جب خلائی جہاز ’’اورین‘‘ کے خلابازوں نے10اپریل کو بحرالکاہل کے پانیوں پر لینڈ کیا، تو اس کے ساتھ ہی آرٹیمس- دوم (Artemis II ) کے چاند مشن کا ایک اہم ترین مرحلہ مکمل ہوگیا۔ آرٹیمس-دوم امریکی خلائی ادارے، ناسا کا انسان کو تقریباً پچاس سال بعد ایک بار پھر چاند پر اُتارنے کا ایک نیا پروگرام ہے۔ اِس مشن کی کام یابی اِس لحاظ سے ایک تاریخی سنگِ میل ہے کہ اِس نے نہ صرف انسان کو ایک بار پھر خلا کی گہرائی تک کام یابی سے پہنچایا، بلکہ اب چاند پر اُترنے اور مستقبل میں مریخ فتح کرنے کی راہ بھی ہم وار ہوگئی ہے۔
تقریباً دس دن پر محیط اِس مشن نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ انسان ہی میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ زمین سےلاکھوں میل دُور، ایک اَن جان، پُرخطر خلا میں داخل ہو اور پھر کام یابی سے باحفاظت واپس بھی آجائے۔ اِس تاریخی خلائی سفر میں چار خلا باز شامل تھے۔
اِس مشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ چاند کے گرد جانے والے دوسرے مِشنز کے برعکس، اِس خلائی سفر میں ایک نیا راستہ ختیار کیا گیا، جسے’’فری ریٹرن ٹریجکٹری‘‘(Free Return Trajectory) کہا گیا۔ اِس راستے کی وجہ سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ خلائی مسافر چاند کے دُور والےحصّے کے گرد گھوم پِھر سکیں۔
دنیا کے کئی دوسرے ممالک، چین، فرانس، روس اور بھارت چاند، بلکہ مریخ تک اپنے خلائی جہاز پہنچانے میں کام یاب رہے، لیکن چاند پر انسان کو ایک بار پھر اُتارنے کا یہ پروگرام 54 سال بعد شروع ہوا ہے۔ واضح رہے، ناسا کی اپالو سیریز کے’’مِشن اپالو-11 ‘‘ کے ذریعے انسان نے پہلی بار 20 جولائی، 1969 ء میں چاند پر قدم رکھا تھا، جب کہ اِس سیریز کا آخری مِشن اپالو-17، دسمبر 1972ء میں انجام پایا۔
گزشتہ صدی میں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں فقید المثال پیش رفت دِکھائی۔ اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ اِس صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں جتنی ترقّی ہوئی، تاریخ میں اِس پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ حیرت انگیز اشیاء کا تصوّر الف لیلوی کہانیوں، جادو، جادوگروں، جِن بھوتوں اور پریوں کے قصّوں میں تو ملتا ہے، لیکن حقیقت میں اِس طرح کی چیزوں کا کہیں وجود نہیں تھا، جو آج سائنسی ترقّی کی بدولت ہر طرف دیکھی جاسکتی ہیں۔
پندرہویں صدی میں نشاۃِ ثانیہ کے بعد سائنس فِکشن کا دَور شروع ہوا، جس میں ایچ جی ویلز (H.G. Wells) اور جولز ورن (Jules Verne)جیسے سائنس فِکشن ماسٹرز نے سائنسی کمالات سے جادو کو حقیقت میں ڈھالنے کے خواب پیش کیے۔ ویلز نے’’ From the Earth to the Moon ‘‘میں پہلی بار انسان کے چاند تک سفر کی داستان بیان کی اور اُسے چاند تک پہنچنے کے خواب دِکھائے، جب کہ جولز نے’’ دی فرسٹ مین اِن دی مون‘‘ میں یہی کہانی ایک اور انداز میں پیش کی۔
اِسی طرح دیگر کہانیوں میں سمندر کی تہہ تک پہنچنے اور زمین کے گرد چکر لگانے جیسے تصّورات پیش کیے گئے۔ اِن کہانیوں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اِن کی بنیاد کسی سائنسی اصول ہی پر رکھی گئی۔ جیسے چاند کے سفر کی داستانوں میں گلیلیو اور نیوٹن کے یونی ورس اور کششِ ثقل کے اصول بروئے کار ہوتے دِکھائے گئے۔ اِن کہانیوں اور سائنس دانوں کے تجربات و مشاہدات نے مل کر انسان کو کائنات سے متعلق اپنے خواب حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔ یوں انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا جادو جگانا شروع کیا۔
ٹرین کا وجود میں آنا، کاروں کا سڑکوں پر دوڑنا، ہوائی جہازوں کا فضاؤں میں اُڑنا، آب دوزوں کا سمندر کی تہوں میں اُترنا اور پھر خلائی راکٹس، مصنوعی سیّاروں سے انٹرنیٹ اور موبائل فون تک کا سفر، سب انسان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ آج یہ جو ہر طرف آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا شور ہے، یہ بھی انسان کے سائنسی دنیا میں بڑھتے قدموں کی بدولت ممکن ہوا اور یہ اِس امر کا بھی ثبوت ہے کہ قدرت نے انسانی ذہن کو یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ جو سوچتا ہے، وہ کر گزرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ اور ہم پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائیں گے۔
آرٹیمس پروگرام، درحقیقت’’اپالو سیریز‘‘ کی دوسری قسط ہے۔ یاد رہے، آرٹیمس ایک یونانی دیو مالائی کہانی کی دیوی اور اپالو کی، جسے یونانی خدا کا درجہ دیتے ہیں، جڑواں بہن تھی۔ اس سے اپالو اور آرٹیمس پروگرامز کی علامتی ہم آہنگی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں کا مقصد انسان کو چاند پر اُتارنا ہے۔
جہاں اِس پروگرام کے ذریعے خلا میں مزید تحقیقات ممکن ہوئیں، وہیں انسان کو ایک بار پھر چاند پر اُتارنے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انسان کے مریخ پر جانے کا بھی آغاز ہوا، کیوں کہ اِس کے ذریعے چاند پر مستقل انسانی رہائش کے امکانات کا جائزہ لینا بھی ہے۔ سائنس دانوں میں اکثر کی رائے ہے کہ مریخ کے انسانی سفر کو دو حصّوں میں طے کیا جائے۔
پہلے چاند پر اُترا جائے اور پھر وہاں سے مریخ کی جانب سفر ہو۔ مریخ، سولر سسٹم میں زمین سے نزدیک ترین سیارہ ہے اور اب تک کے تجربات کے مطابق، اُس کی فضا زمین سے دوسرے سیاروں کے مقابلے میں زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ امریکا کے علاوہ چین، روس اور کئی یورپی ممالک مریخ کے گرد چکر لگا چُکے ہیں، یعنی یہ سیارہ انسانی پہنچ میں آچُکا ہے۔
ناسا کے آرٹیمس پروگرام کی کُل لاگت93 بلین ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ اِس مشن ٹو کا بنیادی مقصد خلائی جہاز میں نظامِ زندگی برقرار رکھنے والے آلات، رابطے کے نظام، جس میں زمین پر قائم کنٹرول سینٹر سے ہدایات لینی ہوتی ہیں اور خلا میں طویل سفر کے دَوران انسانی کارکردگی کو جانچنا تھا۔ یہ دورانیہ اِس مرتبہ تقریباً دس دنوں پر محیط تھا، جسے کام یابی سے پورا کیا گیا اور خلابازوں کو جو ٹاسک سونپے گئے تھے، اُنہیں اطمینان بخش طریقے سے پورا کیا گیا۔
خلائی سائنس دانوں کو اندازہ ہوگیا کہ اب اِس مشن کے ذریعے انسان کا چاند پر ایک بار پھر اُترنا ممکن ہوگا۔ ابھی تک دی گئی تاریخ کے مطابق، 2028ء میں چاند پر انسان کی لینڈنگ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق چاند پر اُترنے کے بعد واپسی زیادہ مشکل مرحلہ ہوتی ہے، کیوں کہ اِس کے لیے درست ٹائمنگ ضروری ہے۔ زمین کے مدار سے نکلنے کے بعد’’اورین‘‘ نے فری ٹریجکٹری کا راستہ اپنایا۔
یہ خلائی پرواز میں استعمال ہونے والا ایک ایسا راستہ ہے، جس میں خلائی جہاز بغیر کوئی اضافی ایندھن (Propulsion) استعمال کیے، کسی سیّارے (جیسے چاند یا زمین) کی کششِ ثقل کا استعمال کرتے ہوئے خود بخود واپس زمین کی طرف آ جاتا ہے۔
سفر کے دَوران اورین چاند کی سطح سے چار ہزار میل کے فاصلے تک جا پہنچا، جہاں سے خلانوردوں نے چاند کی سرزمین کی تصاویر اُتاریں اور کئی تجربات کیے۔ اِس سفر کا سب سے زیادہ فاصلے والا پوائنٹ زمین سے252000 میل تھا، جو انسانی خلائی سفر میں تاریخ رقم کرگیا۔ یہ پہلی بار ہوا کہ کوئی انسان بردار خلائی جہاز اس نقطے تک پہنچا۔ چاند کے گرد چکر لگانے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا، جس کا اختتام بحر الکاہل میں لینڈنگ سے ہوا۔
جہاں پہلے سے موجود عملے نے خلا بازوں کا استقبال کیا۔ اورین کی چاند سے واپسی نے ثابت کردیا کہ’’ناسا‘‘ ایک مرتبہ پھر چاند پر انسان کو اُتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آرٹیمس-وَن اور ٹو میں یہ فرق رہا کہ وَن بغیر انسان کے مکمل ہونے والا مشن تھا، جب کہ باقی تمام اجزاء اور طریقۂ کار وہی آرٹیمس-ٹو والا ہی تھا۔
اِس وقت دنیا میں خلائی تسخیر کی ایک دوڑ جاری ہے،جس میں امریکا ،روس، چین، جاپان اور بھارت سب شامل ہیں۔ اِنھوں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران بغیر انسان کے خلائی جہازچاند پراُتارے ۔ اِن میں 1966ء میں سوویت یونین کا لونا(Luna)چین کاچینگ-3،2013ء، بھارت کا چندریان2023 ءاور جاپان کا سِلم 2024 ء شامل ہیں، لیکن امریکا کےعلاوہ کوئی بھی مُلک چاند پر انسان اُتارنے میں کام یاب نہیں۔ اپالو11- کے خلاباز کے یہ الفاظ ’’One small step for man one giant leap for mankind ‘‘ تاریخ پر ثبت ہوچُکے ہیں۔
بہت سے لوگ اب تک اِس وہم میں مبتلا رہے کہ یہ امریکا کا فریب تھا، حالاں کہ آج چین، جاپان، روس اور بھارت بھی اپنے خلائی سیّارے چاند پر کام یابی سے اُتار چُکے ہیں، لیکن بہرحال، اِس معاملے میں امریکا کو سبقت حاصل ہے۔ اب تو دنیا چاند سے آگے بڑھ کر مریخ تک کا سفر طے کرچُکی ہے۔ حیرت اِس امر پر ہوتی ہے کہ لوگ موبائل فون پر اپنے گھر سے آٹھ ہزار میل دُور، آسٹریلیا کے کسی گاؤں میں موجود اپنے بھائیوں، دوستوں سے بات چیت تو کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اُنھیں چاند پر اُترنا ڈراما لگتا ہے۔ جو افراد آج کی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے کمالات سے ذرا سی بھی واقفیت رکھتے ہیں، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کی پہنچ لامحدود خلاؤں میں کہاں تک ہو چُکی ہے۔
مواصلاتی سیّارے اِسی اسپیس پروگرام کا حصّہ ہیں، جس سے ٹیلی ویژن عالمی دَور میں داخل ہوا۔ دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ امریکا میں تو اب خلائی سفر نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ایلون مسک کی کمپنی،’’اسپیس ایکس‘‘ وہ پہلی کمپنی ہے، جو عام افراد کو بھی خلائی سفر کی پیش کش کر رہی ہے۔ کیا معلوم وہ دن بھی جلد آجائے، جب سائنس فِکشن ایک حقیقت بنے اور انسانوں کا چاند سمیت مختلف سیّاروں میں آنا جانا ایک معمول کی بات بن جائے۔
اور یہ کوئی ایسی عجیب بات بھی نہیں، جس کا ہونا ممکن نہ ہو۔ آج مختلف ممالک کے مشنز مسلسل خلا میں آ جا رہے ہیں اور اِس طرح کا سفر ایک معمول بن گیا ہے، لیکن ایک صدی قبل تک کیا انسان اسے جادوئی کہانی نہیں سمجھتا تھا؟ فضا میں جہاز اُڑ رہے ہیں، جن میں عام لوگ سفر کر رہے ہیں، پہلے ایسا صرف جادوئی کہانیوں میں جن اور پریاں ہی کرتے تھے۔
آج پاکستان اور آسٹریلیا میں بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں، بلکہ کانفرنسز اور نجی تقریبات تک ایک دوسرے سے لائیو شیئر کرتے ہیں، مگر کچھ عرصہ پہلے تک ایسے تصوّر جادو سے تعبیر کیے جاتے تھے۔ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے میں ہمیں اپنے عظیم سائنس دانوں ابنِ سینا اور ابنِ رشد سے لے کر گلیلیو، نیوٹن اور آئن اسٹائن وغیرہ کو نہیں بھولنا چاہیے۔ سائنس، قدرت کا انسان کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے، جس کا شُکریہ ادا کرنا ممکن نہیں کہ اس نے جہاں زندگی کے معیارات بدل دیئے، وہیں انسانی سوچ و فکر کے لیے بھی تخلیق کے نئے نئے در وا کیے۔
آرٹیمس-ٹو کی کام یابی خلائی تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت ہے اور اِس مشن سے حاصل ہونے والے تجربات اسپیس ریسرچ کے نئے راستے کھولیں گے، جب کہ اِس مشن کی کام یابی سے آرٹیمس- 3 کی کام یابی کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں، جو اِس پروگرام کی آخری کڑی ہے، جس کے تحت انسان کو ایک بار پھر چاند پر اُتارا جائے گا۔
یا د رہے، اِس سے قبل اپالو-17کے ذریعے انسان نے چاند پر آخری بار قدم رکھا تھا، جس کے بعد اس پروگرام میں تعطّل آگیا، جس سے بہت سے شکوک وشبہات نے جنم لیا۔مثال کے طور پر یہی کہ اگر انسان واقعی چاند پر گیا تھا، تو اب اِتنے برس گزرنے کے باوجود دوبارہ کیوں نہیں جا رہا؟ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ اسپیس پروگرام اُن چند پروگرامز میں سے ایک ہے، جس میں ایک دوسرے کے مقابل بڑی طاقتیں بھی آپس میں تعاون کر رہی ہیں۔
روس، امریکا مشترکہ خلائی اسٹیشن پر دونوں ممالک کے خلا باز جاکر مہینوں گزارتے ہیں، حالاں کہ یہ دونوں عالمی طاقتیں زمین پر بظاہر ایک دوسرے کی دشمن ہیں۔ دراصل، اِن طاقتوں میں بھی ایک وسیع مفاہمت موجود ہے، وگرنہ سوویت یونین دنیا میں سب سے زیادہ ایٹم بم رکھنے کے باوجود کیوں بکھر گیا اور پھر امریکا نے اُس کی تعمیرِ نو میں بھرپور مدد کیوں کی؟ اگر کوئی چھوٹا مُلک یا کم زور قیادت ہوتی، تو اپنی بقا کے نام پر اپنے میزائلز اور ہائیڈروجن بم دنیا پر پھینک کر خود بھی تباہ ہوتی اور دوسروں کو بھی فنا کردیتی ہے۔
اسپیس میں امریکا، روس، چین، بھارت اور جاپان ایک دوسرے سے تعاون کے ساتھ معلومات بھی شیئر کرتے ہیں، اِسی لیے کسی کو اعتراض نہیں کہ امریکا یا کوئی دوسرا مُلک چاند یا مریخ پر کیوں جارہا ہے۔ بلاشبہ، آرٹیمس مشن خلائی سفر اور سیّاروں پر انسانی آباد کاری کے ضمن میں ایک نئے دَور کا آغاز ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چاند یا مریخ پر جانے کی بجائے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں پر توجّہ دینا زیادہ بہتر ہے، تو یہ بتانا ضروری ہے کہ خلائی تحقیق سے میڈیکل سائنس جیسے شعبے بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
خلائی تحقیق زمین کے سب سے بڑے چیلنج،’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ اِن مشنز سے حاصل ہونے والے نتائج سے زمین پر رُونما ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق پیش گوئی بھی آسان ہوتی جارہی ہے۔ زمین یا دوسرے سیّاروں کا درجۂ حرارت اور ماحول کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے، یہ سب معلومات بھی اکٹھی ہو رہی ہیں۔ نیز، سائنس دانوں کو یقین ہے کہ یہ مشنز نہ صرف چاند پر انسان کی آباد کاری ممکن بنائیں گے، بلکہ انسان کی مریخ تک رسائی کا خواب بھی جلد حقیقت بن جائے گا۔