• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دستِ خالق نے بنی نوع انسان کو خلق کیا تو ’’احسنِ تقویم‘‘ یعنی بہترین ساخت اور اشرف المخلوقات کی سند بھی عطا کی۔ یہ مُہر محض بیرونی خدوخال اور ظاہری حال و جمال کے لییے نہیں بلکہ بشری صلاحیتوں کو بامِ کمال تک پہنچانے کی بھی ہے۔ 

ہمارے اِس نئے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس اُن بڑے اور مثالی انسانوں کے دل چسپ و دل آویز شخصی خاکے لکھیں گے، جنہوں نے خدا کی عطا کردہ اس مُہر کو صد فی صد درست ثابت کیا اور اپنے اپنے میدان میں تاحدِ امکاں عُروج پا کر دستِ خالق کی مُہر کی تصدیق کی۔ یہ نادرِ روزگار شخصیات ادب، اداکاری، سیاست، صحافت، کھیل، بیوروکریسی، بزنس، تعلیم اور صحت وغیرہ کے شُعبوں کے درخشندہ ترین ستارے ہوں گے۔

رحمان فارس ایک سینئر بیوروکریٹ (اسلام آباد میں تعینات ہیں)، انتہائی مقبول، ہردل عزیز شاعر اور کالم نگار ہیں۔ اُن کے تین شعری مجموعے شائع ہو کر بے پناہ مقبولیت حاصل کر چُکے۔ نیز، سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کے مقبول ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ہاں… ہمیں ، ہمارے اس نئے سلسلے سے متعلق بھی اپنی آراء سے آگاہ کرنا ہرگز مت بھولیے گا۔ (ایڈیٹر، سنڈے میگزین)

مستنصرحُسین تارڑصاحب سےجُڑی میری پہلی یاد بھاگم دوڑ کی ہے۔ صُبح سویرے اسکول پہنچنے کی لپک جھپک میں پی ٹی وی کے شو ’’صبح بخیر‘‘کی جھلملاتی جھلک،باورچی خانے میں دُھویں کے مرغولے اور ناشتے میں گرما گرم انڈا، پراٹھا، چائے ہڑپ کرتے ہوئے بیک گراؤنڈ میں ’’چاچا جی‘‘ یعنی تارڑ صاحب کی بے تکلف، سادہ آواز اور پنجابی مِلا اُردو لہجہ، اسکول کے لیے روانگی سے عین قبل چاچا جی کا من بھاؤنا اعلان کہ ’’بچو! کارٹون دیکھ کر جانا۔‘‘ 

مانو تو یُوں لگتا تھا، سیدھا مجھی سے ہم کلام ہیں۔بعض اوقات تومَیں اسکرین پر براجمان چاچا جی سےبےتکلفانہ باتیں کرنے لگتا۔ اُن کی گفتگو سمجھ آتی نہ آتی، لہجہ ضرور بھاتا تھا۔ صاف سُتھرا، سَچّا سُچّا، سیدھا اور سہل۔ باہر اسکول وین والا ہارن پر ہارن بجاتا، اِدھر امّاں، ابّا سے ڈانٹ پِٹتی، مگر کارٹون کا آخری منظر دیکھے بغیر مجال ہے کہ صاحب زادے ٹس سے مس ہو جائیں۔ اِدھر کارٹون ختم، اُدھر ہم ایک ہی لمبی سی لنگُوری پھلانگ میں صحن کے پار، دروازے سے باہر اور اسکول روانہ۔ 

ہماری نسل کے بچپن میں تارڑ صاحب کی تربیت کا عمل دخل ناقابلِ فراموش ہے۔ مگراصل کہانی کہیں بہت پُرانے پُراسرار دَور سے شروع ہوتی ہے۔ قصّہ کچھ یُوں ہےکہ ابّا کے لائبریرین اور اماں کے اُستانی ہونے کے باعث بچپن ہی سے گھر میں مُطالعے کا چلن اور شعروادب کا مسلسل ماحول تھا۔ پڑھنے کی لت پڑی تو ایک دِن عُقدہ کُھلا کہ یہ جو ’’کالاش‘‘، ’’ہُنزہ داستان‘‘، ’’خانہ بدوش‘‘ اور’’دیوسائی‘‘ جیسے دیومالائی،اساطیری لہجے کے حیرت نامے اور داستانیں لکھنے والے انکل ہیں، ارے بھئی، وہی کڈھب، کٹھن اور کٹھور سے نام والے کہ جن کا نام لیتے ہوئے مُڑنے تُڑنے سے زبان کو موچ آجاتی ہے، یہ وہی اپنے’’چاچاجی‘‘ہیں، جوصُبح سویرے ہمیں کارٹون دکھاتے ہیں۔ 

باپ رے! پہلا ری ایکشن بچگانہ معصوم حیرت کا تھا۔ ’’یارحسنین!‘‘مَیں نے اپنے چھوٹے بھائی سے پوچھا۔ ’’اپنے چاچا جی تو ہمیں روزانہ کارٹون دکھاتے رہتے ہیں، پھر آخریہ اتنے دُوردرازکوہ قاف ٹائپ علاقوں میں بھلا کب اور کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ حیرت ہے بھئی، چاچا جی اُندلس، ماسکو، نیپال، آسٹریلیا اور امریکا جانے کا وقت کیسے نکال لیتے ہیں؟‘‘ اور یہ اُلجھن بہت بعد میں سُلجھی۔ اس سُلجھاؤ کی کہانی آپ کو بعد میں بتاتا ہُوں۔

سرِدست یہ جان رکھیےکہ تارڑصاحب کے’’چاچاجی‘‘والے رُوپ کو پاکستان بھر نے اپنے خانۂ اندروں تک مکمل رسائی دے رکھی تھی، یہاں تک کہ بچّوں، بڑوں کو بلاشرکتِ غیرے نصیحت کرنے کا اختیار بھی تفویض کررکھا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے ہر خاندان میں ایک عدد ’’چاچا جی‘‘ ہوتے ہی ہیں اور پاکستان نامی خاندان کے چاچا جی تارڑ صاحب تھے۔

صاحبو! مستنصر حُسین تارڑ بلاشُبہ ہمارے عہد میں اُردو فِکشن کا بہت بڑا نام ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یکم مارچ، انیس سو انتالیس کو جنم لینے والے مستنصر اور راقم الحروف کا ستارہ ایک ہی ہے، یعنی حَوت۔ مچھلیوں کے نشان والا۔ ہم پانی کے گیانی اور چکنے تخیّل والے Pisces، دھیان کی اُڑان میں ثوابت و سیار پار کرآتے ہیں۔ 

خُود ہی دیکھ لیجے، تارڑ صاحب کو نہ صرف اپنے من کی موج میں بہہ جانا آتا ہے بلکہ وہ اُس بہاؤ کی کیفیت کو مدُھر نثر میں دیدہ زیب خدوخال کی تفصیلی ترین جُزئیات سمیت حنوط کرلینے پربھی قادر ہیں، جیسے کوئی معجزہ کارعطّار، یادوں کا عِطر نکال کر شیشے کی مُنّی سی بوتلیا میں بند کرلے۔ سچ تو یہ ہے کہ مُسافر ہونا بہت ہمّت کی بات ہے۔ گھر کی محفوظ و اطمینان بخش حدود چھوڑ کر نادیدہ خِطّوں کے خطرے مول لینا، ہرکس وناکس کے بس کی بات نہیں۔ 

لوہے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسّس، اور مستنصر میں یہ دونوں عناصر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ اُن کا حوصلہ اُنہیں مرحلہ وار زمان ومکان کے پار، دیار در دیار لے جاتا ہے، اپنے تجسّس کی انگلی تھامے وہ برِّاعظم در برِّاعظم تحیّرگاہوں میں جھانکا کرتے ہیں۔ جب چاہا، ایک پُراسرارخانہ بدوش کا بھیس بنایا اورکسی بھی اجنبی پردیس کو دیس بنالیا۔ بات یہیں تھم جاتی تو شاید اُردو زبان اُن شہ کاروں، شہ پاروں سے محروم رہتی کہ جو مستنصر نے اُسے عطا کیے۔ موصوف محض مسلسل خانہ بدوش ہی نہیں، خامہ بدست بھی رہے۔ 

اُنہوں نے سات سمندر پار کے گلی کُوچوں کی روشنی کو دوات میں اُنڈیل کر اپنے قلم کی روشنائی بنالیا۔ غالب کے ہاں صریرِخامہ نوائے سروش تھی، مستنصر کے ہاں نثر انعامِ سفر ہے۔ سوچیے، اگر مستنصر کے تمام اسفار کے تمام اَسرار اُنہی کے سینے میں دبے رہ جاتے؟ خدائے تخلیق نے اُن کے ہر سفر سے من موہنی نثر اور نثر سے لازوال اثر نتھی کردیا۔ وہ اس بات پر قادر ہیں کہ شام ڈھلے یا رات رہے، اطالیہ کے کسی دُوردراز قصبے کے سفر پر نکلیں تو ہمیں، تمہیں اپنی سفری پوٹلی میں باندھ بوندھ کر لے جائیں۔ 

وہ چاہیں تو اپنی نثر کی نادیدہ تار سے آپ کو قدیمی یورپ کی کسی شامِ خوش خرام میں اتار دیں، جہاں اہتمام پریوں کا ہو اور قیام و طعام رس بھریوں کا۔ اُنہیں قاری کواپنے حواسِ خمسہ بلکہ چھٹی حِس کے تجربات و کیفیات میں شامل کرنا خُوب آتا ہے اور اس کارِخیر میں وہ بُخل سے کام نہیں لیتے۔

کچھ برس قبل مجھےمادام پروین قادر آغا کا حُکم نامہ موصول ہوا کہ پروین شاکر ٹرسٹ کے پینل سے مستنصر حُسَین تارڑ صاحب کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے گزارش کی گئی ہے۔ گرقبول افتدز ہے عزوشرف۔ ناچیز کی ذمّے داری رابطے کی بھی تھی، ناظمِ محفل کی بھی۔ یہی وہ مدُھرمحفل تھی، جس میں میری بچپن کی اُلجھن سلجھی کہ مستنصر کیسے اتنے سفر کر لیتےتھے۔ راز یہ تھا کہ سفر سے عین قبل اُنہوں نے کبھی رختِ سفر کا حساب کتاب کیا ہی نہیں۔ 

سُود و زیاں ماپا، نہ نفع و نقصاں، کوئی پوٹلی بنائی، نہ بکس بھرا۔ بس سفر کا پل آیا تو دل کی پُکارپریہ سوچ کرچل دیے کہ ؎ سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے… ہزار ہا شجَرِ سایہ دار راہ میں ہے۔ مسافر نواز سے یاد آیا۔ عاشقینِ تارڑ کے لیے یہ بات بےانتہا دل چسپ ہے کہ تارڑ صاحب خانہ بہ خانہ، دَر بہ دَر، کُوچہ بہ کُوچہ کُو بہ کُو اور دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، چشمہ بہ چشمہ، جُو بہ جُو پِھرے تو ہرجا کوئی دل رُبا نگاہِ مہرباں ملی، کوئی جاں لیوا ادا میزباں ملی۔ 

تارڑصاحب کے سفرناموں میں حسینائیں جس مقدار ومعیار میں موجود ہیں (اور محض موجود ہی نہیں بلکہ بقول یوسفی سرتاپا مائلِ لُطف و کرم بھی) اس سے یقینِ کامل ہوتا ہے کہ پچھلے جنم میں تارڑصاحب راجا اِندراور اگلے جنم کام دیوتا ہوں گے۔ مگر صاحبو! تارڑ صاحب کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے اُن جیسی صلاحیتوں سے مالامال ہونا بھی ضروری ہے، وگرنہ آج کل کےراجا اِندر تو اکثر ’’اَندر‘‘ ہی ہوجاتے ہیں، سو احتیاط لازم ہے۔ 

یہ بات البتہ درست ہے کہ تارڑ صاحب کے سفرناموں نے پاکستانی مردوں میں وجاہت کا احساس راسخ کر کےاُنہیں یہ یقین دِلا دیا ہےکہ دُنیا بھر کی اپسرائیں ہم سے فلرٹ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔ کیوں کہ تارڑ صاحب جہاں بھی جاتے رہے، صنفِ نازک نے اُن کا استقبال مُسکراتے اشاروں، معنی خیز استعاروں ہی سے کیا۔ شاید اُنہیں یقین ہوتا ہوگا کہ اُن کے اگلے سفرناموں کی ہیروئنز وہی ہوں گی۔ بات یہ ہے کہ حاسدین لاکھ معترض رہیں، لیکن ایسی اندرسبھا جمانے اورایسا حرم وحریمِ حُسن تعمیر کرنے کے لیے ڈھیروں حوصلہ چاہیے، جو آج کل کے تُھڑدِلوں میں عنقا ہے۔

تارڑ صاحب کے مَن میں جو مَن موجی موجیں مارتا، مَن مانیاں کرتا تھا، وہ آج کل کے محتاط، مصروف اور منظّم زمانے میں دوبارہ مشکل ہی جنم لے سکتا ہے۔ ہم اپنے اوقاتِ کار کی کاٹھ میں کَسے، اپنی اوقات کے ڈسے، اپنے مُحلّے ہی سے باہر قدم دھرنے سے پہلے سات بارسوچتے اور نفع نقصان کی جمع تفریق کرتے ہیں، ہم کیا خاک، دشت و دمن کی خاک اُڑائیں گے۔ ہم نےمحض پڑھ، سُن رکھا ہے کہ’’سفر، وسیلۂ ظفرہے۔‘‘ تارڑ صاحب کا اس پر کامل ایمان تھا، اور ہے۔

وہ بس توکّل علی اللہ پرچل پڑتے تھے۔ عموماً فِکشن نگاروں کا ماضی سے تعلق جُزوقتی سیّاحوں والا ہوتا ہے کہ’’یاد آباد‘‘ کا دو طرفہ ٹکٹ لیا، کچھ روز رہے اور سورج ڈھلنے سےقبل ہی پلٹ آئے۔ مگر ہمارے پیارے تارڑصاحب نےماضی میں مستقل سکونت اختیار کررکھی ہے۔ اُن کی کہانیوں اور سفرناموں میں ماضی کا تقدّس ہرحال میں بڑھ رہا ہے۔ 

اُن کے سامنے کبھی پاکستان ٹیلی ویژن کا ذکر چھیڑ کر دیکھیے، اُن کی آنکھیں اُس عاشقِ دل گیر کی طرح چمک اُٹھیں گی، جس کے سامنے اُس کے عشقِ اوّلیں کا نام لے لیا گیا ہو۔ تارڑ صاحب کے دولت کدے پر حاضری کے دوران ایک بار اُن کے اسٹڈی رُوم کے درشن بھی نصیب ہوئے۔ روایت اُس کمرے کی فضا میں رچی بسی ہے۔ مُنّا سا ہے، مگر کائناتوں پر مُحیط۔ لکڑی کی ایک خُوب صُورت میز، جس پرکاغذ، قلم، دوات دھرے ہیں۔ سوچیے، اس میز کا تخلیقی میزان نکالا جائے تومتعدّد کتب خانوں پر بھاری ہوگا۔

تارڑ صاحب کے کچھ مُعاصرین اس بات پر بھی شاکی ہیں کہ موصوف کسی ادیب، شاعر کو خاطرمیں نہیں لاتے اور میرصاحب والے نظریۂ عظمت پر قائم دائم بلکہ مُصر ہیں کہ ؎ سارے عالم پر ہُوں مَیں چھایا ہُوا… مُستند ہے میرا فرمایا ہُوا۔ ہمارے خیال میں یہ خُودپسندی نہیں، خُودنگری، خُود شناسی اور خُود آگاہی ہے۔ تارڑ صاحب اپنا مقام و مرتبہ بخوبی جانتے ہیں اور یہ نصف صدی سے بھی دس بیس برس زیادہ کا قصّہ ہے۔ ویسے بھی اتنے ارفع کانٹری بیوشن کے بعد اُن کا یُوں مدح و ذم سے یک سر ماورا ہوجانا بنتا بھی ہے۔ 

ہم نے ایسی ہی بےنیازی مشُتاق احمد یوسفی کے ہاں بھی دیکھی اور احمد مشتاق کے ہاں بھی۔ شُنید ہے کہ مختار مسعود بھی ایسےہی بےنیازِ تحسین و تنقید ہوگئے تھے۔ ناچیز کی رائے میں (جو لازم نہیں کہ ناقص ہی ہو) نادرِروزگار شخصیات کو جب اپنی عظمت کا پرتَو اپنے آس پاس دکھائی نہیں دیتا تو اُن کا دِل دُکھتا ہے۔

ہر خلّاق ہستی چاہتی ہے کہ وہ اپنا ہی عکس چہارسُو دیکھے، لہٰذا نابغوں کے لیے یہ تعلّی نہیں، خُود شناسی ہے اور ہم اِسے جائز سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی جتنی طویل اور مسلسل داستانِ شہرت تارڑ صاحب کی ہے، اس طوالت وتسلسل کو وطنِ عزیز میں پہلے شُکرشُکرانے، بعد میں شکوک و شُبہات اور آخر میں شرارت کے نُقطۂ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تارڑ صاحب کی عظمت اب اُن لوگوں کے لیے بھی مصدّقہ ہے، جو اُن کی عظمت سےمُنکر ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ 

پندرہ سیکنڈ کے Reel کلچر، پلک جھپکتے ادلتی بدلتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کی چکا چوند اور ’’انسان ازم‘‘ کے علی الاعلان خاتمے نے ہماری توجّہ کا دورانیہ سمیٹ کر کچھ ثانیوں تک محدود کردیا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کسی زمانےمیں چھےدن کی ہوا کرتی تھی، پھر پانچ کی رہ گئی۔ اُس سے بورہوئے تو ون ڈے کرکٹ ایجاد ہوئی، پھر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کہ چند گھنٹوں میں میچ ختم۔ اب تو سُنا ہے، ایک ایک اوورکا میچ بھی ہوا کرے گا۔ داستان کسی زمانے میں ضخیم وعظیم اور لحیم شحیم ہوا کرتی تھی۔ 

الف لیلیٰ اور طلسمِ ہوش رُبا جیسی ہزاروں صفحات میں پھیلی کہانیوں میں کہانیاں، فسانہ در فسانہ، پلاٹ آگے بڑھتا۔ وقت کی قِلّت نے داستان کو سمیٹ کرناول بنادیا، جو مزید بونا ہو کر ناولٹ رہ گیا، مزید کم ہوا تو شارٹ اسٹوری یعنی افسانہ اور اب فلیش فِکشن یعنی ایک سو لفظوں کی کہانی یا پچیس لفظوں کی کہانی۔ ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں بچا۔ ہمارے پاس اب سر کُھجانے کی فُرصت نہیں، لیکن اگر دن کے اختتام پر سارے دن کی مصروفیات کا جائزہ لیں تو شاید ایک آدھ ہی ایسا کام ہو، جو ہم نے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یا مَن کےبُلاوے پر قدم بڑھاتے ہوئے کیا ہو۔

تارڑ صاحب نے ڈراما نگاری کی تو باکمال، اداکاری کی تو بےمثال، کالم نگاری کی تو پُر جمال۔ شاید قدرت نےموصوف کی صُورت میں وہ امکان تخلیق کیا کہ جسے کروڑوں گُم صُم پاکستانیوں کی آواز اور نظرانداز شدہ عوام کا اعزاز بننا تھا۔ اُن کی تخلیقات کی تحسین تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ’’تارڑ نامہ‘‘ سے ’’پیار کا پہلا پنجاب‘‘ تک، ’’لاہور آوارگی‘‘ سے ’’کاروان سرائے‘‘ تک، ’’راکا پوشی نگر‘‘ سے ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ تک، ’’شہپر‘‘ سے ’’راکھ‘‘ تک، ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ سے ’’پکھیرو‘‘ تک، ’’منہ وَل کعبے شریف‘‘سے ’’ہُنزہ داستان‘‘ تک اور’’بہاؤ‘‘ سے’’منطق الطیر، جدید‘‘ تک اُن کی عظمت کے ثبوت ہماری یادداشتوں پر نقش ہیں۔

محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ وہ چھے سات دہائیوں سے ارفع ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ تارڑ صاحب ہماری قوم کے تمام موسم ہیں، فصلِ لالۂ و گُل بھی، پت جھڑ کی رُت بھی۔ وہ محض ایک اعلیٰ پائے کے ادیب ہی نہیں، ہماری قوم کا اجتماعی حافظہ اور مجموعی یادداشت ہیں۔ ٹیلی ویژن ہو یا کتاب، گھر ہو یا سفر، مستنصر حُسَین تارڑ کے دکھائے کارٹون اور خواب، اُن کے لکھے سفرنامے اور کہانیاں دیوانیاں، سب ہمارے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ وہ نام کہ جس کے کڈھب تلفّظ و املا پر یادگار پی ٹی وی پروگرام ’’ففٹی ففٹی‘‘ نے خاکہ بنایا، آج نہایت سہولت سے پاکستانیوں کی زبانوں پر رواں اور دِلوں میں عیاں ہے۔

دوستو! دنیا کے تمام عظیم داستاں گوئوں اور کہانی کاروں کی طرح تارڑ صاحب آج بھی کہانی کہہ رہے ہیں اور ہم مبہوت ہوکراُنہیں سُن رہے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید