مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بھارت بھی شدید توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث وینزویلا بھارت کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں دوبارہ شامل ہو گیا ہے، رواں ماہ وینزویلا سے بھارت کو خام تیل کی ترسیل میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کریں گی جہاں تیل کی فروخت اور توانائی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے بھارت زیادہ سے زیادہ امریکی اور وینزویلا کا تیل خریدے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بھارت کی خلیجی ممالک سے تیل سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، سعودی عرب سے درآمدات تقریباً نصف رہ گئی ہیں جبکہ ایرانی تیل کی ترسیل بھی دوبارہ رک چکی ہے، کئی بھارتی جہاز خلیجی پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور بعض پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق بھارت اس وقت روسی تیل اور وینزویلا کے بھاری خام تیل پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہے، امریکی دباؤ کے باوجود بھارت روسی تیل خرید رہا ہے تاہم واشنگٹن چاہتا ہے کہ نئی دہلی روس پر انحصار کم کرے۔
یاد رہے کہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کا مالک ہے جہاں تقریباً 303 ارب بیرل خام تیل موجود ہے لیکن امریکی پابندیوں اور بدانتظامی کے باعث پیداوار محدود رہی ہے، اب امریکا وینزویلا کے تیل کو دوبارہ عالمی منڈی میں لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران اور روس کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔