• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ کسی جیل میں کسی خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی لیکن شائد آپ نے یہ کبھی نہ سنا ہوگا کہ کسی جیل میں کتوں کے ذریعہ ایک مرد قیدی کے ساتھ بدفعلی کرائی گئی اور پھر اسکی تصاویر بھی بنائی گئیں ۔ یہ خوفناک انکشاف امریکا کے معروف صحافی نکولس کرسٹوف نے نیو یارک ٹائمز میں گیارہ مئی 2026 ء کو شائع ہونیوالے اپنے کالم میں کیا ۔ اس کالم کا عنوان ہےTHE SILENCE THAT MEETS THE RAPE OF PALESTINIANSنکولس کرسٹوف کی اس ایک تحریر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا اور اپنے مستقبل سے مایوس صحافیوں کو پیغام دیا کہ کسی بھی صحافی کی اصل طاقت سنسنی خیزی نہیں بلکہ اُسکا قلم ، کمپیوٹر اورچھوٹی سی نوٹ بک ہوتی ہے ۔ نکولس کرسٹوف اپنا قلم ، کمپیوٹر اور نوٹ بک لیکر امریکا سے دریائے اُردن کے مغربی کنارے پر واقع فلسطینی بستیوں میں پہنچا اور وہاں اس نے جو سچ تلاش کیا وہ کسی ٹی وی چینل یا سوشل میڈیا کی زینت نہیں بنا ۔ نکولس کے اس سچ کو نیو پارک ٹائمز نے اپنے ادارتی صفحے پر شائع کیا اور یہ کالم اسرائیل پر ایٹم بم بن کر گرا۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے نکولس کرسٹوف کے کالم کی تردید میں ایک لمبا چوڑا بیان جاری کیا ۔ اسرائیلی لابی نے امریکی میڈیا میں اپنے کئی کتے نکولس کرسٹوف پر چھوڑ دیئے ۔ نیو یارک ٹائمزسے مطالبہ کیا گیا کہ اس کالم کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا کر نکولس کرسٹوف کو فارغ کر دیا جائے ۔ آجکل کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر دباؤ ڈال کر سچ لکھنے اور بولنے والے صحافی کو نوکری سے نکلوانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ یہ کام امریکا میں بھی ہوتا ہے لیکن نیو یارک ٹائمز کیلئے نکولس کرسٹوف کے کالم سے اعلان لاتعلقی کرنا یا اُسے نوکری سے نکلوانا آسان نہ تھا ۔ اس کالم نے دنیا بھر کو نیو یارک ٹائمز کے ذریعہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونیوالے ظلم کی طرف متوجہ کیا ۔ ایک ایسے وقت میں جب یہ تاثر عام ہے کہ پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو چکا اور مستقبل صرف الیکٹرانک یا ڈیجیٹل میڈیا کا ہے تو ایک اخبار کے صرف ایک کالم نے دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جب نکولس کرسٹوف نے مغربی کنارے سے یہ کالم لکھ کر نیوپارک ٹائمز کو بھیجا تو اس کالم میں موجود انکشافات صرف حیران کن نہیں بلکہ لرزہ انگیز بھی تھے ۔اخبار کو معلوم تھا کہ اس کالم کی اشاعت کے بعد اُسکی بقاء خطرے میں پڑ سکتی ہے لیکن نیو یارک ٹائمز نے بہت سوچ سمجھ کر یہ کالم شائع کیا جس میں اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونیوالے فلسطینی قیدیوں کے بیانات ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالی کئی تنظیموں کی رپورٹوں کے حوالے بھی موجود تھے ۔ نکولس کرسٹوف نے اپنے کالم میں بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ بچوں کیساتھ بھی جنسی زیادتی کی جاتی ہے ۔ ڈنڈوں اور گاجروں سے اُنکے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے علاوہ انسانوں کے ساتھ بد فعلی کیلئےتربیت یافتہ کتے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ کتے کو عبرانی زبان میں حکم دیا جاتا ہے اور وہ اپنا مکروہ عمل شروع کر دیتا ہے اور رک جانے کے حکم پر رک جاتا ہے ۔ غزہ سے گرفتار کئے جانیوالے ایک فلسطینی صحافی کے ساتھ اسرائیلی جیل میں کتوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اُس نے نکولس کرسٹوف کو بتا دیا۔ اس فلسطینی صحافی کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نےاسرائیلی فوج کیلئے مخبری کرنے سے انکار کیا۔ ایک فلسطینی خاتون قیدی نے بھی اسرائیل کا مخبر بننے سے انکار کیا تو اُس کو جیل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اُسکی فلم بنائی گئی۔ اس خاتون کو دھمکی دی گئی کہ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو اس فلم کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا جائیگا لیکن اس بہادر خاتون نے اپنی عزت بچانے کیلئے ایمان بیچنے سے انکار کر دیا اور ساری تفصیل نیویارک ٹائمز کو بتادی۔ نیو یارک ٹائمز اس ایک کالم کو روک لیتا تو نکولس کرسٹوف کیا کر لیتا ؟ اُسے اسکا ایڈیٹر یہ کہہ سکتا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے ذاتی دوست ہیں ، اسرائیل اور امریکا نے مل کر ایک سال میں دو دفعہ ایران پر حملہ کیا۔ اسرائیل اور امریکا ایک دوسرے کے فوجی اتحادی ہیں ۔ اسرائیلی فوج کے خلاف اس کالم کی اشاعت کے بعد نیو یارک ٹائمز پر غداری کا الزام لگ سکتا ہے ، ایڈیٹر یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ اسکے اخبار کو بند کرانے کی کو شش کی جا سکتی ہے اس لئے تم اس کالم میں سے کچھ سچ نکال دو تا کہ تمہارا ادارہ بند نہ ہو اور تمہارے ساتھی بے روزگار نہ ہوں ۔ نیویارک ٹائمز نے قومی مفاد کے نام پر نکولس کا کالم روکنے کی بجائے اس سے صرف ٹھوس ثبوت اور حوالہ جات مانگے تا کہ قانونی کارروائی کی صورت میں اخبار اپنا دفاع کر سکے۔ قانونی تقاضے پورے کر کے یہ کالم شائع کر دیا گیا ۔ جب نکولس کرسٹوف کے خلاف اسرائیلی وزارت خارجہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اُنکے کچھ اپنے ہی ساتھوں نے کردارکشی کی مہم شروع کر دی تو نیو یارک ٹائمز نے باقاعدہ ایک بیان جاری کرکے نکولس کرسٹوف کی حمائت کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ ہم اپنے کالم نگار کے پیچھے کھڑے ہیں۔ نیو پارک ٹائمر کے پاس اتنی جرات کہاں سے آئی ؟ ہم امریکا پر کتنی ہی تنقید کریں لیکن یہ تو ماننا پڑئیگا کہ امریکا کی عدلیہ آج بھی آزاد ہے ۔ نیو یارک ٹائمز کو یقین تھا کہ اگر اُسکے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی تو ٹرمپ انتظامیہ کسی ضمیر فروش جج پر دباؤ ڈال کر نکولس کو غدار اور نیویارک ٹائمز کو بند بھی نہ کروا سکے گی ۔ ٹرمپ جیسے انا پرست شخص کے بس میں ہو تو وہ کل ہی نیویارک ٹائمز کو بند کروا دے کیونکہ آجکل وہ کئی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے سخت ناراض ہے لیکن یہ دراصل امریکی جمہوریت کی طاقت ہے کہ وہاں قانون سب کیلئے برابر ہے ۔ ٹرمپ حکومتی پالیسی کے خلاف سچ لکھنے والے کسی اخبار یا صحافی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ یاد رکھیں ! اگر نکولس کرسٹوف نے اپنے کالم میں غیر مصدقہ اور سنی سنائی باتیں لکھی ہوتیں تو نیو یارک ٹائمز کبھی انکے پیچھے کھڑا نہ ہوتا ۔ صحافت کی اصل طاقت سچائی ہے ۔فیک نیوز صحافت کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ مجھے امریکی اور برطانوی اخبارات میں لکھنے کا تجربہ ہے ۔ ان ممالک کے ٹی وی چینلز پر جھوٹ کی بھرمار ہے لیکن بڑے اخبارات میں آج بھی ہر لفظ اور ہر سطر میں کئے گئے دعوے کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ 20 جنوری 2022 کو میں نے واشنگٹن پوسٹ میں مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف ہونیوالی انتقامی کارروائیوں پر ایک کالم لکھا تھا جس پر بھارتی حکومت نے واشنگٹن پوسٹ کو تردید چھاپنے ورنہ قانونی کارروائی کی دھمکی دی ۔ یہ کالم تمام ثبوتوں کے ساتھ لکھا گیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی قانونی ٹیم سےکلیئر نس لیکر کالم شائع کیا تھا لہٰذا بھارتی حکومت کی تردید نہ چھپ سکی۔ نکولس کرسٹوف نے بھی جو لکھا اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے مغربی کنارے سےلکھا۔ اُنکے اس ایک کالم میں 38 حوالہ جات موجود ہیں۔ صحافی کی محنت اور پیشہ وارانہ دیانت کو دراصل اُسکے ادارے میں موجود چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط سسٹم تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایسی صحافت کسی بھی جمہوری ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہے ۔ نکولس کرسٹوف کے ایک کالم سے اسرائیل اور امریکا کے تعلقات پر تو اثر پڑ سکتا ہے لیکن اس ایک کالم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ پرنٹ میڈیا ابھی زندہ ہے۔نکولس کرسٹوف سچی صحافت کا ضمیر بن کر سامنے آیا ہے۔ اسکے ایک کالم سے صرف امریکا نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کا میڈیا پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ٹرمپ نے دنیا میں امریکا کی ساکھ کو مجروح کیا ہے لیکن نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نےدنیا کو بتایا ہے کہ اصل امریکا ٹرمپ نہیںبلکہ نکولس کرسٹوف ہے ۔سچی صحافت صرف ایک ایسی ریاست میں فروغ پا سکتی ہے جہاں عدلیہ اور پارلیمنٹ آزاد ہو ۔ جہاں صحافت کسی کی غلام بن جائے تو سمجھ جائیے کہ وہاں عدلیہ اور پارلیمینٹ بھی کسی کی غلام ہیں ۔ایسی ریاست میں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی اور جمہوریت کے دشمن کبھی عوام کے دلوں میں اپنے لئے احترام پیدا نہیں کر سکتے۔

تازہ ترین