• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

26سالہ پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف نےگزشتہ دنوں دنیا بھر میں اُس وقت پاکستان کا نام روشن کردیا جب ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے صالح آصف کی آئی ٹی کمپنی کرسر (Cursor) کو 60 ارب ڈالر (17 کھرب روپے) میں خریدنے کی پیشکش کی۔ یہ خبر نہ صرف صالح آصف بلکہ پوری پاکستانی قوم کیلئے فخر کا باعث بنی۔ کراچی کی گلیوں سے سفر شروع کرکے سلیکون ویلی جیسے عالمی ٹیکنالوجی مرکز میں اپنی پہچان بنانے والے غیر معمولی ذہانت کے حامل صالح آصف نے ابتدائی تعلیم کراچی کے نکسر کالج سے حاصل کی۔ دوران تعلیم ہی صالح آصف کو کمپیوٹر سائنس اور پروگرامنگ سے دلچسپی پیدا ہوگئی جو انہیں امریکہ لے گئی جہاں صالح آصف نے دنیا کے صف اول کے تعلیمی ادارے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے گریجویشن کی۔ دوران تعلیم ہی انہوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھا، اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی کمپنی کا شمار دنیا کی صف اول کمپنیوں میں ہونے لگا۔ ان کی کمپنی کا نمایاں پروڈکٹ کرسر ہے جو ایک جدید اے آئی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول ہے۔

آج یہ ٹول دنیا بھر میں ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں جن میں این ویڈیا، ایڈوب، اوبر اور شاپیفائی جیسے بڑے برینڈ بھی شامل ہیں۔ کمپنی کا سالانہ ریوینیو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جو اسے دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے اے آئی اسٹارٹ اپس میں شامل کرتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی سلیکون ویلی کا شمار دنیا کے بڑے آئی ٹی شہروں میں ہوتا ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کی بڑی بڑی آئی ٹی کمپنیاں جنم لیتی ہیں اور عالمی معیشت کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سلیکون ویلی کو طویل عرصے سے بھارتی نژاد افراد کی مضبوط موجودگی اور آئی ٹی کمپنیوں میں ان کی اجارہ داری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی کمپنیوں میں بھارتی نژاد افراد کا نمایاں کردار اس بات کا ثبوت ہے مگر پاکستانی نوجوان صالح آصف نے سلیکون ویلی میں پاکستان کا پرچم بلند کرکے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

آج کے جدید دور میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتیں کامیابی کی کنجی بن چکی ہیں، آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت نے دنیا کے تمام شعبوں میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے جہاں ایک طرف مثبت پہلو ہیں، وہاں دوسری طرف اس کے منفی پہلو بھی ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کیلئے نعمت بھی بن سکتی ہے اور اگر سنبھل کر استعمال نہ کی جائے تو اس کے خطرناک نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی انسانی ذہنوں کا متبادل نہ بن جائے جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے اور یہی وہ شعبہ ہے جس سے ہم اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ 200ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہماری آئی ٹی ایکسپورٹ محض 3 سے 4 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔ کچھ ماہ قبل وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ چین کے موقع پر چین کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے ہیڈ کوارٹرکا دورہ کیا جہاں چینی کمپنی ہواوے اور پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مابین معاہدے پر دستخط ہوئے اور ہواوے کے چیئرمین نے ای گورننس، ڈیجیٹل بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 2 لاکھ پاکستانیوں کو مفت تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ نوجوان چین سے آئی ٹی کی نئی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے جب وطن واپس لوٹیں گے تو پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں نہ صرف انقلاب برپا کریں گے بلکہ اُن کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

صالح آصف کی کامیابی ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے باعث اعزاز ہے جو نوجوانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، اگر ہم عزم اور حوصلے کے ساتھ محنت اور لگن جاری رکھیں تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کیلئے صالح آصف ایک روشن مثال ہیں، ان کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کراچی کی گلیوں سے نکل کر سلیکون ویلی تک پہنچنا محض خواب نہیں بلکہ ایک قابل حصول حقیقت ہے بشرطیکہ محنت، لگن اور خود اعتمادی کو اپنا ساتھی بنایا جائے۔

صالح آصف جیسے نوجوان دراصل پاکستان کا روشن چہرہ ہیں جو دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ ملک صرف مسائل کا مجموعہ نہیں بلکہ بے پناہ صلاحیتوں کا خزانہ بھی ہے۔ میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ پاکستانی نژاد صالح آصف کو پاکستان مدعو کیا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کیلئے سول ایوارڈ سے نوازا جائے اور ان سے درخواست کی جائے کہ وہ پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کیلئے رہنمائی کریں اور اپنی تجاویز سے نوازیں تاکہ پاکستان بھی آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب برپا کرسکے۔

تازہ ترین