منی لانڈرنگ و اسمگلنگ کے مقدمے میں امریکی عدالت کو مطلوب پاکستانی نژاد ملزم عبداللّٰہ انور کو قطر سے گرفتار کرنے کے بعد امریکا منتقل کر دیا گیا۔
نارتھ ٹیکساس میں موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور دیگر قیمتی الیکٹرانک آلات کی مبینہ چوری، فراڈ اور بیرونِ ملک ترسیل و منی لانڈرنگ کے ایک وسیع مقدمے میں نامزد 28 سالہ پاکستانی نژاد عبداللّٰہ انور کو امریکا کے حوالے کیے جانے کے بعد ایف بی آئی نے ٹیکساس جیل منتقل کر دیا ہے۔
ملزم کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے، امریکی اٹارنی آفس برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف ٹیکساس کے مطابق عبداللّٰہ انور کو وفاقی گرینڈ جیوری نے چوری شدہ املاک کو ریاستی اور بین الاقوامی تجارت کے ذریعے منتقل کرنے کی سازش، میل فراڈ کی سازش، وائر فراڈ کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات میں ملزم نامزد کیا تھا۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ عبداللّٰہ انور ضمانت پر رہا ہونے کے بعد پہلے پاکستان اور پھر قطر چلاگیا تھا، جہاں سے اسے گرفتار کر کے 10 جولائی 2026ء کو امریکا منتقل کیا گیا، اس وقت ملزم کولن کاؤنٹی جیل میں زیرِ حراست ہے۔
ایف بی آئی حکام کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف کے آفس آف انٹرنیشنل افیئر نے قطری حکام کے تعاون سے اس ملزم کی گرفتاری اور حوالگی کا عمل ممکن بنایا، جس پر امریکی حکام نے قطر کی وزارتِ داخلہ اور پبلک پراسیکیوشن کے تعاون کو خصوصی طور پر سراہا۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق عبداللّٰہ انور گارلینڈ، ٹیکساس کا رہائشی ہے، جبکہ 2021ء میں جاری کردہ اصل سرکاری فہرست میں اسے رولیٹ کا 24 سالہ رہائشی بتایا گیا تھا، تاہم دونوں پریس ریلیز میں رہائش کے مختلف شہروں کے اندراج کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ایک ایسے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ تھا جسے 5 سال کے دوران 1 ارب ڈالرز سے زائد نقصانات سے جوڑا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک نے تقریباً 10 کروڑ امریکی ڈالرز (100 ملین ڈالرز) مالیت کے 70 ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فون، ٹیبلیٹس، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ واچز بیرونِ ملک فروخت کیے، جبکہ شناختی چوری کے ذریعے تقریباً 20 ہزار ڈیوائسز حاصل کیں۔
حکام کے مطابق اس کارروائی سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔
دستیاب ناموں کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمان میں تقریباً 20 افراد کا تعلق تارکینِ وطن (امیگرنٹ) کمیونٹی سے ہے، جن میں پاکستان، بھارت، عرب ممالک، شمالی افریقا اور وسطی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے نام شامل ہیں۔