ایران گزشتہ 23برسوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 2003ءمیں یہ فتویٰ تک دے دیا تھا کہ نیوکلیئر ہتھیار بنانا ہی حرام ہے پھر2015 ءمیں ایران نے امریکہ کے صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کے ساتھ ایک نیوکلیئر معاہدہ کیا اور اپنا 11 ٹن 20فیصد تک افزودہ یورینیم 2015 کے معاہدے کے مطابق روس کے حوالے کر دیا اور اس معاہدے میں یہ بات بھی مان لی کہ ایران اگلے پندرہ سال تک صرف 3فیصد تک افزودہ یورینیم 300کلو گرام سے بھی کم اپنے پاس رکھے گا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے ادارے کو اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ بھی کرنے دے گا اور اس کے بدلے میں ایران پر سے پابندیاں کم کر دی گئیں۔
مگر یہ صدر ٹرمپ ہی تھے کہ جن کےپہلے دور 2018ءمیں یہ معاہدہ ختم کر دیا گیا اور دوسری دفعہ صدر بننے پر گزشتہ سال یعنی 2025جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بی ٹو بمبار سے حملہ کر کے یہ دعویٰ کر دیا کہ ایران کا 404کلو گرام تک کا افزودہ یورینیم تباہ کردیا گیا ہے اور اب ایران نیوکلیر ہتھیار بنانے کے قابل ہی نہیں رہا اور پھر 8ماہ بعد امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فروری 2026میں ایران پر حملے شروع کر دئیے اور ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ اگر ہم حملہ نہ کرتے تو ایران نیوکلیئر ہتھیار بنا لیتا حالانکہ ان حملوں سے پہلے ایران اور امریکہ کے سلطنت عمان میں مذاکرات ہو رہے تھے اور یہ جنگ جاری ہونے کے بعد عمان کے وزیر خارجہ سعید بدر نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیل ہونے والی تھی اور بہت سے معاملات طے پا چکے تھے ۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران ساری باتیں مان چکا تھا اور مذاکرات کا اگلا دور ویانا میں ہونے والا تھا اور ان سب معاملات کے دوران ایران کا سپریم لیڈر اور کوئی نہیں آیت اللہ خامنہ ای تھے مگر صدر ٹرمپ نے نیتن یاہوکے کہنے پر ایران پر حملہ کر دیا اور حملے کے آغاز میں ہی 28 فروری کو انہیں شہید کر دیا گیا ان کی جگہ ان کے بیٹے علی خامنائی کو سپریم لیڈر چن لیا گیا جو زیادہ سخت خیالات کے ہیں جن کا پاسداران انقلاب پر زیادہ اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔درحقیقت یہ تاثر بھی اب دنیا پر قائم ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ ایرانی رجیم مذاکرات کی سمجھ بوجھ سے شائد تھوڑا کہیں پیچھے ہے ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جس طرح جنگ کے دوران ایران گئے اور وزیراعظم شہباز شریف نے پوری دنیا کے رہنمائوں کو کالز کیں اور 37سال بعد ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے سامنے اسلام آباد میں میز پر بیٹھے اور مذاکرات کا بہترین ماحول پیدا ہوا اس سے ایران کو فائدہ اٹھانا چاہئے تھا۔
جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کےموجودہ رجیم کو سابقہ رجیم سے بہتر قرار دے رہے ہیں اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ایران کبھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا اور یہ بات ایران کے سابقہ سپریم لیڈر نے فتوی دے کر کہی تھی مگر انہیں شہید کر دیا گیا تو اس جنگ سے کیا حاصل ہوا ایک سپریم لیڈر جو کہتے تھے کہ نیوکلیر ہتھیار نہیں بنائیں گے انہیں شہید کر دیا اور یہ اب نئے سپریم لیڈر سے وہی بات چاہتے ہیں کہ یہ بھی کہیں کہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائیں گے اور معاہدہ کریں جبکہ جنہوں نے یہ معاہدہ کیا وہ پہلے دور میں ٹرمپ کی جانب سے توڑ دیا گیا۔
یہاں تک کہ ابھی حالیہ واقعات میں اس سب کے لئے لبنان میں 6000لوگ شہید کر دئیے اس جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب ریاستوں کا امن تباہ ہو گیا انہیں بے پناہ نقصان ہوا امریکہ کا کئی ارب ڈالر تک نقصان ہو گیا آبنائے ہرمز جو سب کے لئے کھلی تھی اور دنیا ترقی کی راہ پر گامزن تھی وہ پوری دنیا پر بند کر دی گئی اس سے تیل کی عالمی منڈی ہل کر رہ گئی ہے 60 کروڑ بیرل تیل غائب ہو گیا تیل کی قیمتیں پر بیرل انتہائی اوپر جا چکی ہیں دنیا میں کئی مستحکم معاشی ممالک کی تباہی کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ سب کس لیے کہ نئے سپریم لیڈر یہ معاہدہ کریں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور یہ وہ بیان ہے جو ایران کے سابقہ سپریم لیڈرنے 23 سال پہلے دیا تھا ۔
اس سب کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیتا کون اور ہارا کون؟ ابھی حال ہی میں امریکی پارلیمان نے ان کے سیکرٹری جنگ کو سوال جواب کے لئے طلب کیا اور وہاں پارلیمان نے کہا کہ یہ جنگ امریکہ ہار چکا ہے کیونکہ جو دعوے کیے گئے کہ ایران کے ایٹمی اثاثے تباہ کر دئیے گئے ہیں وہ اب بھی موجود ہی۔
آبنائے ہرمز جو سب پر کھلی تھی آج بندش کا شکار ہے ،دنیا کا کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ایران کی موجودہ رجیم پرانی رجیم سے بھی زیادہ سخت گیرکے طور پر سامنے آئی ہے۔ یعنی امریکہ رجیم کی تبدیلی بھی نہیں کر سکا اور اب ایران کے ناکے پر امریکہ نے اپنا ناکہ لگا رکھا ہے۔ دنیا پر معیشت کی سختیاں جاری ہیں اور ایک بلاجواز جنگ سے دنیا کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے - اگلے چند ہفتے بہت اہم ہیں - آخر میں جنگ کےحوالے سے میرا ایک شعر
جنگ تو جنگ ہے جنگ کا قاعدہ کچھ نہیں
لڑ جھگڑ کے میرے دوستوں فائدہ کچھ نہیں