عید الاضحیٰ محض ایک تہوار نہیں، بلکہ یہ اس عظیم الشّان سنّتِ ابراہیمیؑ کی یادگار ہے، جو ہمیں ایثار، قربانی اور اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کا درس دیتی ہے۔ جہاں یہ مقدّس دن مسلمانوں کے لیے مذہبی جوش و خروش اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام لاتا ہے، وہیں ہماری اخلاقی اور شہری ذمّے داریوں کا بھی ایک بڑا امتحان ہے۔
اسلام کی آفاقی تعلیمات میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عبادات کی قبولیت اور تقویٰ کا اظہار، ہمارے ظاہری ماحول کی پاکیزگی سے بھی وابستہ ہے۔ بدقسمتی سے، قربانی کے فریضے کی ادائی کے دَوران آلائشوں اور فضلے کی غیر مناسب تلفی ایک سنگین مسئلہ بن کر اُبھرتی ہے۔
سڑکوں پر بہتا خون، گلیوں میں بکھرا فضلہ اور کُھلے مقامات پر پڑی آلائشیں نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہیں، بلکہ تعفّن اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذا، سنّتِ ابراہیمیؑ کی اصل رُوح برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عبادت کے ساتھ، گرد و پیش صاف ستھرا رکھنے کے اصولوں کو بھی اپنا شعار بنائیں۔
انفرادی روش اور اجتماعی مسائل
عیدِ قربان کے موقعے پر صفائی ستھرائی کے ضمن میں سب سے بڑا چیلنج ہمارا وہ عوامی رویّہ ہے، جو انفرادی سہولت کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کے اندر گندگی سے بچنے کے لیے باہر گلی محلّوں اور فٹ پاتھ وغیرہ پر جانور ذبح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں سڑکیں خون اور غلاظت سے بَھر جاتی ہیں۔
اِس روش کا سب سے خطرناک پہلو آلائشوں اور خون کو براہِ راست برساتی نالوں یا سیوریج کی لائنز میں بہانا ہے۔ یہ عمل نہ صرف نالوں کی بندش اور گندے پانی کے گلیوں میں پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے، بلکہ شدید تعفّن سے پورے علاقے کا ماحول بوجھل کر دیتا ہے۔
مزید برآں، شہری انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ کچرا کنڈیوں کی بجائے کچرا کُھلے مقامات پر پھینکنا بلدیاتی اداروں کے لیے ایک ایسا انتظامی بوجھ بن جاتا ہے، جسے محض چند دنوں میں سنبھالنا ناممکن ہوتا ہے۔ عوامی شعور کی کمی اور شہری انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون کا یہ رویّہ عید کی خوشیوں کو ایک ماحولیاتی بحران میں بدل دیتا ہے، جس کا خمیازہ بالآخر شہریوں ہی کو بیماریوں اور ذہنی اذیّت کی صُورت بُھگتنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کا آئینہ: ایک گمبھیر انتظامی چیلنج
عید الاضحیٰ کے ایّام میں صفائی کے انتظامات محض ایک بلدیاتی مشق نہیں، بلکہ ایک بہت بڑا ماحولیاتی چیلنج بن کر سامنے آتے ہیں۔ اگر صرف کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر کی مثال ہی لی جائے، تو ایک محتاط اندازے کے مطابق، عید کے تین دنوں میں10 سے 15لاکھ کے قریب چھوٹے، بڑے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، ایک بڑے جانور سے اوسطاً 40سے 60 کلوگرام اور چھوٹے جانور سے20 سے30کلو گرام تک ایسا فضلہ پیدا ہوتا ہے، جو استعمال کے قابل نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں صرف کراچی شہر میں اِن تین دنوں کے دَوران70 ہزار سے ایک لاکھ ٹن تک اضافی فضلہ اور آلائشیں جمع ہو جاتی ہیں۔
یہ مقدار شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے عام کچرے سے کئی گُنا زیادہ ہے، جسے محض 72گھنٹوں کے اندر ٹھکانے لگانا کسی بھی انتظامیہ کے لیے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ پورے مُلک کی سطح پر یہ حجم لاکھوں ٹن تک پہنچ جاتا ہے، جو اگر بروقت اور سائنسی طریقے سے تلف نہ کیا جائے، تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرتا ہے، بلکہ ہیضہ، ٹائی فائیڈ، ناک، حلق اور سینے کی بیماریوں جیسی وباؤں کے پھیلنے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
آلائشوں کی محفوظ تلفی اور انفرادی ذمّے داری
قربانی کے جانور کے فضلے کو(جس میں ہڈیاں، سری/پائے، خون، انتڑیاں، اوجھڑیاں اور چربی وغیرہ شامل ہیں) ٹھکانے لگانا محض حکومت یا بلدیاتی اداروں کا کام نہیں، بلکہ یہ ایک دینی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ ایک ذمّے دار شہری کے طور پر ہمیں اِس عمل کو ایک مربوط طریقۂ کار کے تحت سرانجام دینا چاہیے۔ اِس سلسلے میں سب سے پہلا قدم پری پلاننگ یا پیشگی منصوبہ بندی ہے۔
عید سے قبل ہی مناسب حجم کے مضبوط اور بڑے پلاسٹک بیگز (Garbage Bags) کا انتظام کرنا ضروری ہے تاکہ قربانی کے فوری بعد تمام آلائشوں کو اُن میں بَھر کر مضبوطی سے بند کیا جا سکے۔ یہ عمل نہ صرف تعفّن پھیلنے سے روکتا ہے، بلکہ کچرا اُٹھانے والے عملے کے لیے بھی آسانی پیدا کرتا ہے۔ صفائی کا یہ نظام دراصل تقویٰ کا عملی مظاہرہ ہے، کیوں کہ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ جگہ کے انتخاب اور فوری صفائی کے ضمن میں بھی ہمیں اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔
اپنی سہولت کے لیے گلی کے بیچوں بیچ یا گھر کی دہلیز پر جانور ذبح کرنے کی بجائے اگر بڑے میدانوں، باڑوں یا انتظامیہ کے مخصوص کردہ مقامات کا انتخاب کیا جائے، تو گنجان آباد علاقوں کو غلاظت سے بچایا جا سکتا ہے۔ قربانی کے فوری بعد ذبح کی جگہ کی صفائی ناگزیر ہے۔ عام طور پر خون کو پانی سے بہا کر گلی میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جو خشک ہو کر جراثیم کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔
اِس کا بہتر حل یہ ہے کہ خون پر فوری طور پر مٹی یا چُونا ڈال دیا جائے کہ چُونا نہ صرف جراثیم کُش ہے، بلکہ بُو ختم کرنے میں بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ پھر آلائشیں درست ٹھکانے تک پہنچانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔ پلاسٹک بیگز میں بند آلائشوں کو گھر کے باہر یا گلی کے کونے پر پھینکنے کی بجائے بلدیاتی اداروں کے مقرر کردہ’’کلیکشن پوائنٹس‘‘ یا کچرا کنڈیوں تک پہنچانا ہر شہری کی ذمّے داری ہے۔
اگر ہم میں سے ہر شخص صرف اپنے حصّے کے جانور کا فضلہ ذمّے داری سے ٹھکانے لگا دے، تو شہر کے لاکھوں ٹن فضلے کو سنبھالنا انتظامیہ کے لیے ممکن ہو جائے گا۔ یاد رکھیے، ہماری تھوڑی سی کاوش پورے معاشرے کو وبائی امراض سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
صحتِ عامّہ اور ماحول پر اثرات
آلائشوں کو غیر مناسب اور غیر سائنسی طریقے سے تلف کرنا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عمل صحتِ عامّہ کے لیے گویا’’ٹائم بم‘‘ ہے۔ قربانی کے فضلے کو کُھلے عام چھوڑنے یا نالوں میں پھینکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شدید تعفّن اور گندگی ایسی مہلک بیماریوں کی وجۂ افزائش بن جاتی ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے وَبا کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ان ایّام میں ہیضہ (Cholera)، ٹائی فائیڈ، اسہال(Diarrhea) اور سانس کی بیماریوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
حبس اور گرمی کے موسم میں یہ آلائشیں مکھیوں اور مچھروں کی کثرت کا باعث بنتی ہیں، جو بالآخر ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض کے پھیلاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ اِس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو’’کانگو وائرس‘‘ اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی دیگر’’زونوٹک‘‘(Zoonotic) بیماریاں ہیں، جن کے جراثیم خون اور فضلے کے ذریعے تیزی سے پھیل کر انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
مزید برآں، جب یہ آلودہ فضلہ زیرِ زمین رِس کر یا نالوں کے ذریعے پانی کے ذخائر تک پہنچتا ہے، تو یہ پینے کے پانی کو بھی زہریلا کر دیتا ہے، جس کے اثرات عید کے کئی ہفتوں بعد تک انسانی صحت کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا، صفائی کے نظام میں ذرا سی غفلت پورے معاشرے کو ایک بڑے طبّی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔
شہری انتظامیہ اور محکمۂ صحت کا کلیدی کردار
عید الاضحیٰ کے دوران صفائی ستھرائی کے آپریشن کی کام یابی کا دارومدار شہری انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور محکمۂ صحت کے درمیان مثالی اشتراکِ عمل پر ہے۔ بلدیاتی اداروں کی یہ بنیادی ذمّے داری ہے کہ وہ عید سے قبل’’ویسٹ بیگز‘‘ کی گھر گھر تقسیم کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو آلائشیں محفوظ کرنے میں دشواری نہ ہو۔ کچرا اُٹھانے والی گاڑیوں کی بروقت دست یابی اور صفائی کے عملے کی فعال موجودگی ہی وہ عوامل ہیں، جو شہر کو تعفّن کا ڈھیر بننے سے بچا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ، حکومت کی جانب سے قائم کردہ مخصوص’’شکایت مراکز‘‘ اور’’ہیلپ لائنز‘‘ کا فعال ہونا بھی ناگزیر ہے تاکہ شہری کسی بھی ہنگامی صُورتِ حال میں فوری رابطہ کر سکیں۔ دوسری جانب، محکمۂ صحت کا کردار بھی انتہائی حسّاس ہے۔ عید کے ایّام میں گیسٹرو، ہیضے اور دیگر موسمی وباؤں کے پیشِ نظر اسپتالوں میں ایمرجینسی نافذ ہونی چاہیے اور طبّی عملے کو الرٹ رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی طبّی صُورتِ حال یا وائرس کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
اِس سلسلے میں وزیرِ صحت، سیکرٹری صحت اور محکمۂ صحت، سندھ کا کردار قابلِ تعریف ہے، جن کی طرف سے ہر سال اسپتالوں اور مراکزِ صحت میں عید الاضحی سمیت مختلف تہواروں اور مواقع پر صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
تجاویز، جدید حل اور مستقبل کی حکمتِ عملی
عیدِ قربان پر صفائی کے دیرپا نظام کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ویسٹ مینجمینٹ کے ماڈلز اپنانا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑے شہروں میں’’موبائل ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشنز‘‘ قائم کرے اور آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لیے’’بائیو گیس پلانٹس‘‘ یا سائنسی طور پر ڈیزائن کردہ’’لینڈ فل سائٹس‘‘ کا استعمال کرے، تاکہ اِس فضلے کو توانائی یا کھاد میں تبدیل کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ، سماجی آگاہی کے لیے ایک کثیر الجہتی مہم بھی ناگزیر ہے۔ مساجد کے آئمۂ کرام خطباتِ جمعہ میں صفائی کی شرعی اہمیت پر زور دیں، جب کہ میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے مختصر ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو آلائشیں محفوظ طریقے سے تلف کرنے کی تربیت دی جائے۔ اسکولز اور کالجز کے طلبہ کو بھی’’کلین عید مہم‘‘ کا حصّہ بنا کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں صفائی محض ایک مہم نہیں، بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی ہو۔
روحِ عبادت اور پاکیزگی
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور سراپا تسلیم و رضا ہونے کا عمل ہے۔ اِس مقدّس فریضے کی رُوح اُسی وقت حاصل کی جاسکتی ہے، جب ہم اپنی عبادت سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔ صفائی ستھرائی برقرار رکھنا ایمان کا لازمی حصّہ ہے، لہٰذا ہماری قربانی کسی دوسرے کے لیے اذیّت یا بیماری کا سبب نہیں بننی چاہیے۔
ایک صاف ستھرا، مہکتا اور پاکیزہ ماحول ہی عید کی خوشیوں کو صحیح معنوں میں دوبالا کر سکتا ہے۔ اگر ہم انفرادی سطح پر ذمّے داری کا ثبوت دیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، تو نہ صرف وبائی امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں، بلکہ دنیا کے سامنے ایک باشعور اور مہذّب قوم کے طور پر بھی اُبھر سکتے ہیں۔
(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)