• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں یہ کالم مراکو سے تحریر کررہا ہوں جہاں 15 رکنی پاکستانی بزنس مینوں کے وفد کے ہمراہ آیا ہوں۔ مراکو کے اعزازی قونصل جنرل اور پاک مراکو بزنس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ پاکستان اور مراکو کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو اور بزنس مینوں کا حالیہ دورہ مراکو اِسی سلسلے کی کڑی ہے جسے ’’میڈ اِن پاکستان کارپوریٹ فورم‘‘ کے تعاون سے آرگنائز کیا گیا ہے۔ میری سربراہی میں مراکو آنے والے پاکستانی بزنس مینوں کے وفد میں دیگر ارکان کے ہمراہ ’’میڈ ان پاکستان کارپوریٹ فورم‘‘ کے بانی رضوان جعفر بھی شامل ہیں۔دورے کا مقصد پاکستانی بزنس مینوں کو مراکو میں پاکستانی مصنوعات کی ایکسپورٹ کے مواقع اور کاروباری پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

مراکو کو افریقہ کا گیٹ وے اور خطے کا تجارتی حب ہونے کا درجہ حاصل ہے جسکی آبادی 39 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ مراکو یورپ کے ملک اسپین سے صرف 13 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ تجارتی لحاظ سے مراکو کو امریکہ، یورپی یونین، ترکیہ اور 60 سے زائد افریقی ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ کا درجہ حاصل ہے۔ 20 سال قبل جب میں نے مراکو کے اعزازی قونصل جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو یہ میری ترجیحات میں شامل تھا کہ مراکو اور پاکستان کے مابین باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دوں اور مجھے فخر ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران پاکستان اور مراکو کے مابین باہمی تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے تاہم اس میں مزید اضافے کا پوٹینشل موجود ہے۔ میں تقریباً ہر سال پاکستانی بزنس مینوں کا وفد مراکو لارہا ہوں جسکے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ مراکو کی معیشت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور یہ ملک پاکستانی تاجروں کیلئے ایک ایسی مارکیٹ کا تصور پیش کرتا ہے جسکے ذریعے امریکی، یورپی اور 1.6ارب آبادی کی افریقی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مراکو غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھی نہایت پرکشش ملک ہے اور گزشتہ سال 20 ملین سے زائد سیاحوں نے مراکو کا رخ کیا۔ مراکو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگلا فیفا ورلڈ کپ 2030 میں مراکو میں منعقد ہورہا ہے۔حالیہ دورہ مراکو کے دوران مراکو میں پاکستان کے سفیر عادل گیلانی نے پاکستانی بزنس مینوں کے وفد کو پاکستانی سفارتخانے مدعو کیا اور انہیں پاک مراکو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وفد نے کاسابلانکا چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا دورہ بھی کیا اور کاسابلانکا چیمبر کے صدر اور مراکو پارلیمنٹ کے ممبرحسن برکنی سے ملاقات کی۔ وفد نے رباط چیمبرز آف کامرس کا دورہ بھی کیا اور چیمبر کے صدر سمیع رشید اور عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے مابین ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلامک سینٹر فار ڈویلپمنٹ آف ٹریڈ (ICDT) او آئی سی کا ایک ذیلی ادارہ ہے جس کا مقصد اسلامی ممالک کے مابین تجارت اور ایکسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ ادارے کا صدر دفتر کاسابلانکا میں واقع ہے۔ وفد نے ICDT کا دورہ کیا، ادارے کی سربراہ لطیفہ بوبیدلی اور اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے مابین تجارت اور ایکسپورٹ کے پوٹینشل پر آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر ICDT کی سربراہ لطیفہ بوبیدلی نے پاکستانی بزنس مینوں کو پاکستان سے اسلامی ممالک ایکسپورٹ کے فروغ میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ میں پہلے بھی یہ تحریر کرچکا ہوں کہ یورپ اور امریکہ کی مارکیٹیں جہاں ہماری ایکسپورٹ کا بڑا انحصار ہے، Inflation اور Saturation کے باعث زوال پذیری کا شکار ہیں اور پاکستان سے ان ممالک کی ایکسپورٹ میں مزید اضافہ ممکن نہیں، ایکسپورٹ میں اضافہ تب ہی ممکن ہے جب نئی مارکیٹیں تلاش کی جائیں جس میں 1.6 ارب آبادی پر مشتمل افریقہ ایک پوٹیشنل خطہ ہے مگر افسوس کہ ہم نے اس بڑی مارکیٹ کو نظر انداز کررکھا ہے۔ مراکو کا حالیہ دورہ پاکستانی بزنس مینوں کیلئے نہ صرف ایک نیا تجارتی راستہ کھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کومزید فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے جسکے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوں گے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایسے میں جب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’’معرکہ حق‘‘ کی سالگرہ کا جشن منایا جارہا تھا، مراکو کے دارالحکومت رباط میں پاکستانی سفارتخانے میں ’’معرکہ حق‘‘ کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سفیر پاکستان عادل گیلانی نے مجھے خصوصی طور پر مدعو کیا۔ تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود تھی جن کے چہروں پر خوشیاں عیاں تھیں۔ اس موقع پر سفیر پاکستان عادل گیلانی، ہیڈ آف مشن رزاق تھیبو اور دفاعی اتاشی کرنل شاہنواز نے اپنی تقاریر میں صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پیغامات پڑھ کر سنائے، ’’معرکہ حق‘‘ کی اہمیت اور بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح کے بعد مراکو سمیت پوری دنیا میں پاکستان کے وقار میں جو اضافہ ہوا ہے، اُسے اجاگر کیا اور مسلح افواج کے جرات مندانہ کردار کو سراہا۔ میں جب معرکہ حق تقریب میں شرکت کرکے پاکستانی سفارتخانے کی عمارت جہاں پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا، سے باہر نکلا تو مجھے اس بات پر فخر محسوس ہوا کہ میں ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہوں جس نے معرکہ حق میں دشمن ملک بھارت کو عبرتناک شکست دے کر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا اور امریکہ، ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرکے ملک کی نئی شناخت روشناس کرائی جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

تازہ ترین