امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی تیاریوں کے باعث تائیوان کو 14 بلین ڈالرز کے ہتھیاروں کی فروخت عارضی طور پر روک دی۔
امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے سینیٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا اپنی فوجی ضروریات کے لیے اسلحہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کا فیصلہ بعد میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ اسلحہ پیکیج امریکی کانگریس نے جنوری میں منظور کیا تھا تاہم حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دینی ہے، اگر یہ معاہدہ مکمل ہو گیا تو یہ تائیوان کو امریکا کی جانب سے تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ پیکیج ہو گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کی منظوری دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔
اُنہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اسلحے کا معاہدہ چین کے ساتھ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب تائیوان کے وزیرِ اعظم چو جنگ تائی نے واضح کیا ہے کہ تائیوان دفاعی خریداری جاری رکھے گا۔
ادھر چین نے ایک بار پھر تائیوان کے لیے امریکی حمایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان اس کے علاقے کا حصہ ہے، امریکا کی تائیوان کے حوالے سے مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔