امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک اپنی سخت شرائط پر قائم رہے تو کسی پیش رفت کا امکان کم ہو جائے گا۔
امریکی تھنک ٹینک کیٹو انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو اور سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے معاون ڈوگ بینڈو نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے ایسی ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید یہی ہے کہ دونوں فریق اپنی سخت شرائط میں نرمی لائیں اور جنگ سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہوں گے۔
ڈوگ بینڈو کے مطابق اگر دونوں ممالک ضد پر قائم رہے اور مذاکرات میں لچک نہ دکھائی تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے، تاہم اگر فریقین مزید بات چیت اور کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے تیار ہو جائیں تو پیش رفت کا راستہ نکل سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ چند دنوں میں حل نہیں ہو گا، سنجیدہ مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔
ماہرین کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑے تنازع کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔