ایرانی انقلاب کے بعد مُلک سے فرار ہو کر مصر میں پناہ لینے اور وہیں فوت ہونے والے ایرانی بادشاہ محمّد رضا شاہ پہلوی کا 65 سالہ بڑا بیٹا، رضا شاہ ثانی اسرائیل اور امریکا کی ایران پر جارحیت کے دَوران بہت سرگرم ہے اور وقتاً فوقتاً ایرانی عوام کے نام ایسے پیغامات جاری کرتا رہتا ہے، جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ گویا ایران کا حُکم ران بن چُکا ہے۔
دراصل، اُسے امریکا، اسرائیل اور مغربی قوّتوں نے یقین دِلایا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے گا اور ایرانی عوام بھی مذہبی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے، تو مذہبی قوّتوں کا اقتدار ختم ہو نے کے بعد اُسے بطور شاہِ ایران تخت پر بٹھا دیا جائے گا۔
بظاہر وہ سیکولر جمہوری نظام قائم کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن اُس کا اصل خواب محمّد رضا شاہ پہلوی ثانی کی حیثیت سے بادشاہت کا اِحیاء ہے، لیکن جنگ میں ایک تو ایران کی مزاحمت حیران کُن ثابت ہوئی، دوم عوام نے جب مقابلے میں امریکا اور اسرائیل کو دیکھا، تو حکومت کے ساتھ کھڑے ہو گئے، لہٰذا بظاہر مذہبی حکومت تبدیل ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
امریکا اور برطانیہ کے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطّے اور ایران میں غیر معمولی اثرات اور دل چسپی کے اسباب کسی سے پوشیدہ نہیں، جس کے نتیجے میں ایران میں شاہی نظام کا خاتمہ ہوا۔ یاد رہے، رضا شاہ پہلوی کے تخت نشین ہونے سے پہلے یہاں قاجار خاندان کی حکومت تھی اور رضا شاہ اِسی حکومت کی فوج میں بریگیڈیئر تھا، لیکن جب قاجار خاندان کے زوال کے آثار گہرے ہوئے، تو بریگیڈیئر صاحب نے تخت پر قبضہ کر لیا اور پہلوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ رضا شاہ پہلوی نے اپنے بیٹے محمد رضا شاہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے سوئٹزرلینڈ بھیجا تھا، جہاں وہ مغربی طرزِ زندگی اور یورپی تہذیب کا گرویدہ ہوگیا۔
امریکا اور برطانیہ کی تعمیر و ترقّی، جدید رہن سہن نے اُسے اتنا متاثر کیا کہ وہ ذہنی طور پر اُن کا غلام ہی بن گیا اور1939 ء میں جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی، تو روس اور برطانیہ کو لگا کہ رضا شاہ پہلوی جرمنی کا ساتھ دے گا، تو اُنہوں نے اپنے تیار کردہ مُہرے، رضا شاہ پہلوی کے بیٹے، محمّد رضا شاہ پہلوی کو آگے کردیا، جس نے اپنے ہی باپ کو جلاوطن کر دیا۔ نیتیجتاً رضا شاہ پہلوی پہلے برطانوی کالونی ماریشس اور پھر جنوبی افریقا میں پناہ گزیں ہوا۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں کہ امریکا اور اُس کے حلیف مغربی ممالک کو مسلم ممالک میں خالص جمہوریت کبھی گوارا نہیں ہوئی۔ اُنہیں اپنے مفادات کا تحفّظ ہمیشہ بادشاہوں، شیخوں، امیروں اور فوجی آمروں کی مُطلق العنان حکومتوں ہی میں یقینی نظر آتا ہے۔ ایران میں تیل کے ذخائر1901 ء میں ایک برطانوی نژاد آسٹریلوی کان کن، ولیم کنوکس کے ڈی آرسی (William Knox D. Arcy)نے دریافت کیے تھے اور جب 1909ء میں ایران میں تیل کے مزید وسیع ذخائر کا انکشاف ہوا، تو اُسی نے اینگلو پرشین آئل کمپنی بنائی تھی۔
برطانیہ نے اس تیل کا51فی صد حصّہ اپنے نام کر کے اسے اپنی نیوی کا سرمایہ قرار دے دیا اور بعد میں اُسی کان کُن ولیم کنوکس نے ایران سے صرف16فی صد حقیر سے منافعے کا وعدہ کر کے تیل کی ساری دولت برطانیہ کے نام کردی، کیوں کہ ایرانی شاہی خاندان کو قومی وقار اور عوامی مفاد کی بجائے صرف اپنی عیّاشیوں سے غرض تھی۔
محمّد رضا شاہ پہلوی کی قومی مستقبل کے اِس اہم مسئلے پر کوئی توجّہ ہی نہیں تھی اور یہی وہ حالات تھے، جن میں وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمّد مصدّق نے تیل کے ذخائر کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تیل کے ذخائر سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ تب امریکا اور برطانیہ کی خفیہ ایجینسیز نے یہ چال چلی کہ پریس کے بعض شاہ پسند حلقوں کی ذہن سازی کی کہ وزیرِ اعظم، بادشاہ کو معزول کر کے ایک کمیونسٹ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے، ایرانی قوم ایک شاہ پسند قوم ہے، تو اِس ضمن میں عوام کے جذبات بھی اُبھارے جا رہے تھے۔ یعنی امریکی خفیہ ایجینسی، سی آئی سے اور برطانوی خفیہ ایجینسی، ایم آئی 6 کئی محاذوں پر تخریبی کارروائیاں کر رہی تھیں۔
ڈاکٹر مصدّق ایک قوم پرست، منتخب وزیرِ اعظم تھے اور تیل کے ذخائر قومی تحویل میں لینے کے فیصلے پر پارلیمنٹ کی اکثریت اُن کے ساتھ تھی، لیکن امریکی اور برطانوی خفیہ ایجینسیز نے ارکانِ پارلیمنٹ کے ضمیر خریدنے کے لیے اُنہیں بھاری رشوتیں دیں۔
متعدّد ارکان بِک گئے، کچھ نے خاموشی اختیار کر لی اور کچھ وزیرِ اعظم کی معزولی تک اُن کے ساتھ رہے۔ ڈاکٹرمصدّق کمیونسٹ نہیں تھے، بلکہ دستوری، جمہوریت پسند قوم پرست لیڈر تھے۔ اُن میں غیرت اور قومی مفاد کی حفاظت کا جذبہ موجود تھا۔ اُنہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ایران کی تیل جیسی قومی دولت برطانیہ کے کنٹرول میں رہے۔ بہرحال، وہ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے بیچ سخت کشمکش کا زمانہ تھا۔
امریکا اور روس، مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حلیف ڈھونڈتے اور اُنہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ امریکا نے ڈاکٹر مصدّق کو شاہی نظام کا مخالف قرار دے کر اُن پر کمیونسٹ کا لیبل لگایا اور عوام میں اُن کے خلاف بغاوت کے جذبات بھڑکائے۔ سی آئی اے اور ایم آئی-سِکس نے فوج اور بیوروکریسی میں اپنے ایجنٹ تلاش کر لیے تھے۔ فوج میں بادشاہ کے حامی عناصر کو آلۂ کار بنایا گیا۔ چناں چہ، جنرل فضل اللہ زاہدی کی قیادت میں ایک فوجی گروہ نے19 اگست 1953ء میں ڈاکٹر مصدّق کا تختہ اُلٹ دیا اور بادشاہ نے ایک فرمان کے ذریعے اِس اقدام کی توثیق کر دی۔
جمہوریت اور اسلام پسند عناصر نے اِن اقدامات کی سخت مخالفت کی۔ اسلام پسند طبقہ بادشاہ کے اسلام مخالف، لبرل مغربی مزاج اور اقدامات سے نالاں تھا اور جمہوریت پسند سیاست دان، جمہوریت کے قتل پر سیخ پا تھے۔ ایران میں بازار کی تاجر برادری کی ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے۔ تاجر اور طلبہ بھی شاہ کے خلاف تھے۔ آگے چل کر برطانیہ کی جگہ امریکا نے دنیا میں سُپر پاور کی حیثیت اختیار کی اور روسی کمیونسٹ بلاک کے مقابل امریکی بلاک کھڑا ہو گیا۔ ایران سمیت خلیجی اور دیگر عرب ممالک میں جہاں جہاں ملوکیت تھی، اُنہوں نے امریکا کی تابع داری اختیار کر لی۔
شاہی آمریتوں کے مخالف سیاست دانوں اور عوام کے دِلوں میں اپنے حُکم رانوں سے شدید نفرت تھی۔ ملوکیت اور آمریت کا اپنا ایک مزاج اور خود ساختہ اصول ہوتا ہے کہ بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہر کسی کا مواخذہ اور محاسبہ کر سکتا ہے، لیکن اُس کے اعمال پر علماء، عوام، عدلیہ، فوج اور پریس کو سوال اُٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ بے لگام اور مُختارِ کُل ہوتا ہے۔ محمّد رضا شاہ پہلوی ایسا ہی ایک مُطلق العنان، مستبد اور جابر بادشاہ تھا۔ ایران کی ساری سرزمین، وسائل اور دولت کو اپنی ملکیت سمجھتا تھا۔ محمّد رضا شاہ پہلوی کی شان و شوکت اور عیش و عشرت اُس کے محل کی اینٹ اینٹ سے جَھلکتی تھی۔
بادشاہ کی دفتری نشست کے ساتھ سونے کا جڑائو فون، خواب گاہوں اور بیرونی نشست گاہوں میں زرنگار قیمتی فرنیچر،غسل خانوں میں سونے کے ٹب اور نلکے، الماریوں میں ہیرے، جواہرات، گویا اعلیٰ ترین شاہانہ تعیّش اور بے تحاشا اخراجات کے بے شمار نمونے محلّات میں نظر آتے تھے۔ مُلک کے اندر اور بیرونِ مُلک شاہی خاندان کی بے حساب دولت بینکس میں پڑی ہوئی تھی،جب کہ شاہِ ایران عوام کو بے دینی اور جدیدیت کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
محمّد رضا شاہ پہلوی سیاسی مخالفین کو قید کی سخت سزائیں دیتا تھا۔ شاہی جبرو ستم کا یہ حال تھا کہ بہت سے سیاست دان، قانون دان، طلبہ اور سیاسی جُہدکار جیلوں میں ٹھونسے ہوئے تھے۔ سیکڑوں پر کمیونسٹ ہونے کا الزام لگا کر اُنہیں وحشیانہ سزائیں دی گئیں اور بہت سے لوگ جیلوں میں مار دیئے گئے۔ ڈاکٹر علی شریعتی جیسے عالمی شہرت یافتہ اسکالر کو پہلے قید کی سزا دی گئی اور پھر جبراً جلاوطن کر دیئے گئے اور وہ اسی جلاوطنی میں پُراسرار حالت میں فوت ہوئے۔ اہلِ عِلم و دانش نے علی شریعتی کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔
اِمام خمینی ایک جیّد عالِمِ دِین بھی تھے اور ممتاز سیاست دان بھی۔ وہ شاہی نظام اور ایرانی ریاست پر امریکا کی بالواسطہ حکومت کے سخت مخالف تھے۔ قُم، ایران کی مذہبی اشرافیہ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں آٹھویں شیعہ اِمام، حضرت علی بن موسیٰ الرضاؒ کی ہم شیرہ، سیّدہ فاطمہ معصومہؒ کا مقبرہ ہے اور ایران کا سب سے بڑا حوزۃ العلمیہ، یعنی دینی درس گاہ بھی یہیں ہے۔ ایران کے اکثر معروف مذہبی رہنما قُم ہی کے پڑھے ہوئے ہیں۔ قُم کا مُلکی سیاست پر بھی گہرا اثر ہے۔
اِمام خمینی نے اِلٰہیات، تصوّف، فلسفہ اور شیعہ فقہ کا عِلم قُم ہی سے حاصل کیا تھا۔ علمائے قُم، رضا شاہ پہلوی کے مغربی طرزِ زندگی اور امریکی و برطانوی پالیسیز کی اندھی پیروی پر سخت نالاں تھے۔ امریکی اور یورپی کلچر کو مقبول بنانے کی مہم کو’’White Revolution‘‘کا نام دیا گیا تھا، جو سُرخ اشتراکی انقلاب کے متضاد کے طور پر استعمال ہوا۔ وہ شاہ کے کچھ قوانین، جن میں زرعی اصلاحات اور عہدِ اسلام سے قبل کے کیلنڈر کو قومی کیلنڈر قرار دینے کے بھی مخالف تھے۔
اِن ہی اسباب کی بنیاد پر قم کے علماء کی اکثریت شاہِ ایران کی سخت مخالف تھی اور اُن میں سب سے معروف و ممتاز، اِمام روحُ اللہ خمینی اور حسین علی منتظری جیسی شخصیات تھیں، جنہوں نے شاہی نظام کے خاتمے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ محمد رضا پہلوی کے وہ بطورِ خاص نشانہ تھے، اِسی لیے امام خمینی کو دو بار جیل بھیجا گیا اور پھر 4نومبر 1964ء کو اُنہیں تُرکی میں جلاوطن کر دیا گیا۔ وہاں سے کچھ عرصے بعد وہ عراق چلے گئے۔ تیرہ سال وہاں گزارے تھے کہ صدام حسین نے اُنہیں عراق سے نکال دیا اور وہ فرانس چلے گئے۔
انقلاب کے بعد وہ فرانس ہی سے وطن واپس آئے تھے۔ شیخ حسین علی منتظری کو 1960ء سے 1970ء کے عشرے میں کئی بار گرفتار کیا گیا اور بادشاہ کے بے رحم خفیہ ادارے’’ساواک‘‘ نے اُنہیں تشدّد کا نشانہ بنایا۔ محمّد رضا شاہ پہلوی اپنے آپ کو صرف ایران ہی نہیں، پورے مشرقِ وسطیٰ کا حاکم سمجھتا تھا۔ مصر کے فوجی آمروں سے اُس کے گہرے تعلقات رہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اُس کا بہت خوش گوار تعلق تھا، لیکن خلیجی ریاستوں کو وہ اپنا تابع تصوّر کرتا تھا۔ متحدہ عرب امارات میں بہت بڑی تعداد میں ایرانی بستے ہیں۔ اُن کے اسپتال، تعلیمی ادارے، مساجد، امام بارگاہیں، کلب اور بڑے کاروبار ہیں، مگر وہ اپنے آپ کو شاہ کی رعایا ہی تصوّر کرتے تھے۔
ابوظبی، دُبئی، شارجہ، عجمان، ام القوین، فجیرہ اور رأس الخیمہ کے انضمام سے 2دسمبر 1971ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم ہوئی۔ شروع میں رأس الخیمہ، امارات میں شامل نہیں تھا۔ بحرین اس کا حصّہ بنا، لیکن وہ جلد الگ ہو گیا اور رأس الخیمہ اِس نوزائدہ ریاست میں شامل ہو گیا۔ ابوظبی اس کا دارالحکومت قرار پایا اور شیخ زید بن سلطان النیہان صدر کے منصب پر فائز ہوئے۔
ایرانی بادشاہ نے اِس ریاست کے وجود میں آنے سے صرف دو روز پہلے اِس کے تین جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابوموسیٰ، طنب الکبریٰ اور طنب الصُغریٰ نام کے یہ جزائر اُسی آبنائے ہرمز کے ساتھ مغربی سمت میں واقع ہیں، جس کا اِن دنوں بہت ذکر ہو رہا ہے۔ جزیرہ ابو موسیٰ، شارجہ کی ملکیت تھا اور دوسرے دو جزائر رأس الخیمہ کی ملکیت تھے۔ یہ عمل شاہِ ایران کی ہوسِ مُلک گیری، چھوٹی اور کم زور ریاستوں پر اپنا دبدبہ قائم کرنے کی علامت تھا۔
امارات کے ایک متحدہ ریاست بننے کے بعد اِس ریاست نے اپنے یہ تینوں جزائر واپس لینے کے لیے کئی عالمی فورمز اور اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے، لیکن اُسے تاحال تک یہ جزیرے واپس نہیں ملے۔ دونوں ریاستوں میں باہمی مفاہمت کی ایک دستاویز بھی تیار کی گئی تھی کہ جزیرہ ابو موسیٰ کا انتظام ایران اور امارات مشترکہ طور پر چلائیں گے، لیکن ایران میں جب انقلاب آیا اور مذہبی عناصر کا اقتدار قائم ہوا، تو اُنہوں نے شاہ دَور کی مفاہمتوں اور معاہدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
امارات کے ایک ریاست کی شکل اختیار کرنے سے بہت پہلے، جب خلیج پر برطانوی استعمار کی عمل داری تھی، اُس نے اِن جزائر پر اِس بہانے قبضہ کیا تھا کہ یہاں اپنی فوج رکھ کر بحری قذّاقی کا قلع قمع کرے گا، لیکن جب برطانیہ یہاں سے رخصت ہوا، تو اِن جزائر سے متعلق یہ طے کر گیا کہ وہ قبائلی شیوخ، جن کے قبیلے کی حدود میں یہ جزیرے ہیں، یہ اُسی قبیلے کی ملکیت ہوں گے۔ اِسی اصول کے تحت شارجہ اور رأس الخیمہ کا اِن پر دعویٰ تھا، لیکن ایرانی شاہ نے یہ اصول تسلیم کرنے کی بجائے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا۔
خمینی انقلاب کے بعد جزیرہ ابوموسیٰ میں ایران نے انقلابی گارڈز کی چھاؤنی قائم کر لی اور اسے ایک بندرگاہ کا درجہ دے دیا۔ یہاں راکٹ اور میزائل سسٹم کا ایک اہم اڈّا بنایا گیا ہے۔ نیز، یہاں ایرانیوں کو آباد کر کے اسکول، اسپتال اور رہائشی کالونیاں بنا دی گئی ہیں۔ بہرکیف، دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع ہنوز برقرار ہے۔
(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)