• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحقیق، ایجادات، اختراعات اور نئی آگاہیوں کے ہنگام میں سائنس ایک طرف انسان کو بیماریوں اور خطرات سے بچا کر تندرستی کی سمت پیش قدمی میں مدد دے رہی ہے تو دوسری طرف نظر نہ آنے والے عفریتوں کی نشاندہی کرکے انسانی جانوں کے تحفظ کے طریقوں کی طرف متوجہ کررہی ہے۔ طاعون کی وبا، جس کے پھیلاؤ کا سبب چوہے بتائے جاتے ہیں، دنیا کی بڑی آبادی کیلئے طویل عرصے تک خوف کی علامت بنی رہی۔قیام پاکستان کے بعد اسکولوں میں اسباق کی صورت میں بطور خاص ان نقصانات سے آگاہی دی جاتی رہی جو گھریلو چوہوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اب 2026ء میں شاید یہ ایسا موضوع نہیں رہا جس پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔ زمینی صورت حال یہ ہے کہ کم ازکم کراچی کے ہر گٹر،ہر سیوریج لائن، ہر غسل خانے، ہر کچن اور کثیرالمنزلہ عمارات کے ہر یونٹ سے بڑے بڑے چوہے اُبلتے محسوس ہورہے ہیں۔ لوگ بلدیاتی نظام کو طاقتور بنانے اور شہری حکومتیں مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام ہر وقت عام آدمی کی رسائی میں رہیں اور کسی مسئلے کو چھوٹایا غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔جہاں بلڈنگوں میں فائر سیفٹی کے قواعد پرعمل درآمد کیا جائے وہاں گٹر، سیوریج لائن، چوہوں، مچھروں،حشرات الارض کے مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔ بچوں اور بڑوں کو آوارہ کتوں اور چوہوں کا نشانہ بننے سے بچایا جائے ۔

پچھلے دنوں سے آنے والی خبریں پاکستان میں ایچ آئی وی (ایڈز)، کورونا، منکی پاکس سمیت کئی امراض کے پھیلاؤ کی تشویشناک کیفیات کی نشاندہی کرتی نظر آرہی ہیں۔ خسرہ سے پچھلے برس2025ء میں100سے زیادہ اموات کی اطلاعات آچکی ہیں، جبکہ ارجنٹائن کے شہر اوشووائن سے شروع ہونے والا ’’ہنٹا وائرس‘‘ Hanta Virus جنوبی امریکہ سے یورپ اور امریکہ پہنچ چکا ہے۔ کئی ہلاکتوں کی خبریں بھی ہیں۔ آج کے دور میں رسل و رسائل کے ذرائع اتنے تیز ہیں کہ انسانوں کے ساتھ امراض کو دور دراز تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ پاکستان سمیت جو ممالک امیگریشن کے مرحلے میں چیکنگ اور قرنطینہ وغیرہ کا سخت بندوبست رکھیں گے، ان کے محفوظ رہنے یا کم متاثر ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ وگرنہ 2019ء میں پھیلنے والے کورونا (کوویڈ۔ 19) وائرس کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو لقمہ اجل بنایا۔ جبکہ نوبت لاک ڈاؤن تک جا پہنچی اورمتعدد ممالک ایسے معاشی مسائل سے دوچار ہوئے جن سے تاحال پوری طرح باہر آنا ممکن نہیں ہوا ہے۔ جب کورونا کی ویکسین ایجاد ہوئی اور لوگوں تک پہنچی تو اس کے اثرات رفتہ رفتہ کم ہوئے۔پاکستان میں حالات اگرچہ ترقی یافتہ ممالک سمیت متعدد ریاستوں کی نسبت بہتر رہے مگر اس وبا نے ہمارے نظام صحت کی کمزوریاں نمایاں کردیں۔

دنیا بھر کے ماہرین صحت اب پھر خبردار کررہے ہیں کہ کورونا (یا کوویڈ۔ 19) وائرس اگرچہ پہلے جیسی شدت کا حامل نہیں رہا، مگر اس کے پھر سامنے آنے کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ مستقبل میں نئی وبائیں بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی، جانوروں کی پرورش میں بے احتیاطی اور عالمی سفر کی تیز رفتار سہولتیں نئی بیماریوں کے خطرات بڑھا رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے یہ مسئلہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ صحت کی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے بہت سے مراکز مناسب عملے، ادویہ اور آلات سے محروم ہیں۔ کئی دیہات میں خواتین کو زچگی کیلئے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات بروقت طبی سہولت میسر نہ ہونے کے باعث ماں اور بچے دونوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

’’ایڈز‘‘(HIV)کے نام سے1990ء کی دہائی میں دنیا بھر(بالخصوص یورپ) میں کھلبلی پھیلانے والی وبا کے نئے پھیلاؤ کی اطلاعات ہیں۔پاکستان کے ایک معتبر سائنسی ادارے کے ایک وائٹ پیپر کے مطابق ملک میں 2010ءکے بعد ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔2024ء تک یہ تعدادبڑھ کرساڑے تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ ایڈز سے ہونے والی اموات بھی سال2010ء کی تعداد2200سے بڑھ کر سالانہ14000تک پہنچ چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی (ایڈز) کا پھیلاؤ اب مخصوص ’’ہائی رسک‘‘ گروپس تک محدود نہیں رہا، بلکہ عام آبادی، خصوصاً خواتین اور بچوں تک پہنچ رہا ہے۔ تحقیق نے ثابت کیا کہ بہت سے اسپتالوں میں انجکشنوںکیلئے آلودہ سرنجیں استعمال کی گئیں، جس کے باعث ایڈز کے جراثیم بچوں تک پہنچ گئے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے مذکورہ صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئےاس باب میں ضروری ہدایات دی ہیں۔ استعمال شدہ سرنجوں کے حوالے سے درست طریقہ وہی ہے جو کئی معیاری اسپتالوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی انجکشن لگنے کے فوراً بعد سرنجوں کو خصوصی آلے سے کتر کر ضائع کردیا جائے۔ بعض اسپتالوں میں ڈرپ لگوانے یا کسی اور ضرورت کیلئے بطور چادر استعمال کیلئے جو مخصوص کپڑا استعمال کیا جاتا ہے، وہ بھی ضائع کردیا جاتا ہے۔ یہ تدابیر طبی اخلاقیات کے جزو کے طور پر سختی سے بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔ چیلنج بڑے ہیں، پولیو، ملیریا، ڈینگی، شوگر، بلڈ پریشر سمیت سب ہی امراض کو زیر کرنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر ایک جامع صحت پالیسی مرتب کریں جس میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ دیہات میں ڈاکٹر اور نرسیں تعینات کی جائیں۔ میڈیکل یونٹ متعارف کرائے جائیں اور ہنگامی دباؤ کیلئے فوری ردعمل کا نظام مضبوط بنایا جائے۔ ویکسی نیشن کا موثر نظام، جراثیم کش دواؤں کے اسپرے، تحقیقی کام، عوامی آگاہی کی مہمیں کسی بھی صحت پالیسی کا لازمہ ہیں۔ یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ وبائیں اب صرف طبی مسئلہ نہیں، قومی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام کا مسئلہ بھی ہیں۔ ہم نے اس باب میں اگر آج سے تیاری نہ کی تو مستقبل میں کوئی نئی وبا پہلے سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔

تازہ ترین