پہلے وزیرِ اعظم، ریاض الصلح 17نومبر1951ء کو اردن کے دارالحکومت میں قتل کیے گئے۔ یکم جولائی 1987ء کو ایک اور وزیرِ اعظم، رشید کرامی مارے گئے۔ تیسرے وزیرِ اعظم رفیق الحریری 14فروری 2005ء کو بیروت میں مارے گئے۔ ان کے علاوہ دو وزیر طونی فرنجیہ اور کمال جنبلاط بھی گولیوں یا بم دھماکوں کا نشانہ بنے۔ یوں اِس مُلک میں تقریباً 37سیاسی قتل ہوچُکے ہیں۔

’’امل ملیشیا‘‘ اور’’حزب اللہ‘‘دونوں شیعہ تنظیمیں ہیں، البتہ اِن میں فرق یہ ہے کہ امل تنظیم ایران کے پاسدارانِ انقلاب یا الاسد خاندان سے رہنمائی نہیں لیتی تھی۔ یہ خالص لبنانی جماعت ہے، جو ایک ملیشیا کی صُورت وجود میں آئی اور پھر اس نے سیاسی کردار اختیار کر لیا۔ یہ لبنان کی شیعہ کمیونٹی کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔

اس کے رہنما نبی برّے مسلسل ساتویں بار لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ حزب اللہ کو غیر مسلّح کرنے کے حامی ہیں۔1980ء کے عرصے میں دونوں تنظیموں کے درمیان بیروت کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش پر سخت کشمکش بھی رہی۔ حزب اللہ کے مقتول رہنما، حسن نصراللہ اِس جماعت کی قیادت سنبھالنے سے پہلے امل تنظیم سے وابستہ رہے تھے۔

اسرائیلی ریاست نے اُس وقت کی سب سے بڑی سام راجی قوّت، برطانیہ کے سائے میں جنم لیا۔ صیہونی دہشت گردوں نے’’اعلان بالفور‘‘ کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی زمینیں اور مکان دھوکے یا جبر سے چھیننے شروع کر دیئے تھے۔ کچھ مال دار لوگ فلسطین میں نہیں رہتے تھے، لیکن اِس کے باوجود اُنہوں نے وہاں وسیع جائیدایں بنا رکھی تھیں اور ایسی جائیدادوں پر آسانی سے قبضہ ہو رہا تھا۔ غریب کسانوں سے دھوکے یا جبر کے ذریعے اُن کی زمینیں چھینی جا رہی تھیں۔

یہودی قبضہ مافیا کے خلاف ردّ ِعمل بھی ہوتا اور فسادات کی آگ بھی بھڑک اُٹھتی۔ ارد گرد کے مسلمان حُکم ران شاید ہی کبھی فلسطینیوں سے مخلص رہے ہوں۔ اردن کے شاہ حسین نے جب تنظیمِ آزادیٔ فلسطین کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ سمجھ کر اردن سے نکال دیا، تو یاسر عرفات نے لبنان کو اپنا مرکز بنایا۔ اُسی عرصے میں اردن اور دیگر مقامات سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مہاجرین لبنان جا کر بس گئے۔

یوں وہاں صابرہ اور شتیلا نام کے دو کیمپ ایک ڈسٹرکٹ کی صُورت آباد ہوئے۔1980 ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ عیسائی’’فلنگے پارٹی‘‘ وہاں اسرائیل کی پراکسی تھی۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع، ایریل شیرون، جو بعدازاں وزیرِ اعظم بھی بننے والا تھا، فلسطینیوں کے خون کا پیاسا تھا۔ اُسی کی سرپرستی میں فلنگے پارٹی نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے قتلِ عام کا منصوبہ بنایا۔

صابرہ اور شتیلا کے مہاجر کیمپس میں کچھ لوگ یاسر عرفات کی تنظیمِ آزادیٔ فلسطین سے ہم دردی یا عملی تعلق ضرور رکھتے تھے، لیکن زیادہ تر وہ بے گھر اور بے وطن لوگ تھے، جنہیں کہیں مستقل ٹھکانا نصیب نہیں ہو رہا تھا۔ فلنگے پارٹی کے اِس انسانیت سوز منصوبے پر عمل چھے سے آٹھ ستمبر 1980ء کے درمیان ہوا۔ عیسائی فلنگے پارٹی کے دہشت گرد فلسطینی کیمپس پر حملہ آور ہوئے اور بے دریغ قتل و غارت گری کی۔

ساڑھے تین ہزار افراد کو درندوں کی طرح مارا اور کاٹا گیا۔ فلسطینیوں کے لیے یہ ایک بڑا رُوح فرسا اور ناقابلِ فراموش سانحہ تھا، جس اب بھی بڑے کرب کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اِس المیے کی گونج پوری دنیا میں سُنائی دی۔ اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اِس کی سخت الفاظ میں مذمّت کی۔

خانہ جنگی بظاہر تو لبنان کی سیاسی اور مذہبی گروپس کے درمیان ہوتی رہتی تھی، لیکن کچھ واقعات ہوتے تو دہشت گردی یا تخریب کاری کے ہیں، لیکن اُنہیں ’’اتفاقی واقعہ‘‘قرار دے دیا جاتا ہے۔ 4اگست 2020ء کو بھی ایک ایسا ہی ہیبت ناک واقعہ رُونما ہوا۔ دو ہزار، سات سو، پچاس ٹن امونیم نائٹریٹ (Ammonium nitrate) ایک جہاز سے بیروت پورٹ پر اتاری گئی۔ درآمد کرنے والا مالک غائب ہو گیا۔ بندرگاہ کے عملے کی رشوت خوری اور غفلت کی وجہ سے اُسے درست طور پر اسٹور نہ کیا گیا اور پھر اچانک بیروت کی فضا دھماکوں سے گونج اُٹھی۔ اِس ذخیرے میں دھماکا کیسے ہو گیا؟

اِس حوالے سے تحقیق کے کوئی ٹھوس نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے، البتہ آتش گیر مادّے سے جو دھماکے ہوئے، اُنہوں نے آدھا بیروت شہر تباہ کر دیا۔ اِس ہول ناک آگ میں کم و بیش بیس ممالک کے شہری بھسم ہوئے۔ یقینی طور پر یہ بھی ایک تخریبی کارروائی تھی۔ حالیہ جنگ میں بھی اسرائیل نے لبنان پر بدترین جارحیت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جس سے انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ، بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا۔ یوں ایک عرصے سے لبنان کی سرزمین خون سے دھوئی جا رہی ہے۔

(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید