• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں جنگیں ختم ہوئیں، نہ ہی تنازعات حل ہوئے اور یہ ممکن بھی نہیں کہ کرّۂ ارض پر مختلف رنگ و نسل، فرقوں اور زبانوں کے لوگ بستے ہیں، جن کی خواہشات اور مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ دنیا میں کوئی قوم یا مُلک، دوسرے کو خُود سے برتر نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب تک زمین کے باسی ذاتی مفادات کی بجائے’’انسانیت‘‘ کو ترجیح نہیں دیں گے، سب کچھ یوں ہی چلتا رہے گا۔ بڑی طاقتیں اپنی بھرپور فوجی، اقتصادی قوّت کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہیں اور سب پر راج کر رہی ہیں، جن کا اوّلین مقصد اپنے مفادات کا تحفّظ ہی ہے۔

چھوٹے ممالک اِن سے اسلحہ خرید کر قومی وقار اور نظریاتی اختلاف کے نام پر اپنے عوام کو جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ کبھی فتح کے جشن مناتے ہیں، تو کبھی مظلومیت کی دہائی دیتے ہیں، لیکن خُود وہ نہیں بنتے، جو انہیں بننا چاہیے، یعنی مضبوط اور خوش حال معاشی طاقت۔ جنگیں اور تنازعات انہیں اُس مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں، جہاں ان کی لیڈرشپ ہر وقت عوام کو آزمائش کا مقابلہ کرنے اور دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کی تلقین کرتی رہتی ہے۔ یوں یہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتے۔ بس جوش و جذبے سے سرشار، خوش حالی سے دُور خُوش کُن نعروں کی گونج میں سب کچھ لُٹا دیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا ہر مُلک ایسا نہیں ہے۔

دنیا کی اُبھرتی معیشتیں جنگوں سے دُور بھاگتی ہیں، جب کہ ان کے عوام بلند معیارِ زندگی کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں۔ چین، جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور یورپ اس کی مثالیں ہیں، جب کہ بہت سے ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکا کے ممالک امداد، قرضوں ہی کے چکر میں گھرے رہتے ہیں۔

وہ اقتصادی طور پر بدحال اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ ان کے عوام مغربی ممالک میں پناہ لے کر اپنے خواب پورے کرتے ہیں، جب کہ اُن کے ہم وطن اُنہیں حسرت و یاس سے دیکھتے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہے۔

اِس وقت دنیا میں دو بڑی جنگیں یوکرین اور ایران میں جاری ہیں، جب کہ افریقا سمیت کئی خطّوں میں خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں، جن میں ہر سال لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ خُود مسلم دنیا میں نائیجیریا، سوڈان، لیبیا، عراق، شام اور لبنان وغیرہ میں خون ریزی جاری ہے۔ اِس صدی کی سب سے بڑی خون ریزی شام میں ہوئی، جس میں پانچ لاکھ مسلمان جاں بحق اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے، لیکن اس پر میڈیا میں کوئی خصوصی ٹرانسمیشن ہوئی اور نہ ہی وار روم قائم کیے گئے۔ یہ شامی خانہ جنگی گیارہ برس چلی، جس میں تقریباً پوری دنیا ملوّث تھی۔

داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں نے عراق اور شام کے کئی حصّے فتح کر کے اپنی سلطنت قائم کر لی تھی، جب کہ اِن ممالک کی باقاعدہ افواج، جو اپنے عوام کے لیے ظلم و ستم کی علامت تھیں، اِس دہشت گرد تنظیم سے شکست پہ شکست کھا رہی تھیں۔ عراق کی وہ فوجی شکست تو تاریخ میں ایک مثال ہے، جس میں امریکا کے اٹھائیس ارب ڈالرز سے تربیت یافتہ عراقی فوجی دوسرے بڑے شہر سے فرار ہوتے وقت جوتے اور کپڑے بھی چھوڑ گئے۔ یہ بات خود اُس وقت کے امریکی وزیرِ دفاع نے شرماتے ہوئے بتائی تھی۔

اِس وقت دنیا میں امریکا، چین، روس اور یورپ بڑی طاقتیں ہیں اور یہی اس کی سمت کا تعیّن کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بڑی طاقتیں ہزاروں، لاکھوں افراد کی ہلاکتوں اور خانہ جنگیوں پر خاموش کیوں رہیں، جب کہ اُنہوں نے امن کی ذمّے داری لے رکھی ہے۔ نیز، اقوامِ متحدہ اور اُس کی سلامتی کاؤنسل کس چیز کے نام ہیں۔ یہ بڑی طاقتیں برسوں پسِ پردہ سفارت کاری کرتی ہیں، مگر اِن کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی کہ چھوٹی اقوام خون میں نہا رہی ہیں اور لاکھوں افراد بھوک سے بِلک رہے ہیں۔

چھوٹے مُلک جوش و جذبہ تو خُوب دِکھاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔ اگر غور کریں، تو بڑی طاقتوں کا بنیادی فوکس تین امور پر ہے۔ سیکیورٹی، اقتصادی طاقت، جس میں تجارت، انرجی اور ٹیکس شامل ہیں، اور جیو پولیٹیکل اثرات، اِنہی امور کے گرد اُن کی سیاست گھومتی ہے۔ اگر یہ کبھی آپس میں ٹکراتے ہیں، تب بھی اِس احتیاط سے کہ کوئی بڑا نقصان نہ پہنچے۔

کیا کسی کو یاد ہے کہ جب سوویت یونین بکھری، تو امریکا نے کئی سال تک اُس کے ایٹمی سائنس دانوں کو ایک شہر میں رکھ کر اپنے خزانے سے تن خواہیں اور مراعات دیں کہ کہیں وہ دنیا میں نہ پھیل جائیں۔ یہ طاقتیں کبھی ڈپلومیسی سے کام چلاتی ہیں اور کبھی اپنی پراکسیز استعمال کر کے مسائل کا حل نکالتی ہیں۔

یہ ایک وسیع سیاسی نظام کا حصّہ ہیں، جب کہ چھوٹے ممالک کی قیادت اور اُن کے ماہرین اتنے وسیع لینس سے نہیں دیکھتے۔ اُن کی سوچ محدود ہے اور وہ وہی کچھ پڑھتے ہیں، جو اُنہیں مغرب سے ملتا ہے۔ کیا پاکستان سے کوئی رپورٹر ایران جنگ کی کوریج کے لیے گیا، کسی تجزیہ کار نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔

امریکا کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ اپنی گلوبل سُپرمیسی قائم رکھے۔ اِس مقصد کے لیے اُس کی اقتصادی برتری برقرار اور فوجی قوّت بلند تر رہنی ضروری ہے۔ ٹرمپ جیسے قوم پرست رہنما حادثاتی طور پر مُلک کے صدر نہیں بنے، بلکہ امریکی قوم، سیاسی طاقتوں اور اسٹیبلشمینٹ کا اتفاق تھا کہ وہ وقت آگیا ہے، جب امریکا کو ایک قوم پرست اور سخت گیر لیڈر چاہیے۔

یہ ایک باقاعدہ قوم پرستی کی لہر ہے، جس نے یورپ اور مغربی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا، یورپ اور اب برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں قوم پرستوں کا جیتنا اتفاق نہیں۔ دنیا کو کیا کیسا لگے گا، یہ ان کا مسئلہ نہیں، بلکہ مفادات کیسے محفوظ رہیں گے، یہ اُن کے لیے اہم ہے۔ مغربی میڈیا کیا کچھ کہتا رہا، یہ الگ موضوع ہے، لیکن اقتدار میں آنا بہرحال قوم پرست ہی کو تھا۔

ٹرمپ امریکی قوم کا انتخاب ہیں، وہ جنگ کریں یا امن قائم، اُنہیں مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں نام نہاد مغربی تجزیہ کاروں کے بیانات کی بنیاد پر خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ امریکی تقسیم ہوگئے، مگر شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بڑے عالمی واقعے کے بعد امریکا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

کورونا وبا، غزہ سیز فائر، سوویت یونین کی تقسیم، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، مشرقِ وسطیٰ سے روس کا انخلا، ایران کی شام، لیبیا، عراق، لبنان اور یمن میں شکست، اس کی حامی ملیشیاز کی تباہی، یہ سب واقعات مشہور ہیں، جو روس اور چین کی آنکھوں کے سامنے ہوئے۔ کیا انہوں نے امریکا کے مقابلے میں کسی کی مدد کی؟ 

روس نے بس اِتنی مدد کی کہ بشار الاسد کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔ اِسی طرح امریکا نے ایران اور سعودی معاہدے کے لیے چین کی کوششوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ایران جنگ کے دوران امریکا نے روسی تیل پر عاید پابندی ختم کردی۔ یاد رکھیں، عالمی ڈپلومیسی اور جنگوں میں جو ہو رہا ہوتا ہے، وہ نظر نہیں آتا اور اصل حقائق کا برسوں بعد پتا چلتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی فتح اصل میں افغانستان کی بربادی ہے۔ یہ اُسے پتھر کے زمانے تک پہنچانے کی حکمتِ عملی تھی، جس پر بڑی طاتیں متفّق تھیں۔ ہم گلوبل ساؤتھ کی پیش گوئی اور اسٹریٹجک گہرائی کے قصّے سُناتے رہے، مگر آج اُسی افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی بُھگت رہے ہیں۔ امریکا اپنے سات فلیٹس کے ذریعے عالمی تجارت کے راستے کُھلے رکھنے کی قوّت فراہم کرتا ہے، جس پر روس، چین، یورپ، سب ہی متفّق ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی اور معاشی نظام میں ریڑھ کی ہڈی ہے، جسے چین بھی ڈسٹرب کرنا پسند نہیں کرتا۔

امریکا، انڈو پیسیفک ریجن کو اپنی طاقت کا مرکز قرار دیتا ہے، مگر وہاں جنگ سے گریز کرتا ہے۔ دوسری طرف، امریکا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں بھی اپنی فوجی موجودگی رکھے گا۔ ایران جنگ اِسی کا تسلسل ہے، لیکن اس کی بنیاد اس کے عرب حلیف اور اسرائیل ہیں، جنہیں وہ قریب لانا چاہتا ہے۔ نیٹو اس کا ملٹری بازو اور آئی ایم ایف معاشی وِنگ ہے۔ امریکا یوکرین جنگ کو یورپ کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اِسی لیے یورپ کی سیاسی، فوجی اور مالیاتی مدد کرتا ہے، لیکن تمام تر اختلافات کے باوجود ٹرمپ کی پیوٹن سے ملاقات بھی ہوئی، جب کہ وہ بیجنگ بھی گئے۔

روسی صدر نے حال ہی میں ملٹری پریڈ سے خطاب میں کہا کہ ’’اُن کے خیال میں یوکرین جنگ بند ہونے والی ہے۔‘‘ تائیوان، امریکا کے’’زون آف انفلوئینس‘‘ میں آتا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے ایڈوانسڈ سیمی کنڈکٹرز بناتا ہے۔ امریکا اسے آزاد مُلک رکھنا چاہتا ہے، جب کہ چین اسے اپنا حصّہ قرار دیتا ہے، لیکن چین کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ فوجی اقدامات کی بجائے پُرامن پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، جو پہلے ہانگ کانگ میں کام یاب ہو چُکی ہے۔

عرب دنیا کی تعمیر میں مغربی طاقتوں کا بنیادی کردار ہے، جب کہ یہ ممالک امریکا کے اہم اتحادی ہیں، تو دوسری طرف واشنگٹن، اسرائیل کا پارٹنر ہے۔ کشمیر کے معاملے پر امریکا نیوٹرل ہے، تاہم وہ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے، جب کہ ٹرمپ اِس معاملے پر ثالثی کی آفر کرچُکے ہیں، لیکن بھارت نے، جو اس کا قریبی اتحادی ہے، یہ پیش کش قبول نہیں کی۔

چین کا بنیادی مفاد یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوّت بن جائے، جب کہ فوجی معاملات اِس کے لیے ثانوی ہیں۔ اُس نے یہ پالیسی1979 ء میں اختیار کی اور اب تک اُس پر قائم ہے۔ اسے غزہ، ایران اور یوکرین کی جنگیں اِس راستے سے ہٹا سکیں اور نہ ہی بھارت سے سرحدی اختلافات، جنگ تک پہنچے۔ چینی قیادت کے نزدیک ہر پالیسی اور دوستی میں اس کی اقتصادی برتری اوّلیت رکھتی ہے۔ اگر یہ بات سمجھ میں آجائے، تو چین کے اقدامات اور بیانات سمجھنے آسان ہوجائیں۔ اِس پالیسی میں بھارت کی دشمنی، روس کی دوستی اور پاکستان سے برادرانہ تعلقات حائل نہیں ہوسکتے ۔

اِسی لیے کشمیر کا مسئلہ ہو یا پھر فلسطین، یوکرین اور ایران کی جنگیں، وہ اپنے دوستوں کو بات چیت ہی کا مشورہ دیتا ہے۔ امریکا سے مخاصمت کے باوجود وہ اس کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ اسرائیل بھی اُس کا اسٹریٹیجک ساتھی ہے اورعرب ممالک بھی دوست ہیں، جب کہ ایران سے بھی دوستی ہے۔ وہ مشرقِ وسطی میں جنگ نہیں، استحکام چاہتا ہے۔ چین نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ اور برکس بینک جیسے مضبوط ادارے بنائے ہیں۔ اس کی پالیسی میں دھیما پن ہے۔

گرجتا ہے، نہ برستا ہے، بلکہ کھلی فضائوں میں سانس لینے کو مقصدِ اوّل سمجھتا ہے۔ اس سے کسی میدان میں جنگی مدد خام خیالی ہی ہوسکتی ہے ہاں، ٹیکنالوجی اور ہتھیار فرخت کر کے پیسے کمانے میں کوئی حرج نہیں، جو وہ کر رہا ہے۔ صدر پیوٹن نے ایک بار کہا تھا کہ’’روس نہیں، تو یہ دنیا ہو یا نہ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ بس یہی روس کی پالیسی ہے۔

دوسرے الفاظ میں وہ روس کو سوویت دَور کی عظمت واپس دلوانا چاہتے ہیں۔ سوویت یونین کا بکھرنا، پیوٹن کی جوانی کا سب سے بڑا زخم ہے۔ وہ روس کو بڑی طاقت بنانے میں کام یاب رہے ہیں، گو اُنہیں اِس کے لیے امریکا اور چین سے ایسے سمجھوتے کرنے پڑے، جن کا سوویت دور میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔

روس کے پاس دنیا کی دوسری بڑی فوج اور سب سے زیادہ ایٹم بم ہیں، لیکن وہ امریکا اور چین سے اقتصادی طور پر بہت پیچھے ہے۔وہاں کا معیارِ زندگی مغرب کے قریب تک بھی نہیں۔ اُنہوں نے کمیونزم کو نرم کرکے ایک نیم سوشلسٹ جمہوری نظام بنایا ہے، جس سے اُن کا پرانا بھرم بھی رہے اور نئے تقاضے بھی پورے ہوں۔ روس کا بنیادی سہارا تیل اور گیس کی قوّت ہے۔ وہ اوپیک پلس کا رُکن ہے۔

روس نے جارحیت کرنے میں کبھی شرم محسوس نہیں کی۔ افغانستان کی مثال سامنے ہے، جب کہ اس نے ایران کے ساتھ مل کر شام میں دو سال تک بم باری کی، جس میں لاکھوں شہری ہلاک ہوئے۔ اِسی طرح پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کر کے کریمیا پر قبضہ کیا۔ پھر چار سال پہلے اپنے سے چار گُنا چھوٹے اِسی مُلک پر حملہ آور ہوا۔ اِس جنگ میں بھی ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہوچُکی ہیں۔ وہ یوکرین پر کب کا قبضہ کرچُکے ہوتے، اگر یورپ اور امریکا ذیلنسکی جیسے بہادر لیڈر کے ساتھ نہ کھڑے ہوتے۔ ذیلنسکی نے روس کو سوویت یونین کا آخری زمانہ یاد دِلا دیا ہے۔ روس، نیٹو کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے، مگر یہ مشکل ہوگا۔

یورپ ایک مختلف معاملہ ہے کہ یہ کوئی ایک مُلک نہیں اور بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی خود مختار لائن اور پالیسی ہے۔ تاہم یورپی یونین کے 29 ممالک اپنے خطّے میں استحکام چاہتے ہیں۔ یورپ جنگ میں یوکرین کی مدد تو کر رہا ہے، مگر زیادہ کُھل کر نہیں، کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ علاقے میں کوئی بڑی جنگ ہو۔ یورپ دوسری عالمی جنگ کا ڈسا ہوا ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا زبردست حامی ہے اور حقوق کی بات ضرور کرتا ہے، تاہم ایک خاص دائرے میں رہ کر۔

وہ عربوں اور اسرائیل سے اچھے تعلقات، جب کہ ایران پر بھی اثرات رکھنا چاہتا ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے ساتھ ہے بھی اور نہیں بھی۔ یعنی مدد تو کی، مگر محتاط رویّہ اپنائے رکھا تاکہ وقت آنے پر ایران کی ثالثی میں کردار ادا کرسکے۔ وہ بھی امریکا کی طرح ایران کے نیوکلیئر پاور ہونے کی مخالفت کرتا ہے۔

وہ ایرانی رجیم کا بھی شدید نقّاد ہے، مگر اسے نرم حکمتِ عملی سے گرانا چاہتا ہے تاکہ خطّے میں کوئی دھماکا نہ ہو۔ بہرحال، یورپ، امریکا کے مقابلے میں مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ قریب ہے اور وہاں رُونما ہونے والے واقعات سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ شامی جنگ میں مہاجرین یورپ پہنچے، جس نے مرکل جیسی مضبوط لیڈر کا اقتدار ہلا ڈالا، حالاں کہ وہ تو صرف انسانی حقوق کی بنیاد پر اُن کی حمایت کر رہی تھیں۔ دنیا میں جنگیں، خانہ جنگیاں، پراکسی وارز یا اقتصادی پابندیوں کی وجہ بڑی طاقتوں کے رویّے اور پالیسیز ہیں، جنہیں اِسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ۔