• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی ایران پر دھمکیوں اور مذاکرات کے درمیان جھولتی پالیسی، صورتِحال پیچیدہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر متضاد بیانات دے کر صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ایک طرف ٹرمپ جنگ بندی اور سفارتی حل کی امید ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران پر نئے حملوں اور سخت فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف 1 گھنٹہ دور تھے، تاہم بعد میں انہوں نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔

 ادھر ایران نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی دوران ٹرمپ نے ایک امریکی اخبار کے مضمون کو شیئر کیا جس میں ایران کو 3 اقدامات کے ذریعے کچلنے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی تھی، مضمون میں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے، آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی طاقت کے استعمال اور ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان بھی ایران کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو ایران پر مزید حملوں کے حق میں ہیں جبکہ ٹرمپ فی الحال کسی معاہدے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو سب کچھ بہت تیزی سے ہو گا، ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی بدلتی حکمتِ عملی ایران کے لیے بھی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے کیونکہ تہران اب تک یہ طے نہیں کر پا رہا کہ واشنگٹن واقعی معاہدہ چاہتا ہے یا جنگ۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک بڑی سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں ایک طویل اور خطرناک تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید