• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگوں کی تاریخ تقریباً اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود نوع انسانی کا وجود ، خالق کائنات نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا اور فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس کی شکل میں تاریخ کی پہلی اپوزیشن نےتکبر کرتے ہوئے مخالفت میں ہاتھ کھڑے کردیئےاور کہا کہ میں اس سےبرتر ہوں مجھے تونے آگ سے پیدا کیا اسے مٹی سے۔ فرشتوں نےکہاکہ اے رب ذولجلال ! آپ کی حمد و ثنا کے لئے ہم فرشتے ہی کافی ہیں ، انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، یہ زمین پر فتنہ و فساد پھیلائے گا ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ اعتراض رد کردیا اور فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔باقی فرشتے حضرت آدم کے آگے سجدے میں گرگئے مگر ابلیس نے تکبر میںانکار کردیا اور راندہ درگاہ ہوا۔پھر آدمؑ کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کرکے زمین پر فساد کی بنیاد رکھی جو آج تک جاری ہے اور اس کے باوجود کہ تقریباً سوا لاکھ انبیا اور رُسول امن و سلامتی کا پیغام لےکر دنیا میں آئے اور انسانوں کو راہ حق کی طرف بلاتے رہے لیکن ابلیس انہیں بہکاتا رہا۔ طاقتور کمزوروں کےگلے کاٹتے رہے یہ مشغلہ آج بھی پوری شدت سے جاری ہے ۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد طاقتوروں نے کمزورقوموں کی مدد سے لیگ آف نیشنز قائم کی تاکہ دنیا میں امن برقراررہے لیکن یہ تنظیم دوسری جنگ عظیم کو نہ روک سکی ۔ اس جنگ میں دوسرے ہلاکت خیزہتھیاروں کے ساتھ ایٹم بم کی رونمائی بھی ہوئی ۔ اس بم کو استعمال کرنے کا’’ اعزاز‘‘ امریکا کے حصے میں آیا جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد آناً فاناً لقمہ اجل بن گئے ۔ پھر سارے طاقتور سرجوڑ کر بیٹھ گئے ان میں امریکا برطانیہ روس فرانس اور چین سرفہرست تھے انہوں نے امن کی کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام قرار دے کر لیگ آف نیشنز کو دفن کردیا اور یونائیٹڈ نیشنز آرگنائزیشن (یو این او) کی بنیاد رکھی اس کے مقاصد میں سرفہرست دنیا میں امن و امان قائم رکھنا طےپایا۔ انسانی حقوق کا تحفظ، ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ، غربت بیماری اور جہالت کا خاتمہ اور بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طور پر حل کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل کیا گیا۔پانچوں بانی ملکوں نے اپنے لئے یو این او کی سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے کو رد کرنے کا اختیارحاصل کرلیا تاکہ بوقت ضرورت کام آئے ۔امریکا اور روس نے اپنے مفاد کے تحفظ کیلئے یہ اختیار بے مجابا استعمال کیا ۔ تاہم اقوام متحدہ بھی عالمی امن قائم نہ رکھ سکی۔ طاقتور آج بھی اپنی طاقت کے استعمال کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جنرل اسمبلی ہو سلامتی کونسل ہو یا دوسرے ذیلی ادارے، ان کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں عالمی عدالت انصاف کوئی فیصلہ کربھی لے تو اسے کوئی نہیں مانتا۔ سندھ طاس معاہدے کا بھارت کے ہاتھوں حشر اس کی زندہ مثال ہے ۔

اقوام متحدہ کاادارہ آج دنیا کی سب سے بے بس تنظیم ہے اس کی موجودگی میں پچھلے76 برس سے کوریا سے ایران تک درجنوں جنگ لڑی گئیں اور لڑی جاری ہیں ان میں پانچ بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں امریکا نے’’ شجاعت‘‘ کے جوہر دکھائے ان بڑی جنگوں میں جہاں ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی مارے گئے وہاں 44 لاکھ 79ہزار سویلین بھی جانوں سے گئے۔ سب سے زیادہ امریکی فوجی ویتنام کی جنگ میں مارے گئے جنکی تعداد 58220 ہے۔ عراق جنگ میں  4434 امریکی فوجی جبکہ 13لاکھ عراقی شہری مارے گئے ٹی وی چینل الجزیرہ کے مطابق 2001ء کے بعد ہونے والی جنگوں میں جو امریکی مفادمیں لڑی گئیں 9لاکھ 40ہزارشہری ہلاک ہوئے ان میں صرف افغانستان میں مارے جانے والوں کی تعداد ایک لاکھ 74ہزار ہے ۔حالیہ ایران جنگ میں امریکی دعوؤں کے مطابق تین ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے اس جنگ کے معاشی اثرات سے ساری دنیا متاثر ہوئی ۔ خاص طور پر توانائی کے بحران نے پاکستان سمیت دنیا کہ ہر ملک کو پریشان کیا خود امریکی بھی چلا اٹھے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ روکنے میں اقوام متحدہ بری طرح ناکام ہوئی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس ہوا بھی تو ’’اظہار تشویش‘‘ کے سوا کچھ نہ کرسکا ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل حملوں کی مذمت کے زبانی بیانات کے سوا کچھ نہ کرسکے ۔ سفارت کاری کافریضہ پاکستان نے اپنے ذمہ لیا حالانکہ یہ کام اقوام متحدہ کا تھامگر امریکہ اس کی مانتا کب ہے ۔ جب امریکہ نہیں مانتا تو باقی طاقتورملک کب مانیں گے۔ صورتحال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد بے ساختہ پکار اٹھیں’’دنیا پر درندوں نے قبضہ کرلیا ہے اورانسانوں نے اپنی اہمیت کھودی ہے‘‘ نیویارک میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کو لازمی تقاضوں کی بجائے محض تجاویز سمجھا جارہاہے جس کی وجہ سے جنگ کی زد میں آنے والے کسی علاقے میں کوئی بھی محفوظ نہیں ۔ غزہ اور سوڈان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہسپتالوں کو بھی میدان جنگ بنا دیا جائے گا تواس کا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں وحشت کا راج قائم ہوچکا ہے ۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پرعالمی ضمیر جاگ نہیں رہا جو انسانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے ۔

اقوام متحدہ کی بے بسی ظاہر کرتی ہے کہ اس ادارے کو لیگ آف نیشنز کی طرح ختم کردینا چاہئے ۔ اور اس کی جگہ نیا ادارہ بنانا چاہئے جس میں کسی ملک کو چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ویٹو کا اختیار نہ دیا جائے ۔ تمام رکن ممالک کے اختیارات مساوی ہوں نیویارک کے بجائے کسی امن پسند ملک میں اس کا ہیڈ کوارٹر ہو، اس کی اپنی فوج ہو جس میں دنیا کے تمام رکن ملکوں کے دستے شامل ہوں ۔ بین الاقوامی تنازع طے کرنے کے لئے نئے اصول و ضوابط تیارکئے جائیں جن پر عمل درآمد امن فوج کے ذریعے کرایاجائے لیکن معروضی حالات بتاتے ہیں کہ بڑی طاقتیں خاص طورپر امریکا ایسے کسی نظام کو تشکیل نہیں ہونے دیگا اسلئے عالم انسانیت کا مستقبل مخدوش اور تاریک ہی رہے گا ۔

تازہ ترین