• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: ڈاکٹر فاروق عادل

صفحات: 208، قیمت: درج نہیں

ناشر: قلم فانڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔

فون نمبر:0515101 - 0300

ڈاکٹر فاروق عادل ایک سینئر صحافی کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں، تو ادب بھی اُن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کی زندگی الطاف حسن قریشی، محمّد صلاح الدّین، مجیب الرحمان شامی اور سجّاد میر جیسے معتبر و مستند صحافیوں کے درمیان گزری، اِس لیے ان کی تحریروں میں بھی آزادیٔ افکار اور جرأتِ اظہار کی بازگشت سُنائی دیتی ہے۔ ایک بڑے صحافی کے تمام اوصاف اُن میں موجود ہیں۔ ہمارے پیشِ نظر اُن کا سفرنامۂ تُرکیہ ہے، جسے 32عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اندازِ تحریر اِتنا رواں دواں ہے کہ قاری بھی اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے۔ عموماً سفرناموں میں ابہام زیادہ ہوتا ہے، لیکن اِس سفرنامے کا ایک ایک لفظ اپنی سچّائی کی گواہی دے رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کتاب کے’’پیش لفظ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’تُرکیہ بار بار جانے کی وجہ سے مجھے بعض ایسی جگہوں پر بھی جانے کے مواقع ملے، جو سیّاحوں کی فہرست میں عام طور پر نہیں ہوتے۔

مَیں نے بہت سے مختلف مقامات کو دیکھا، لوگوں کے ساتھ گُھل مل بیٹھا، اُن کے ساتھ دال، ساگ کھایا اور گپ شپ کی، یوں مجھے میرے سوالوں کے جوابات ملتے چلے گئے۔‘‘ اِس سفرنامے سے متعلق خورشید ندیم نے تحریر کیا ہے کہ’’ فاروق عادل کو اللہ تعالیٰ نے وہ قلم عطا کیا، جو رنگا رنگی کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اور اُن کا یہ سفرنامہ اِس پر گواہ ہے۔

وہ مشاہدے کو اِس مہارت کے ساتھ تاریخ سے ہم آہنگ کرتے ہیں کہ اُن کا قلم دو رنگی روشنائی میں ڈوبا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ مذہب و سیاست کی تعبیرات و تنوّع سے اُن کی آگاہی نے اِس سفرنامے کو دل کے ساتھ، دماغ کا بھی مخاطب بنا دیا ہے۔ اِس کا مطالعہ ایک طرف آپ کو وہ لذت دیتا ہے، جو ادب کا خاصّہ ہے، تو دوسری طرف فکر و نظر کے لیے وہ مواد فراہم کرتا ہے، جو تحقیقی مقالے کا امتیاز ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید