• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خانۂ کعبہ (بیت اللہ شریف) روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا جانے والا سب سے پہلا مقدّس گھر ہے۔ قرآنِ کریم (سورئہ آلِ عمران ، آیت نمبر96) اور احادیث کے مطابق، یہ مسلمانوں کا قبلہ، مرکزِ ہدایت اور برکت والی جگہ ہے۔ کائنات کے وجود میں آنے سے ہزاروں سال پہلے فرشتوں نے اللہ کے حُکم سے بیت المعمور کے زیرِ سایہ اس مقدّس گھر کی تعمیر کی۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات میں سب سے پہلے پانی پیدا فرمایا، جس پر اس کا عرش قائم تھا۔ پانی سے بخارات اُڑتے رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز ہوا بھیجی، جس نے پانی کو متحرک کیا اور اس جگہ، جہاں آج کعبہ ہے، وہاں ایک گول ٹیلہ یا جزیرہ (قبہ کی مانند) ظاہر ہوا۔

اسی ٹیلے پر فرشتوں نے آسمانوں پر قائم بیت المعمور کی سیدھ میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کی اور یہی جگہ مکّہ مکرّمہ کہلائی۔ امام رازیؒ تفسیر کبیر میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’مکّۂ مکرّمہ روئے زمین کے وسط میں واقع ہے۔ یہ زمین کی ناف ہے اور اس کے نیچے سے اللہ تعالیٰ نے زمین کو چاروں جانب پھیلادیا، اسی لیے ا سے ’’اُمّ القریٰ‘‘ یعنی بستیوں کی ماں کہاجاتا ہے۔‘‘ (تاریخِ مکّہ مکرّمہ، صفحہ 28)۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’بے شک (بیت اللہ) پہلا وہ گھر ہے، جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا، جو مکّے میں ہے، جو بابرکت اور جہان والوں کے لیے باعثِ ہدایت ہے۔‘‘ (سورۂ  آلِ  عمران، آیت 96)۔

کعبۃ اللہ، اُمّتِ مُسلمہ کا مرکز و محور

کعبۃ اللہ ربِّ ذوالجلال کا وہ مقدّس و محترم گھر ہے، جو توحید کا مرکز، ربّ عظیم کی ربوبیت کا مظہر، مقامِ رُشد و ہدایت، تجلّیاتِ ربّانی کا مظہر اور حُرمت و تعظیم کا مستقر ہے۔ یہ مسلمانوں کے دینی تشخّص، ملّی تحفّظ، اجتماعی وحدت، معاشی، معاشرتی اور سماجی زندگیوں میں اتحاد و اتفاق، نظم و ضبط، ایثار و قربانی اور باہمی احترام و محبّت کے قیام کا ذریعہ، تسلیم و رضا کا مظہر، مسلمانوں کی زندگی کا محور، اُن کی دُعاؤں کا مرکز اور روحانی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

کائنات کے وجود میں آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائے، تو آپ ؑ نے اللہ کے حُکم سے حضرت جبرائیلِ ؑ امین کی نشان دہی پر بیت اللہ شریف کی تعمیرِ نَو کی اور حج ادا کیا۔ طوفانِ نوح ؑ میں اللہ نے اپنے اس محبوب گھر کو آسمانوں پر اُٹھالیا تھا اور کرۂ ارض پر صرف ایک ٹیلہ باقی رہ گیا تھا، جس کی آغوش میں بیت اللہ کی بنیادیں پنہاں تھیں۔ اللہ کے حُکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے فرزند، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اُن پرانی بنیادوں پر بیت اللہ شریف کی دیواریں کھڑی کیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’ا ور جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ بیت اللہ کی بنیادیں اُونچی کررہے تھے، تو دُعا کرتے جاتے تھے کہ ’’ اے ہمارے پرورگار! ہماری یہ خدمت قبول فرما، بے شک تُو سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ آیت 127)

کعبۃ اللہ کی تعمیر مکمل ہو چکی، تو حکم ِالٰہی کا نزول ہوا۔’’اور تم لوگوں میں حج کا اعلان کردو (تم دیکھوگے) لوگ تمہارے پاس دوڑے دوڑے آئیں گے۔ پیدل بھی اور دُور دراز علاقوں سے دُبلی پتلی اونٹنیوں پر بھی۔‘‘ (سورئہ حج آیت 27)۔

فلسفۂ حج

حج اسلام کا پانچواں بنیادی رُکن اور ایک مقدّس عبادت ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ  نے صاحبِ استطاعت، عاقل، بالغ، تن درست مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض قرار دیا ہے۔ حج قولی، بدنی، قلبی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ حج کے لغوی معنیٰ ’’ارادہ کرنا‘‘ ہیں، لیکن اس کا شرعی مفہوم یہ ہے کہ حج کے مہینے کے مقصود دِنوں میں اسلام کے پانچویں رکن کی ادائی کے لیے بیت اللہ شریف کا قصد کیا جائے۔

حج کی فرضیت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس (کعبہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران آیت 97)اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں، حج ایک ایسا رکن ہے، جو صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے۔ صاحبِ استطاعت سے مراد ایسا شخص، جو سواری سمیت حج کے دوران طعام و قیام کے تمام اخراجات اُٹھانے کی سکت رکھتا ہو۔

اگر کوئی شخص صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتا، تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔’’لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو (صحیح مسلم۔ 1337) اللہ تعالیٰ نے حج کے مہینے مقرر فرمادیئے ہیں۔ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے۔

’’اَلحَجُّ اَشھُرمَّعلُومٰت (سورۃ البقرہ آیت 197)۔ ترجمہ ’’حج کے مہینے (معیّن ہیں جو) معلوم ہیں۔‘‘ حج کے مہینے یہ ہیں۔ شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ کا پہلا عشرہ۔ حج کا احرام صرف ان مخصوص مہینوں میں جب کہ عُمرے کا احرام سارا سال باندھ سکتے ہیں۔ ایّامِ حج بھی مقرر ہیں۔ 8؍ذی الحجہ سے 13؍ذی الحجہ تک کے دن و رات ’’ایّامِ حج‘‘ کہلاتے ہیں۔ یعنی حج صرف اِن ہی دنوں میں ہوسکتا ہے۔

حج کی تین اقسام ہیں

1- حج افراد۔2۔ حج قران۔ 3- حج تمتع۔ پاکستانیوں کی اکثریت حجِ تمتّع سے مستفید ہوتی ہے۔ حجِ تمتّع میں حاجی میقات سے پہلے عمرے کا احرام باندھتا ہے۔ پھر عُمرہ کرنے کے بعد احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیتا ہے۔ پھر 8؍ذی الحج سےحج کی نیّت سے دوبارہ احرام باندھتا ہے۔

احرام دو بغیر سِلی مخصوص چادروں کا نام ہے، جو مرد استعمال کرتے ہیں، ایک چادر تہبند کی طرح جسم کے نچلے حصّے میں لپیٹ لیتے ہیں اور دوسری چادر اُوپر کے حصّے میں اس طرح ڈالتے ہیں کہ سر اور چہرہ کُھلا رہے۔

احرام کی یہ دو چادریں حاجی کو کفن کی یاد دلاتی ہیں ۔جب کہ عام سلے ہوئے کسی بھی رنگ کے کپڑے خواتین کا احرام ہیں۔ سر کے بال کسی رومال سے چُھپالیں۔ احرام باندھنے اور نیّت کرنے کی آخری حدود و میقات کہلاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے پانچ میقات کا تعیّن فرمادیا ہے۔ پاکستان سے جانے والے حاجیوں کا میقات’’یلملم‘‘ ہے، جو مکّے سے92کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

احرام باندھنے اور نیّت کرنے کے بعد عربی زبان میں تلبیہ پڑھنا لازم ہے،جو ہر مسلمان حاجی کی زبان پر جاری رہنے والے مقدّس کلمات ہیں۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ(ترجمہ) ’’مَیں حاضر ہوں، اے اللہ، مَیں حاضر ہوں۔ مَیں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ مَیں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ احرام کی حالت میں نیّت کرنے کے بعد حاجی پر کچھ پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں، جس کی تفصیل حج و عمرے کی کتب میں درج ہوتی ہے۔

حج کے ارکان اور واجبات

(1) حج کی نیّت کرنا۔ (2) وقوفِ عرفات یعنی عرفہ میں ٹھہرنا۔ (3)طوافِ زیارت۔ (4)صفا ومروہ کی سعی۔ ان چاروں ارکان میں سے اگر ایک رکن بھی رہ گیا، تو حج نہیں ہوگا۔ حج کے واجبات میں (1) میقات سے احرام باندھنا (2) ایّامِ تشریق میں راتیں منیٰ میں گزارنا (3) وقوفِ عرفہ (4)مزدلفہ میں رات گزارنا۔ (5) 10؍ذوالحجہ کی رمی کے بعد قربانی کرنا، سر کے بال منڈوانا یا کتروانا (6) تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا اور (7) طواف وداع کرنا شامل ہیں۔ (کسی بھی ایک واجب کے چُھوٹ جانے کی صُورت میں مکّہ مکرّمہ میں فدیہ (قربانی دینی ہوگی)۔

مناسکِ حج ترتیب وار… حجِ تمتّع کا بیان

8 ذوالحجہ، یوم ترویہ، حج کا پہلا دن: حاجی فجر کی نماز کے بعد مکّے میں اپنی رہائش گاہ سے حج کی نیّت کرکے احرام باندھے گا۔ ممنوع وقت کے علاوہ دو رکعت نفل ادا کرے گا۔ منیٰ کی جانب جاتے ہوئے تلبیہ پڑھے گا۔ مرد با آواز بلند اور خواتین آہستہ پڑھیں۔ منیٰ جانے کے لیے کسی وقت کا تعین نہیں ہے۔

البتہ ظہر کی نماز سے پہلے منیٰ پہنچ جانا چاہیے۔ منیٰ میں قیام کے دوران پانچ نمازیں ادا کرنا سنّت ہے۔ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں حجاج اپنے وقت پر ادا کریں گے۔ (صحیح مسلم حدیث 1218)۔ منیٰ میں جمرات کے نزدیک بائیں جانب ’’مسجدِ خیف ‘‘ ہے۔ روایت میں ہے کہ یہاں 70 انبیاء مدفون ہیں۔

9؍ذوالحجہ،یومِ عرفہ، حج کا دوسرا دن : سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔’’عرفہ کے سوا کوئی اور دن ایسا نہیں کہ جس میں  اللہ تعالیٰ اس کثرت سے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہو۔ اُس روز اللہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتا ہے اور فرشتوں سے پوچھتا ہے۔ ’’یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟‘‘

یعنی ’’اپنی دنیاوی ضرورتوں کے باوجود مجھ سے صرف میری مغفرت اور رضامندی کے طلب گار ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم حدیث 1348)۔ نمازِ فجر کے بعد حاجی تلبیہ پڑھتے ہوئے میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ منیٰ سے عرفات کا فاصلہ بارہ کلو میٹر ہے۔ میدان ِعرفات میں ’’مسجد ِنمرہ‘‘ ہے ۔ ظہر کا وقت ہوجانے پر امام صاحب حج کا خطبہ دیں گے، پھر ظہر اور عصر کی نماز جمع اور قصر کرتے ہوئے ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ یہ ہی سُنّت ہے۔

وقوفِ عرفہ حج کا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر حج نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی رات فجر سے پہلے کسی وقت بھی میدانِ عرفات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی وقوف کرلیا، تو اس کا حج ہوجائے گا۔

میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نےجبلِ رحمت کے قریب وقوف کیا اور فرمایا۔ ’’مَیں نے یہاں وقوف کیا ہے، جب کہ سارا عرفات جائے وقوف ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث 1218)۔

وقوفِ عرفہ حج کا سب سے بڑا رُکن ہے۔ یہ دُعاؤں کی قبولیت کا سب سے افضل وقت ہے۔ قبلہ رُخ ہوکر خُوب خُوب دُعائیں کریں، سورج غروب ہونے کے بعد نمازِ مغرب ادا کیے بغیر عرفات سے مزدلفہ روانہ ہونا مسنون عمل ہے۔ عرفات سے مزدلفہ کا فاصلہ7کلومیٹر منیٰ کی جانب ہے۔ حجاج یہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے۔

رات کے کسی پہر یہیں سے رمی کے لیے 70 کنکریاں  اکٹھی کرلینی چاہئیں۔ حجاج یہ رات مزدلفہ میں گزاریں گے، یہاں تک کہ نمازِ فجر پڑھ لیں اور وقوف ِمزدلفہ کریں۔ یہ قبولیتِ دُعا کا خاص وقت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعض دُعائیں وقوفِ مزدلفہ میں قبول ہوئی تھیں۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے یہاں سے منیٰ کی جانب روانہ ہوجائیں، راستے میں تلبیہ پڑھتے رہیں۔ (صحیح بخاری 1685)۔

10؍ذوالحجہ، یوم النحر، حج کا تیسرا دن: منیٰ پہنچنے کے بعد پہلا کام جمرئہ عقبہ کو کنکریاں مارنا ہے۔ جمرہ عقبہ پہنچتے ہی تلبیہ بند کردیں۔ جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں یکے بعد دیگرے مارنی ہیں اور ہر کنکری کے ساتھ ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا ہے۔ کنکریاں  ایک ایک کرکے مارنی ہیں۔ کنکریاں مارنے کے بعد یہاں دُعا کے لیے نہیں  رُکیں۔ پہلے دن اس بڑے شیطان ہی کو کنکریاں مارنی ہیں۔

رمی کے بعد حج کی قربانی کا مرحلہ ہے۔ قربانی خود کریں یا بینکس کے ذریعے کروائیں۔ قربانی کے بعد حلق یا قصر کروانا افضل ہے۔ اس کے بعد غسل کریں۔ معمول کے کپڑے پہنیں، خوشبو لگا کر طوافِ زیارت کریں۔ 10؍ ذوالحجہ کو طواف ِزیارت افضل ہے۔ 12؍ذوالحجہ، غروبِ آفتاب سے پہلے تک طواف زیارت کرنا لازم ہے۔ طواف ِزیارت اور سعی سے فارغ ہوکر منیٰ واپس پہنچیں۔ رات منیٰ میں قیام کرنا ہے۔ یوم النحر ہی عید کا بھی دن ہے۔

ایّامِ تشریق

گیارہویں ذوالحجہ کی رات سے ایّامِ تشریق شروع ہوجاتے ہیں 11، 12اور

13ذوالحجہ کو ایّامِ تشریق کہتے ہیں۔ ان تین دنوں کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔ تینوں دن، تینوں جمرات (شیطان) کو کنکریاں مارنی ہیں۔ عموماً حاجی 12؍ذوالحجہ کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے واپس ہوجاتے ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺنے 13؍ذوالحجہ کی رات منیٰ میں قیام فرمایا تھا اور دوسرے دن رمی کرکے واپس لوٹے تھے۔

طوافِ وداع

حج کا آخری کام طواف وِداع ہے۔ مکّہ مکرّمہ سے رخصت ہونے سے قبل الوداعی طواف کرنا واجب ہے۔ طواف وِداع صرف حیض اور نفاس والی خواتین کو معاف ہے۔ سفرِ حج میں خواتین کے لیے محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے۔

مسجدِ نبوی ؐ کی زیارت

اگر کوئی حاجی مسجد ِنبوی ؐ کی زیارت اور روضۂ رسولﷺ پر حاضری و سلام کے بغیر واپس چلا جاتا ہے، تو اس کا حج اور عمرہ تو مکمل ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ زیارت کے عظیم اجر و ثواب سے محروم ہوجاتا ہے۔ حکومت کے انتظامی معاملات کی بِنا پر یہ زیارت حج سے پہلے بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی۔

سنڈے میگزین سے مزید