بھارت میں ہندوتوا ایک سیاسی اور قوم پرستانہ نظریہ ہے جو ملک کی شناخت کو ہندو تہذیب اور ثقافت سے جوڑتا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا اور ہندومت الگ الگ چیزیں ہیں کیونکہ ہندومت ایک قدیم مذہب ہے جبکہ ہندوتوا 20 ویں صدی کی سیاسی تحریک سمجھی جاتی ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے دھار شہر کی تاریخی کمال مولیٰ مسجد کو ہندو دیوی کا مندر قرار دیا جس کے بعد ہندو انتہا پسند گروہوں نے وہاں جشن منایا اور مذہبی رسومات ادا کیں، یہ تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
ہندوتوا کی اصطلاح پہلی بار 1923ء میں بھارتی قوم پرست رہنما ونایک دامودر ساورکر نے اپنی کتاب ’ایسنشلز آف ہندوتوا‘ میں استعمال کی تھی، ان کے مطابق بھارت صرف ان لوگوں کا وطن ہے جن کی مذہبی اور ثقافتی جڑیں ہندو تہذیب سے وابستہ ہیں۔
بعد ازاں 1925ء میں کیشو بلی رام ہیڈگوار نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس قائم کی جو آج ہندو قوم پرست تحریک کی مرکزی تنظیم سمجھی جاتی ہے، اسی نظریے سے بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی وجود میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق ہندوتوا کے حامی بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اس نظریے کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ نظریہ ملک کی مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کو دیوار سے لگاتا ہے۔
1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوتوا سیاست کو بڑی طاقت ملی، بعد ازاں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے 2014ء میں اقتدار حاصل کیا اور اس نظریے کو مزید فروغ ملا۔
مودی حکومت کے دور میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، شہریت ترمیمی قانون نافذ ہوا اور کئی ریاستوں میں گاؤ کشی، مذہب تبدیلی اور بین المذاہب شادیوں کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا سے وابستہ شدت پسند گروہوں پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد، ہجوم کے ہاتھوں قتل اور مذہبی نفرت پھیلانے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔