السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
راجا کا باجا
تازہ سنڈے میگزین کے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس کی دوسری تحریرعطاء الحق قاسمی پر پڑھنے کو ملی، بخدا دل خوش ہوگیا پڑھ کر۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا جاپان کے انتخابات پر اپنے شان دار تجزیے کے ساتھ موجود تھے، بہت اعلیٰ۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی آخری قسط بھی پڑھ ہی ڈالی۔ آج پھر کافی محنت سے ’’ڈائجسٹ‘‘ کا صفحہ تیار کیا گیا۔
کرن عباس کرن کی داستانِ انتظار، ڈاکٹر قمر عباس کی غزل، بابر سلیم خان کے جواہر پارے اور ناقابلِ اشاعت کی لسٹ۔ ایک صفحے پر اب اس سے زیادہ کیا ہی شائع ہو۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں حسبِ روایت راجا ہی کا باجا بج رہا تھا۔ آپ نے جواب میں لکھا کہ راجا کی زندگانی کا نصب العین غالباً مکتوب نگاری ہے۔ ہمیں بھی کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
وقت ہو تو تحقیق کریں
ایک غزل پیشِ خدمت ہے، اِسے غور سے دیکھیے، اگر پسند آجائے، تو جب مرضی ہو، شاملِ اشاعت فرما دیں، ادب کے علاوہ سیاست سے بھی (تبصرے کی حد تک) دل چسپی ہے، چناں چہ منور مرزا کا مضمون بلکہ تجزیہ محبوب ہے۔ اس کے علاوہ عرفان جاوید کے منتخب کردہ افسانے ضرور پڑھتا ہوں اور رحمان فارس کے نئے سلسلے کا تو نہ جواب ہے، نہ مثال۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘میں آپ کی تحریر’’حاصلِ جریدہ‘‘ٹھہرتی ہے۔ باقی کوشش تو ہماری بھی کچھ اچھاہی لکھنے کی ہوتی ہے، لیکن بقول شخصے ’’مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی‘‘۔ ویسے یہ مولوی مدن کون تھا؟ یوں بھی مدن تو ہندوانہ نام ہے، وہ بھلا مولوی کیسے ہو سکتا ہے، مولوی تو مسلمان ہوتے ہیں، آپ کے پاس وقت ہو تو تحقیق کریں، اپنے پاس تو اتنا وقت نہیں۔ (جمیل ادیب سیّد، کراچی)
ج: اکبرالہ آبادی کا معروف شعر ہے(جسے بعض لوگ انشا اللہ خان انشا سے بھی منسوب کرتے ہیں) ؎ ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی…مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ اور اے آئی کی ریسرچ کے مطابق مولوی مدن لکھنؤ کے ایک بزرگ تھے، جن کی داڑھی اپنی خُوب صُورتی اور تراش خراش کی وجہ سے شہر بھر میں مشہور تھی اور اکبرالہ آبادی نے اُن کی داڑھی کی اِسی انفرادیت کو موضوعِ شعر بنایا۔
یہ مصرع اِس قدر مقبول ہوا کہ ضرب المثل کی شکل اختیار کرگیا، جو بالعموم اُس وقت استعمال ہوتا ہے، جب کسی سے کہنا ہو کہ آپ کی بات میں وہ تاثیر نہیں، جو کسی اور کی بات میں ہے۔ آپ کی بزرگی کا خیال کرکے یہ اتنی تحقیق کرڈالی ہے، اب اِسے کہیں مستقلاً ہماری ڈیوٹی کا حصّہ ہی نہ سمجھ لیجیے گا۔
بارہ مسالے کی چاٹ
دیکھیے، آپ ہماری عزت کیا کریں اور ہماری بہت قدر بھی کیا کریں کہ ہم کوئی معمولی آدمی نہیں۔ ہم ایک عظیم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارےآباؤ اجداد ایک ریاست کے نواب تھے اور ہم خُود بھی نواب زادے ہیں۔
سو، ہمارے خطوط مِن و عن شائع کیے جائیں، اُن پرایڈیٹنگ کی قینچی چلانی بند کریں اور ہمارے خطوط کےملغوبے بنانے بھی بند کردیں۔ ہمارے خطوط کوئی بارہ مسالےکی چاٹ تو نہیں کہ اُنہیں اس طرح مِکس کرکےشائع کیا جائے۔ (نواب زادہ بےکارملک، سعید آباد، کراچی)
ج:جی بہتر، جو حُکم نواب صاحب کا۔
سارا سال سمو دیا
آپ نے ایک دفعہ میری تحریر سے متعلق لکھا کہ میری لکھائی ٹھیک نہیں، تو اس بار کوشش کروں گا کہ ذرا ٹھیک سے لکھوں۔ 2026ء کا شمارہ دیکھ کر اچھا لگا کہ اس میں پورے 2025ء کا باتصویر حال درج تھا۔ آپ لوگوں نے تو ایک ہی میگزین میں سارا سال سمو دیا۔ تمام ہی لکھاریوں نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق پورے سال کی تحریریں عُمدگی سے مرتّب کیں۔ منور مرزا ’’بساطِ عالم‘‘ پر چھائے دکھائی دیے۔
خطوط کا صفحہ شان دارانداز سے تیار کیا گیا۔ حصّہ دوم میں ’’کلر آف دی ایئر 2026ء‘‘ دودھیا سفید رنگ پر آپ کی تحریر کا جواب نہ تھا۔ منور مرزا حسبِ معمول دنیا جہاں کےحالات بیان کر رہے تھے۔ ہمایوں ظفر نے مرحومین کو بہترین خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اللہ جانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ دُعا ہے کہ سالِ رواں پاکستان کے لیے بہت ہی مبارک ثابت ہو۔ (ملک محمّد نواز تھہیم، سرگودھا)
ج: الحمدُللہ مُلکی خارجہ پالیسی کے ضمن میں تو آپ کی دُعا قبولیت کی منزل پا گئی، دیگر معاملات میں دوا اور دُعا دونوں کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصاً یہ جو ہوش رُبا منہگائی نے لوگوں کاجینا دوبھر کردیا ہے، سالِ رواں تو کیا، سالِ آئندہ سے بھی کچھ زیادہ اچھی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔
کچھ پڑھنے کے لائق نہیں
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں افشاں نوید نےاعجازِ قرآن مجید کے ضمن میں بہت ہی شان دارمضمون تحریر کیا۔’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیر احمد خلیلی نے مُلکِ یمن کی قدیم تاریخ سے جدید دور تک کے حالات بیان کیے اور بہت ہی عُمدگی سے۔ رؤف ظفر نے ادویہ پر خرچ ہونے والی رقم بتائی کہ عوام ہر سال ایک کھرب روپے کی دوائیاں کھا جاتے ہیں۔ رستم علی خان نے بھکاریوں کی تعداد میں اضافے کی طرف توجّہ دلائی، جو واقعی توجّہ طلب مسئلہ ہے۔
’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے پاور ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی کے متعلق مشورہ دیا کہ پاکستان اقتصادی ترقی کے لیے کوششیں کرے تاکہ کام یابی کے فوائد عوام کو حاصل ہوسکیں۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے افتخارِ ادب، افتخار عارف کا تعارف کروایا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے پولیو ویکسین کی اہمیت واضح کی، تو ڈاکٹر امیر حسن نے ذیابطیس کے مریضوں کو دانتوں کی حفاظت کا مشورہ دیا۔
ثروت اقبال نے اسکرین ایڈکشن کو ہُنرمندی کا ذریعہ بنانے کی ترغیب دی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی اِس قسط سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں روبینہ یوسف کا افسانہ دل چسپ تھا، سعدیہ اعظم نے بھی فکر انگیز افسانہ تحریر کیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بھی خُوب روشنی ہورہی تھی۔ ہمارا خط شائع کرنے کا شکریہ۔ اب آیئے اگلے شمارے کی طرف۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ’’رمضان المبارک کیسے گزاریں‘‘ کے موضوع پر مفتی خالد محمود نے تفصیلی مضمون تحریر کیا، شان دار تحریر تھی۔ ‘‘
اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ڈاکٹر محمد ریاض علیمی اور رانا اعجاز حسین چوہان نے بھی ماہِ رمضان المبارک کی فضلیت بیان کی۔ وارث خان پاکستان کے بحران کا دائمی حل پیش کررہے تھے۔ منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ پر پوری طرح چھائے رہے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے ایک عہدِ لازوال مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ پیش کیا۔ ڈاکٹر نورالفاطمہ نے بچّوں کے دانتوں کی صحت کی طرف توجہ دلائی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ کے دونوں افسانے پسند نہیں آئے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بھی کچھ پڑھنے کے لائق نہیں تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: مطلب، آپ کا خط شامل نہ ہو تو پھر جریدے کا کوئی ایک بھی خط، تحریر پڑھنے لائق ہی نہیں رہ جاتی۔ یہ تو خُود پسندی کی انتہا ہے۔ یوں تو پھر آپ لوگوں کو ہماری ہمّت و ظرف کی داد دینی چاہیے کہ ہم کیا کیا نہیں پڑھتے اور شایع کرتے، جب کہ ناقابلِ اشاعت کا ایک پلندہ الگ رکھا ہوتا ہے اور اُس میں تو کیا کیا ’’شاہ کار‘‘ شامل ہوتے ہیں، آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اپنی شمولیت، عدم شمولیت بھول گئی
شمارہ ملا۔ حسبِ معمول ورق گردانی کرتے’’آپ کا صفحہ‘‘ پر چلے آئے کہ سب سے پہلے یہی پڑھا جاتا ہے۔ مرکزی چوکھٹے میں شائستہ اظہرکا نامہ دیکھ کردل باغ باغ ہوگیا، یہاں تک کہ اس خوشی میں اپنی شمولیت، عدم شمولیت بھی بھول گئی کہ ہم نے شائستہ سے گزشتہ کئی ایک خطوط میں یہ خواہش بلکہ درخواست کی کہ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کے ساتھ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بھی تشریف لائیں۔ ابھی تو ہمارے وہ مکتوب آپ کے آفس ہی کے کسی نرم وگرم گوشے میں استراحت فرما رہے ہوں گے اور شائستہ آ بھی گئیں تو ہمارا اِس قدرخوش ہونا تو بنتا ہے۔
دراصل کیا ہے کہ وہ انتہائی خوش بیان ہیں، لفظوں کی ایک مالا سی پرو کے رکھ دیتی ہیں اور جو بات اُنھیں سب سے ممتاز کرتی ہے، وہ دوسروں پر بات کرنے کا سلیقہ ہے۔ آپ ہی کے الفاظ دہرائیں، تو ’’نامہ صحیح معنوں میں اسیرکرلیتاہے۔ پوراخط پڑھے بغیر لمبی سانس نہیں لی جاتی، پلکیں توجھپکنا بھولی ہی ہوتی ہیں۔‘‘
اور قرات نقوی سے بھی کہنا ہے کہ شائستہ کی بات پر ضرور غور کریں۔ اور اب بات ہوجائے، جریدے کے دیگر مندرجات پر۔ ’’سرِورق‘‘ پسند آیا۔ ٹائٹل سے وسطی صفحات تک چاندچہرہ ماڈل، خوب صورت انداز، دیدہ زیب پیراہن کے ساتھ جلوہ افروز تھی، خصوصاً تصویر نمبر6 میں سب سے اچھی لگی۔
تحریر ثانیہ انورکی تھی، جس میں انسانی جذبات و احساسات کی بہترین عکاسی کی گئی۔ ایک آدھ کوچھوڑ کر دیگرسب ہی تحریریں اچھی تھیں، البتہ مہوش عروج کے افسانے ’’مَیں زندہ ہوں‘‘، ایمن علی منصور کے ’’اطمینان‘‘ کا جواب نہ تھا۔
مبین مرزا کا ’’بے دیارم‘‘ بھی اچھا انتخاب ثابت ہوا، جب کہ بلقیس متین کا ’’نیک نیتی‘‘ کے موضوع پر مضمون سب سے زیادہ پسند آیا۔ اور ہاں، ’’بچوں کے منہ اور دانتوں کی صحت‘‘ سے متعلق ڈاکٹر نور الفاطمہ کی رہنمائی کا بےحد شکریہ۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: آپ صرف ’’سنڈے میگزین ‘‘ ہی کے معاملے میں ایسے’’شاہِ جذبات‘‘(ملکۂ جذبات کا متضاد) ہیں یا دیگر معاملاتِ زندگی میں بھی اِسی قدرہیجانی کیفیت کے شکار رہتے ہیں۔
کمال کی شاعری
گزارش ہےکہ مَیں شعروشاعری کرتا ہوں اور میری تقریباً 1200 نظمیں، غزلیں بالکل تیار ہیں، جن کے لیے میری شدید خواہش ہے کہ اُنھیں آپ ہی کے جریدے میں جگہ ملے۔ ویسے میرا کلام امریکا، لاہور اور فیصل آباد کے اخبارات میں بھی شایع ہوتا ہے۔ اگر آپ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گی تو مَیں آپ کو کمال کی شاعری پیش کروں گا۔
ذرا میرے کلام کا ایک نمونہ دیکھ لیں۔ ؎ ’’سچ بولتے ہیں جو اُنہی کا مال بکتا ہے… تباہ قومیں ہوتی ہیں، جہاں جھوٹ بکتا ہے… کھلیان سوکھ جاتے ہیں، اجڑ جاتے ہیں گلستان…غفلت میں جو رہتے ہیں، جن باغوں کے نگہبان۔‘‘ اپنا فون نمبر بھی لکھ رہا ہوں کہ آپ کو رابطے میں آسانی ہو۔ (پرویز انور)
ج: آپ کا یہ عظیم تخلیقی کارنامہ، اُستادانہ کام ہمارے سر کے تو کئی فٹ اوپر سے گزر گیا۔ پڑھ کے نہ ٹیلی فونک رابطے کی خواہش بےدار ہوئی، نہ ہی ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کرنے کی۔
ہاں البتہ وہ امریکی، لاہوری اور فیصل آبادی اخبارات دیکھنے کا اشتیاق ضرور پیدا ہوا، جہاں یہ معرکتہ الآراء کلام شایع ہو رہا ہے۔ ممکن ہو تو اپنی ایک غلط فہمی ضرور دُور کرلیں کہ ’’میری نظمیں، غزلیں’’بالکل تیار‘‘ ہیں۔‘‘ ہرگز نہیں، یہ نہ صرف بہت کچا پھل ہے، بلکہ خاصا بدذائقہ بھی ہے، جس کا کیلشیم کاربائڈ سے تیار ہونا بھی ممکن نہیں، سو اِسے ضایع ہی کردیں تو بہتر ہے۔
فی امان اللہ
نرجس بٹیا! سدا خوش رہو۔ اُمید ہے، خیریت سے ہوگی۔ رمضان المبارک سےصرف دودن پہلے ہی کراچی پہنچا ہوں۔ بٹیا! دراصل ماہِ رمضان کی عبادات کا اصل لُطف تو اپنے مُلک ہی میں ہے۔ فرنگیوں کے دیارِغیر میں نہ وہ رونقیں ہیں اور نہ عبادتوں میں وہ لذت، ہر شخص خواہ عورت ہو یا مرد، بے چارہ بس دولت کے حصول کی خاطر مشین بنا ہوا ہے کہ شاید ان آسائشوں کو تکمیل ہی ہمارا دنیا میں آنے کا اصل مقصد ہے۔ ہاں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں، جوکوشش کرتےہیں کہ اپنےعقائد پر بھی سختی سے عمل کریں، لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ دُور کے ڈھول بڑے سہانے ہوتے ہیں۔
یہاں والوں کو لگتا ہے، جیسے وہ لوگ تو جنت میں رہتے ہیں۔ ویسے اگر ہمارے ملک میں بھی جان و مال کی حفاظت اور بہتر ملازمت کے مواقع ہوں تو شاید ہی کوئی اپنا مُلک چھوڑ کر کبھی باہر جائے۔ بس وہاں قانون کی حاکمیت سب سے بڑی چیز ہے۔
نرجس بٹیا! ماشاء اللہ اتنے نامساعد حالات میں بھی آپ لوگوں نے میگزین کے معیار کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ ایک منیجر اور ایک لیڈر میں یہی فرق ہوتا ہے۔ منیجر چیزوں کوصرف منیج کرتا ہے، جب کہ لیڈر صفِ اول میں رہ کر لیڈ کرتا ہے اور بلاشبہ تم ایک بہترین لیڈر اور اچھی ایڈمنسٹریٹر ہو، جو کم سےکم نفری سے بھی زیادہ سے زیادہ کام لیناجانتی ہو۔
میگزین کے صفحات کواپنی خُوب صُورت تحریروں سے جگمگانے والوں میں نمایاں نام، ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی، منیر احمد خلیلی، منور راجپوت، منور مرزا، عرفان جاوید، رحمان فارس، حافظ بلال بشیر، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ثانیہ انور اور رابعہ فاطمہ وغیرہ ہیں۔ افشاں نوید، ثانیہ انور اور شائستہ اظہرصدیقی نے سینٹر پیجز پر بھی بےحد بہت معلوماتی مضامین تحریر کیے، ان سب کو بہت مبارک باد اور میرا سلام و پیار۔
آپ کے صفحے پر میگزین کے مندرجات سے متعلق جو احباب خطوط تحریر کرتے ہیں، اُن میں رونق افروز برقی، شمائلہ ناز، ضیاء الحق قائم خانی، بابر سلیم، اقصیٰ منورملک، سید زاہد علی، نازلی فیصل، نرجس مختار، اسلم قریشی، قرأت نقوی، پرنس افضل شاہین، شہزادہ بشیرمحمد نقش بندی، چاچا چھکن، محمّد سلیم راجا اور نواب زادہ صاحب قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب کو بھی میری جانب سے بہت سی دُعائیں اور سلام۔
کسی کا نام رہ گیا ہو تو معذرت۔ محمود میاں نجمی غالباً آج کل ’’اخبارِجہاں‘‘ میں مضامین لکھ رہے ہیں۔ مطالعہ نہیں کیا۔ ہاں، کینیڈا میں اُن کے ’’قصص القرآن‘‘ سلسلے کے بیانات سُننے کا موقع ضرور ملا۔ ان شاء اللہ آئندہ خط میں میگزین کے مندرجات سے متعلق تفصیلی رائے سے آگاہ کروں گا، میری مسز بھی تمہیں اور تمہاری ٹیم کو سلام و دُعا کہہ رہی ہیں۔ (پروفیسر سید منصور علی خان، کراچی)
ج: وعلیکم السلام سر! ہم اتنی دُعاؤں، محبّتوں، چاہتوں اور حوصلہ افزائیوں پر تہہ دل سے آپ کے ممنون و شُکرگزار بلکہ مقروض ہیں۔
* افسانے’’شمعِ توکل‘‘ کا اندازِ تحریر پسند آیا۔’’ناقابلِ فراموش‘‘ کا واقعہ ’’پردۂ غیب سے مدد‘‘ کافی پُراسرار تھا۔ محمّد ریحان کا جھیل سیف الملوک کا سفرنامہ اور آخر میں نظم کا تڑکا لُطف دے گیا۔ ’’اسٹائل رائٹ اَپ‘‘ پرآپ کا نام دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ ویسے ماڈل کی تعریف میں آپ نے زمین آسمان کے قلابے مِلا دیئے۔ خیر تھی بھی بہت ہی پیاری۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘کی دونوں اقساط ایک ساتھ پڑھیں۔
محمد صفدر خان چاکلیٹ کیک کی ترکیب لائے،جب کہ جمشید عالم’’بھنڈی‘‘ کے فوائد گنوارہے تھے۔ شُکر ہے، بھنڈی یہاں بھی دست یاب ہے۔ نئی کتابوں میں ’’پوشیدہ کائنات‘‘ پہ تبصرہ دل چسپ تھا۔ مجھے ایسے ہی موضوعات اپنی طرف متوجّہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سکندر’’ذہنی صحت‘‘ پر عُمدہ مضمون کے ساتھ آئے۔صحافی، صلاح الدین کی کہانی کی کیا ہی بات تھی، خصوصاً بچّوں کے ساتھ تصویر پسند آئی کہ ایسی پرانی تصاویر دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔
مصباح طیّب نے اپنے گھر کے پیپل کو یاد کیا، تو مجھے بھی نانا کے گھر کا آم کا درخت یاد آگیا، جس کا سایہ پورے صحن میں پھیلا ہوتا تھا۔ ہائے؎ کیا کیا ہمیں یاد آیا، جب یاد تِری آئی…اِس بار’’ناقابلِ اشاعت کی فہرست‘‘ بہت طویل تھی۔ایک ایک تحریر کا عنوان بغور پڑھا کہ اُس میں بھلا کیا کیا لکھا گیا ہوگا۔ پہلے ہر ہفتے ای میل کرتی تھی، پھر دو ہفتوں بعد، لیکن پھر آپ نے کہا، بہت ای میلز جمع ہوگئی ہیں، تو فیصلہ کیا، بس اب مہینے میں ایک میل کروں گی۔ ’’خواب راستے پرتھمے قدم‘‘کیا سحر انگیز تحریر تھی۔
آخری جملوں نےتو بہت دیرحصار میں لیے رکھا۔ ’’اسٹائل‘‘پرآپ کی جگمگاتی تحریر دیکھ کے دل خوشی سے لب ریز ہوگیا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں، لوکی کےرائتےکی ترکیب پسند آئی۔صاعقہ سبحان شکوہ کررہی تھیں کہ میری ای میلز زیادہ شایع ہوتی ہیں، تودفاع میں بس اتنا کہوں گی کہ مَیں دنیا کے دوسرے کنارے رہتی ہوں، میرے لیے خط لکھنا گویا ناممکن ہی ہے، تو دوسروں کی نسبت ای میلز پر میراحق زیادہ ہی بنتا ہے۔ ثانیہ نے’’محبّت‘‘کے موضوع سےخُوب انصاف کیا اور ماڈل کا کالا غرارہ پسند آیا۔ نیلم احمد بشیر کے افسانے ’’قیمتی‘‘ کا اختتام بہت دردانگیز تھا۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
ج: تمھیں امریکا میں رہ کر میلز پر میلز کرنے کی فرصت میسّر ہے، حیرت ہے۔ اور اگر یہ بےغرض محبت ہے، تو بھی حیرت ہے۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk