اسلام کا فلسفۂ اخلاق اور قانونِ صحافت احترامِ انسانیت اور تکریمِ آدمیت کا درس دیتا ہے، لوگوں کی عزت نفس اور آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔’’ شرفِ انسانیت‘‘ اسلامی تعلیمات کا سنگ ِبنیاد ہے، لہٰذا ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ انسانوں کی آزادئ ضمیر اور عزتِ نفس مجروح کرے۔ حقوق العباد کا پاس و لحاظ اسلامی معاشرت کی بنیادی قدراور مسلمان کی عزتِ نفس پر حملہ بدترین گناہ ہے۔ (ابودائود/السنن، کتاب الادب، باب المواخات، 4/690)۔
ایک اسلامی ریاست کے ذرائع ابلاغ انسانی عظمت اور احترامِ آدمیت کے اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ ایسا کوئی عمل نہیں کرسکتے، جس سے انسان کی تحقیر و بے توقیری ہوتی ہو۔جیسا کہ حضوراکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی اس اصول کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس سے کنارہ کشی کرتا ہے۔‘‘(بخاری، الجامع الصحیح ،کتاب المظالم والقصاص، باب لایظلم المسلم علیٰ المسلم، 1/230)۔
حضور اکرمﷺ کا ایک اور ارشادِ گرامی ہے۔ ترجمہ:’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے، جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میں مامون رہیں۔‘‘(ایضاً، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون، 1/6)۔بے قید و بے لگام ذرائع ابلاغ معاشرے میں انتشار، بدامنی اور تخریب کاری کا ذریعہ ہیں۔
پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ لوگوں کی پگڑیاں اُچھالیں، عوام میں انتشار پھیلائیں اور لوگوں کی عزتِ نفس سے کھیلیں۔ قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ دل آزاری اور توہین آمیز رویّے سے گریز کریں۔
حجۃ الاسلام، امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ تعریض، تصریح، رمز و اشارات، تحریر و کنایات اور محاکات و نقالی ہر طریقے سے دوسروں کے عیوب بیان کیے جاسکتے ہیں اور ایک شخص کے اخلاق، دین و دنیا ہر چیز میں عیب نکالا جاسکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت پُرزور طریقے سے اس کی مذمّت کی ہے۔(سیّد سلیمان ندوی/سیرت النبیؐ، 6/349)۔
یہ عمل معاشرے میں محاذ آرائی اور نقصان کا باعث ہے، اسلامی معاشرہ یک جہتی کی فضا قائم کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ لہٰذا یہ اسلامی ریاست کی ذمّے داری اور ہر فرد کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں ان امور سے گریز اور اس کے مثبت، تعمیری استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
معاشرے کے تمام افراد کی ’’نجی زندگی‘‘ کا یقینی تحفّظ: اسلام فرد کی نجی زندگی (Privacy)کا تحفّظ کرتا ہے۔ وہ معاشرے اور ریاست کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شہریوں کی نجی زندگی کو بے نقاب کریں۔ اسلامی ریاست میں’’ Violation of Privacy‘‘ قابلِ قبول نہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ذرائع ابلاغ کا یہ کام نہیں کہ وہ عیب جوئی، غیبت، بدگمانی، لوگوں کے راز معلوم کرنے، معاملات کی ٹوہ لگانے اور کھوج، کرید میں مصروف ہو۔
اسی طرح تجسّس سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اسلام، ریاست کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ شہریوں کے معاملات کی ٹوہ میں لگی رہے یا ذرائع ابلاغ کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے۔ اسلام نے اپنے شہریوں کو تجسّس، چغلی، غیبت اور بہتان تراشی سے مکمل گریز کی تعلیم دی ہے اور نجی زندگی کو انسان کا بنیادی حق قرار دیا ہے۔ اسلامی نظریے کے مطابق ذرائع ابلاغ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ افرادکی نجی زندگی کے بارے میں کھوج لگاتے پھریں، کیوں کہ ایسا کرنا اخلاقی اعتبار سے درست نہیں۔
اس سے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا۔ ترجمہ:’’اے اہلِ ایمان، بہت گمان کرنے سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسّس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں کوئی ایسا ہے، جو اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے۔ دیکھو تم خود اس سے گِھن کھاتے ہو۔‘‘ (الحجرات/12۔13)۔ لہٰذا سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں یہ اسلامی ریاست اور خود ریاست کے ہر باشندے کی ذمّے داری ہے کہ وہ ان ہدایات و تعلیمات پر عمل پیرا ہو اور اُن پر عمل داری کو یقینی بنائے۔
سوشل میڈیا کے مفید استعمال میں تحمّل و برداشت کا مظاہرہ، اخلاقی اقدار کا تحفّظ: اسلام کا نظریۂ ابلاغ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ذرائع ابلاغ زبان کی شائستگی اور لطافت پر پوری توجّہ دیں، محبت اور باہمی اخلاص کی فضا قائم رکھیں، کسی پر طنز نہ کریں، دوسروں کو ذلّت آمیز ناموں سے نہ پُکاریں۔ مہذّب اور شریفانہ طرز ِتکلّم یہی ہے کہ دوسروں کی عزتِ نفس اور حفظِ مراتب کا خیال رکھا جائے۔
اسلامی ریاست سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں اپنی اس ذمّے داری کو پورا کرے اور عامۃ النّاس پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ان اصولوں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہوں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ:’’اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔‘‘(سورۃ النساء/7)۔
رسولِ اکرم ﷺنے اپنی تعلیمات میں شائستگی، متانت اور گفتگو میں نرم لہجے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺکے اسوۂ حسنہ کا ایک روشن پہلو آپ ؐ کا حُسنِ تبسّم اور اندازِ گفتگو ہے۔ جس میں آپؐ نے راست گوئی اور شائستگی کی تعلیم دی ہے۔چناں چہ ضروری ہے کہ کسی سے سخت مخالفت کے باوجود بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چُھوٹے، اپنی بات پوری خیر خواہی اور متانت و سنجیدگی سے پیش کی جائے۔
ہٹ دھرمی اور حجّت سے گریز کیا جائے، سخت بات لکھنے اور گالی کے جواب میں گالی دینے کے بجائے نرم خوئی، سلیقے اور شائستگی سے بات کی جائے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ِگرامی ہے۔’’مسلمان نہ طعنہ دیتا ہے، نہ لعنت بھیجتا ہے، نہ بد زبانی اور فحش کلامی کرتا ہے۔‘‘اس سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کی شان اس قسم کی غیر مہذّبانہ باتوں سے پاک ہونی چاہیے۔ اسلامی ریاست سوشل میڈیا کے مفید، مثبت اور بامعنی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اس امَر کا اہتمام کرے کہ عامّۃ النّاس کی زبان سے حق و صداقت، خیر خواہی اور نیکی و بھلائی کے سوا کوئی بات نہ نکلے۔
لوگوں کی توہین و تضحیک اور دل آزاری سے گریز کو یقینی بنانا: اسلامی نظریۂ ابلاغ میں ایک دوسرے کی دل آزاری، ایک دوسرے کی عزت پر حملہ، طعن و تشنیع اور بُرے القاب سے پُکارنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ چناں چہ ذرائع ابلاغ، خصوصاً سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ وہ طنز کرنے، الزام دھرنے، بھپتی کسنے اور عیب جوئی سے گریز کریں، تاکہ مسلم معاشرے میں محاذ آرائی کی صورتِ حال پیدا نہ ہو، اسی طرح غیر مسلموں کی مذہبی دل آزاری کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
اسلامی نظریۂ ابلاغ میں پیٹھ پیچھے عیب جوئی، تجسّس، بدگمانی، غیبت اور بدگوئی جیسے گھناؤنے افعال کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، اسی طرح لوگوں کے راز ٹٹولنے، عیب تلاش کرنے، معاملات کی ٹوہ لگانے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے، تاکہ افرادِ معاشرہ کی نجی زندگی محفوظ و مامون رہے۔ اور سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ افراد کی نجی زندگی سے متعلق کھوج، کریدسے باز رہیں، لوگوں کی خانگی زندگی، ان کے نجی معاملات کو نہ اُچھالیں، کیوں کہ یہ ایک بڑی بداخلاقی ہے جس سے معاشرے میں فساد برپا ہوتا ہے۔
موجودہ دَور میں یہ تمام برائیاں سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہورہی ہیں، تواسلامی ریاست کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں لوگوں کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائے اور انہیں اسلام کی اخلاقی اقدار، تہذیب وشائستگی اور ان سنہری تعلیمات سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
معاشرے میں اتحاد و یگانگت کا فروغ: مسلم معاشرے کا استحکام اسلام کے اصولِ اخوت پر مبنی ہے۔ اسلامی معاشرہ رنگ و نسل اور وطن و جغرافیہ کے بجائے عقیدے کی وحدت پر منظّم ہوتا ہے اور عقیدے ہی کی بنیاد پر افرادِ معاشرہ اخوّت کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں۔
تخریبی قوتیں مسلمانوں کی یک جہتی اور رشتۂ اخوت کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ لہٰذا اسلامی ریاست کی ذمّے داری ہے کہ وہ جذبۂ اخوت کی آب یاری کے لیے اقدامات کرے اور ان عوامل کا قلع قمع کرے،جو رشتۂ اخوت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔
اس حوالے سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا ذمّے دارانہ کردار یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اتحاد و یگانگت کے فروغ، اخوتِ اسلامی کے قیام اور جذبۂ اخوت کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اوراس حوالے سے اسلامی ریاست کے ساتھ تعاون کریں۔
ذرائع ابلاغ کی مدد سے منفی قوتوں کے زور کو توڑا جاسکتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ذرائع ابلاغ امتِ مسلمہ کی وحدت و اخوت مستحکم کرتے ہیں۔ معاشرے سے فتنہ و فساد، خودغرضی، لالچ اور بغض وحسد ختم کرکے محبت و اخوت کے جذبات پروان چڑھاتے، عفو و درگزر، ہم دردی وغم گساری اور خیر خواہی و ایثار کے اوصاف جاگزیں کرتے ہیں۔
(خلاصۂ بحث)
اسلام دینِ کامل اورا بدی ضابطۂ حیات ہے، قرآن و سنت اور تعلیماتِ نبویؐ رُشد و ہدایت کا مثالی سرچشمہ اور مینارۂ نور ہیں، جس طرح کتابِ مبین قرآنِ کریم ہدایت و راہ نمائی کا سرچشمہ ہے، اسی طرح اسوۂ رسولؐ اور تعلیماتِ نبویؐ میں ہر دَور کے مسائل کا حل اور ہر عہد کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا سامان موجود ہے۔ عصرِ حاضر میں اسلام، اسلامی شعائر و اقدار، اُمتِ مسلمہ اور ملک و ملّت کو جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے درپیش چیلنج کلیدی اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
موجودہ دَور میں عالمی طور پر بھی پوری انسانیت اور قومی اور علاقائی تناظر میں ملک و ملّت کو جو بنیادی مسئلہ اور اہم چیلنج درپیش ہے، وہ ’’ذرائع ابلاغ‘‘ خاص طور پر سوشل میڈیا کے منفی، غیر تعمیری، غیر ذمّے دارانہ کردارکے تدارک و سدّباب اور ریاستی سطح پر اس کے مفید، بامقصد استعمال کو یقینی بنانے کی ذمّے داریوں کے تعین کے حوالے سے ہے۔
فکری و نظریاتی جنگ کے موجودہ دور میں ایسا ضابطۂ اخلاق جو ’’ذرائع ابلاغ‘‘ خصوصی طور پر سوشل میڈیا کے کردار اور ذمّے داریوں کے حوالے سے ایک قومی اور عالمی منشور کی حیثیت رکھتا ہو، وہ دینِ فطرت اور دینِ کامل اسلام کے آفاقی و ابدی پیغام پر عمل پیرا ہونے، تعلیماتِ نبویؐ کی اتباع اور پیروی میں مضمر ہے، ’’میڈیا‘‘ کے کردار اور ذمّے داریوں کے حوالے سے اسلام نے ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘نیکی کی اشاعت، بدی کے سدِّباب، جرأت و صداقت، دیانت و امانت، حق گوئی و بے باکی، اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پیروی، احترامِ انسانیت، تکریم بنی نوع آدم، تحمل و برداشت، عفو ودرگزر، مذہبی رواداری، انسان دوستی، پُرامن بقائے باہم، مذاہب کے درمیان مکالمے، اظہارِ رائے کی آزادی کے ذمّے دارانہ استعمال، بلا تحقیق و آگہی خبر کی نشر و اشاعت سے اجتناب، حقائق پر مبنی درست اور صحیح معلومات کے ابلاغ، بلا تفریق مذہب و ملّت تمام افراد کی نجی زندگی کے تحفّظ، دل آزاری سے گریز، ابلاغ کے لیے حکمت و دانش کے استعمال، باوقار اسلوب اختیار کرنے، اظہارِ خیال میں شائستگی اور اعلیٰ انسانی اور اخلا قی اقدار کی پیروی کا حکم دیا ہے۔
عصرِ حاضر میں جسے ’’میڈیا کا دَور‘‘ کہا جاتا ہے، ان تعلیمات پر عمل قومی، علاقائی اور عالمی تناظر میں عالمی برادری، پوری انسانیت کے لیے بالعموم اور اُمتِ مسلمہ کے لیے بالخصوص پُرامن بقائے باہم پر مبنی معاشرے کے قیام اور امن و سلامتی کی یقینی ضمانت ہے، یہی اسلام کا نظریۂ ابلاغ اور سوشل میڈیا کے کردار اور ذمّے داریوں کا وہ جامع اور ہمہ گیر منشور ہے، جو ہمیں کردار و عمل کا پابند بناتا، اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اقدار پر عمل، ابلاغِ عامہ کی ذمّے داریوں کو سمجھنے اور دیانت دارانہ طور پر ان پر عمل کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت، اسوۂ رسولؐ اور تعلیماتِ نبویؐ سے ہمیں یہی درس ملتا ہے اور اس کی پیروی ہی میں انسانیت کی فلاح اور نجات کا راز پوشیدہ ہے۔
تجاویز و سفارشات.....
* سوشل میڈیا کے مفید، مثبت، بامقصد اور تعمیری استعمال کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں اسلامی ریاست پر یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس، مؤثر ، نافذالعمل اقدامات یقینی بنائے۔
* اس کے مفید اور بامعنیٰ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ریاست و مملکت پر یہ ذمّے داری دینی و مذہبی فریضے کے طور پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی معاشرے میں نیکی کے فروغ، دعوتِ دین، اصلاح معاشرہ کے جذبے سے سرشار مسلمان نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مفید، مثبت اور بامقصد استعمال کی ترغیب دے۔
* جدید ذرائع ابلاغ کے مفید استعمال کو یقینی بنانے کے لیے قرآن و سنت، اسوۂ رسول ﷺ، تعلیماتِ نبویؐ، سے راہ نمائی لی جائے۔ نیز، اس ضمن میں ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کی سفارشات سے استفادہ کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔
* اسلامی ریاست اور معاشرے کے مقتدر طبقے پر یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ضمن میں ایسا ضابطۂ اخلاق نافذالعمل کرے، جس کے تحت سوشل میڈیا صارفین ’’میڈیا‘‘ کو حدود و قیود میں استعمال کرنے کے پابند ہوں۔ اس ضمن میں ریاست کے مقتدر اداروں ایف آئی اے، پی ٹی اے، پیمرا اور سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نظام کو مؤثر، شفّاف اور قطعی طور پر غیر جانب دار بنایا جائے۔
* سوشل میڈیا صارفین کی مشکوک، توہین رسالتؐ (نعوذباللہ)، دین و مذہب اور ملک دشمنی پر مبنی منفی سرگرمیوں کو باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس کے خود کار نظام کے تحت مانیٹر کیا جائے۔
* سوشل میڈیا پر آزادئ اظہار کے نام پر تہذیبی و نظریاتی جارحیت کے مؤثر جواب اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے منظّم کوشش کی جائے۔
* ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے زیر ِاثر مغربی میڈیا کی تہذیبی و ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع ثقافتی پالیسی تشکیل دی جائے۔
* عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے منفی استعمال اور اس کے اثرات کے تدارک و سدِّباب کے لیے مسلم ریاستوں کو اپنی روایات، ثقافت اور نظریاتی اساس سے ہم آہنگ میڈیا پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔
* الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو مغرب کی اندھی نقالی سے باز رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔
* ایسے پبلک براڈ کاسٹنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں ایسے اینکر پرسنز، پروڈیوسرز، اسکرپٹ رائٹرز اور میڈیا سے وابستہ افراد کی خدمات حاصل کی جائیں، جو دینی جذبے سے سرشار ہوکر پوری دنیا میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا پرچار کرسکیں۔
* اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور دعوتِ دین پر مبنی تعمیری، اصلاحی، تاریخی اور معلوماتی پروگرامز تیار کیے جائیں۔
* ریاستی سطح پر اس کا موثر انتظام کیا جائے کہ مسلمان اسکالرز پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے میدان میں آکر ’’اسلامو فوبیا‘‘ کا مقابلہ کرکے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے مغربی دنیا میں اٹھائے گئے بے بنیاد اعتراضات و شبہات کے حکمت و بصیرت پر مبنی جوابات دے سکیں۔
* معاشرے میں پیدا ہونے والے نئے رجحانات و خیالات، خصوصاً تجدّد پسندانہ نظریے، الحاد اور لادینیت کے تدارک و سدِّباب کے لیے عالمی مسلم مراکزِ دانش، مسلم تھنک ٹینکس قائم کیے جائیں۔
* مسلم نوجوانوں کو باور کروایا جائے کہ مغربی تہذیب و فکر کے عناصر اسلامی تہذیب سے نہ صرف مختلف بلکہ ان سے یک سر متضاد ہیں۔
* مسلم دنیا پر مغربی تہذیب و ثقافت کے اثر و نفوذ اور الحاد کے بڑھتے ہوئے اثرات کا راستہ روکنے کے لیے اُمّت کے ذہین و مخلص افراد کو جدید میڈیا ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے۔
* جدید میڈیا کے ذریعے اسلام کی حقیقی اور پُرامن تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جائے اور اس مغربی پراپیگنڈے اور منفی تاثر کو زائل کیا جائے کہ اسلام انتہا پسندانہ نظریات پر مبنی، دہشت گرد مذہب ہے۔ (ختم شُد)