• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مئی کا مہینہ ہر سال محنت کشوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، عالمی یوم مزدور کو منانے کا مقصد محنت کش طبقے کے مسائل کا حل، ان کی بہتر اجرت کا تعین ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں روزگار سے زیادہ بے روزگاری کی شرح نمایاں ہے، صرف چند سالوں میں ناقص حکمت عملی اور ملازمت کے اچھے مواقع نہ ہونے کے باعث 15لاکھ سے زیادہ پڑھا لکھا ذہن پاکستان چھوڑکر بیرون ملک منتقل ہوگیا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے پاکستان اس وقت اشرافیہ کا ملک بن گیا ہے، جہاں غریب کے لئے دو وقت کی روٹی بھی محال ہوچکی ہے،پاکستان میں غریبوں کی حالتِ زار اس وقت انتہائی تشویشناک ہے، جس کی بنیادی وجوہات بے تحاشہ مہنگائی، معاشی عدم استحکام اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہیں۔ غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے،اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔چین، یورپ اور امریکا نے غربت کم کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ چین نے غربت کمی کے پروگرام نافذ کیے، دیہی انفراسٹرکچر بہتر کیا، تعلیم اور صحت تک رسائی بڑھائی، قرضے اور روزگار کی سہولتیں فراہم کیں، جس سے کروڑوں افراد کو انتہائی غربت سے نکالا گیا۔پاکستان میں بھی غربت کے خاتمے کے لئے گھریلو سطح پر چھوٹی چھوٹی انڈسٹری کے قیام کو اہمیت دی جائے،کاروبار کے لئے شہریوں کو نہ صرف مواقع فراہم کئے جائیں بلکہ اس حوالے سے ان کی مالی معاونت بھی کی جانی چاہئے۔پالیسی ساز معاشی اداروں نے برسوں میں بھی وہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جس کی ضرورت تھی۔ عوام پریشان ہیں۔

خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی عروج پر ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدودہے،غریبوں کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں اگربانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے معاشی ترقی کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کیا جاتا تو پاکستان اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا تھا۔ قائداعظم پاکستان میں ایک منصفانہ اقتصادی اور معاشی نظام کے خواہش مند تھےجومساوات، سماجی انصاف اور اسلام کے فلاحی نظر یہ پر مبنی تھا،قائداعظم کے اقوال اور افکار کو بھلانے کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔ غیر ملکی قرضوں سے قومی معیشت چل رہی ہے ، اقتصادی معاملات بدحالی کا شکار ہیں ،غربت سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز ادارے ملکی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کریں عام آدمی کے حالات بہتر بنانے کیلئے منصوبہ بندی کی جائے۔ ہمیں عہد نبوی سے سبق لینا ہوگا کہ روزگار کو عام کیا جائے تاکہ لوگ خود کما سکیں اور غربت سے چھٹکارا حاصل کریں۔ خود ساختہ مہنگائی کو روکنے کے لئے ٹاسک فورس بنائی جائے، ایسے حالات میں جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے اخراج کے فیصلے سے دنیا بھر میں ہلچل مچی ہوئی ہے ،تیل کی بڑھتی قیمتوں نے صنعتی لاگت میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیاہے۔اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑنے کے امکانات ہیں،یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکا اورایران کا تنازع ایک ایسا عالمی چیلنج بن چکا ہے جس کے اثرات ہر فرد ہر معاشرے اور ہرریاست پر پڑ رہے ہیں اگر اس بحران کوبروقت اور دانشمندانہ طریقے سے حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف عالمی معیشت کو تباہ کرسکتاہےبلکہ عالمی امن کو بھی شدیدخطر ات لاحق ہوسکتے ہیں۔ دنیا کواس وقت جذباتی فیصلوں کے بجائے سنجیدہ، متوازن اور دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے عقل ودانش کو ترجیح دے اور انسانیت کے وسیع ترمفاد میں فیصلے کرے۔اسرائیل نے امریکی طیارہ ساز کمپنیوں سے جدید ایف35 اور 15IAایف لڑاکا طیاروں کے دو نئے اسکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دی۔جس کا مقصد مشرق وسطی میں اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی کے اہداف کو مزید مضبوط بنانا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کے امکانات کی دھمکی اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک میں بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے جس سے پریشان ہوکر وہ ہر دن اپنے بیانات بدل رہے ہیں، خود کو فاتح ثابت کر نے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں، مگر دنیا اب ان کے کسی بھی بیان پر توجہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ یورپی ممالک، نیٹو بھی امریکا کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں، خود اپنے ملک میں مڈ ٹرم انتخابات سے قبل امریکی صدر کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کی مقبولیت میں کمی نظر آرہی ہے، اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات سے قبل دنیا میں امن کے قیام کے اپنے وعدوں اور نعروں کو حتمی شکل دیں،نوبل انعام کے حصول میں ناکامی سے بھی ڈونلڈ ٹرمپ ناراض ہیں۔ان کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی طاقت کے زور پر کسی ملک کی آزادی اور خود مختاری کو دبایا جاسکتا ہے۔ اس جنگ میںایران کی ہر موڑ پر اور ہر شعبے میں پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ ایرانی قوم متحد ہے اور اس کے رہنما اپنے کارڈز احتیاط اور دانش مندی سے کھیل ر ہے ہیں۔

حرف آخر:ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک سال قبل ناقابل شکست معرکہ حق میں کامیابی جس کا تمام تر سہرا فیڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام جن کی قیادت میں افواج پاکستان نے روایتی حریف کو وہ منہ توڑ جواب دیا جس نے مودی سرکار کو دنیا کے سامنے بے بسی کی تصویر بنادیا۔ دس مئی کو ہر سال قومی سطح پر منایا جانا چاہئے تاکہ قوم میں حب الوطنی کامزید جوش اور جذبہ جنم لے سکے۔

تازہ ترین