• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلگت بلتستان میں عنقریب منعقد ہونے والے الیکشن اسی کوچہ یار کی طرح لگ رہے ہیں جس کے بارے میں فیض نے کیا خوب کہا تھا

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

لیکن یہاں سوئے دار تو مقام فیض ہے مگر اس وقت الیکشن کی سیاست  میں بے فیضی کا موسم عروج پر ہے ۔ اس دست برد کا شکار وہ ہیں جنہیں عرف عام میں حقیقی سیاسی کارکن کہا جاتا ہے۔پاکستان کی خار زار سیاست میں حقیقی کارکنان کی آبلہ پائی سے ہر بار پھول تو ضرور کھلے لیکن ان کی خوشبو کوتو ہمیشہ سے صیاد چمن نے لوٹ لیا ہے۔ صرف سیاست پر صاد نہیں بلکہ دشت عشق میں بھی آبلہ پائی کرنے والوں کے ہاتھوں میں صرف ان کے اپنےگریبان کی دھجیاں ہی آئی ہیں۔

ہماری اپنی لوک داستانوں پر نظر ڈالیں تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ بچارے فرہاد، مجنوں ، رانجھا ، پنوں جیسے عاشق تو صرف محبت کا دم بھرتے رہے لیکن محمل تو کسی اور کے دالان میں جاکر اترا۔ادھر اردو شاعری کے دبستان لکھنؤ اور دبستان دلی پر بھی محبوب کے بے رخی سے جو بجلی گری تھی۔ اس نے جو خرمن دل کو جلا کر راکھ کردیا تھا تبھی تو میر تقی میر ،اسداللہ غالب ، استاد ابراہیم ذوق، داغ دہلوی سےلیکر جگر مراد آبادی تک کی شاعری میں اس سنگ دل محبوب سے گلہ گزاری ، آہ و زاری اور بے وفائی کے بلند نالے ملتے ہیں۔ یہ ناقدری زمانہ اور بے وفائی کا گلہ صرف اردو شاعری تک محدود نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی شنا اور بلتی زبانوں میں بھی اسکے شاندار نمونے ملتے ہیں۔بلتی زبان کا ایک  قدیم لوک گیت ’شنگ کھن کوفہ پا‘ کا آج کل بڑا چرچا ہے اور اس کی وجہ حالیہ الیکشن کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم سے ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر تحریروں میں اس کو تمثیلی طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور اس گیت کا موضوع دراصل بے قدری زمانہ کا ہے۔پہلے لوک گیت کا ممکنہ اردو ترجمہ پڑھیں اور پھر اس شدت کرب کا اندازہ لگائیں کہ اپنوں کی طرف سے برتی گئی بے رخی کس طرح کلیجہ میں چھید کرتی ہے۔

’’تم مجھے کم سنی میں بیاہ کر لائے؍اور اب آدھے بال سفید ہونے پر چھوڑ دیا؍تم مجھے اس وقت بیاہ کر لائے جب میرا منہ دانتوں سے بھرا ہوا تھا؍اب میرا منہ خالی ہوگیا تو تم نے چھوڑ دیا؍تم مجھے اس وقت بیاہ کر لائے جب میں گلاب کی کلی کی مانند تھی ؍اب میں ایک مرجھائے ہوئے گلاب کی طرح ہوں تو تم نے مجھے چھوڑ دیا؍تم مجھے اس وقت لائے جب میرا گھرانہ آباد تھا عزیز واقارب زندہ تھے؍اب جبکہ میرے سارے عزیز ختم ہوگئے ہیں تو تم نے مجھے دھتکار دیا ہے‘‘

یہ ترجمہ سید عباس کاظمی صاحب کی کتاب ’’بلتی لوک گیت‘‘سے لیا گیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ کسی ترکھان نے ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کی اور جب اس کی عمر ڈھلنے لگی تو اسے چھوڑ دیا۔ اس گیت میں بے اعتنائی کا شکار ہونے والی نے اپنے شوہر کو کوفہ والوں کی طرح بے وفا گردانا ہے اور یہ کہہ کر کہ ’’تمہاری اس بے وفائی کو دیکھ کر اب کون کسی سے پیار کرے گا اور کون کسی پر بھروسہ کرے گا‘‘ اس مزاج کی طرف نشاندہی کی ہے جس کا شکوہ آج کل گلگت بلتستان کے حقیقی سیاسی کارکنان کے لبوں پر بھی ہے۔سیاسی جماعتوں میں بھی اشرافیہ نے اپنا قبضہ مستحکم کردیا ہے اور حکمت عملی بھی یہ رہتی ہے کہ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط رکھے جائیں۔ ایسی صورت حال میں وفاداری اور طویل تعلق کو ثانوی حیثیت دی جارہی ہے اور رتبہ و منزلت انہی کے نام ہوتی ہے جنہوں نے سیاسی بساط میں نئی انٹری مار کرکوئی خاص چال چلی ہو۔جنرل ضیاء الحق جب ایک منتخب عوامی حکومت کو برطرف کرکے مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے تو ان کا پہلا شکار اہل سیاست اور پھر نظریاتی کارکن رہے۔ آئین کو چند کاغذوں کا پلندہ کہا اور نظریاتی سیاست کو مفاداتی سیاست میں بدلنے کا خوب اہتمام کیا۔ مذہبی جماعتوں کو گلے لگایا اور خود ساختہ نظام مصطفیٰ کے نام پر ہر پروگریسیو فکر کی بیخ کنی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ طویل تاریکی کے بعد غیر جماعتی الیکشن کا ڈول ڈالا اور ایک مفاداتی کلاس کی بنیاد رکھی جس نے بعد ازاں اپنے اپنے مفاد کی حفاظت کی سیاست کی ۔ان کے بعد یہ ورثہ بظاہر خود کو جمہوری کہلانے والی جماعتوں میں منتقل ہوگیا اور اب یہ تمام سیاسی جماعتوں کا طرہ امتیاز بن کر رہ گیا ہے کہ بیانیہ، نظریہ اور نظریاتی وابستگی کو کوڑے دان میں ڈال دو۔ اب جمہوریت  صرف الیکٹیبلز  کا chessboard بن گئی ہے جہاں وہ ہر کسی کو مات دے رہے ہیں۔

گلگت بلتستان میں جون کو ہونے والے الیکشن میں حصہ لینے والی تین بڑی وفاقی جماعتوں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی تقسیم کو دیکھا جائے تو ستر فیصد سے زائد ٹکٹ حاصل کرنے والے وہ ہیں جو کبھی کسی اور دسترخوان پر تھے۔ادھر مذہبی جماعتوں کی حالت بھی دگرگوں ہے کبھی یہ جماعتیں اصلی دینی نظام کے قیام کا نعرہ بلند کرکے الیکشنز میں اتری تھیں اور بڑا غلغلہ مچا رکھا تھا۔ اب یہ صورت حال ہے کہ نہ جائے رفتن نہ... کی مانند کہیں کسی پارٹی کے حق میں دستبردار ہوکر اور کہیں کسی جماعت کے ساتھ اشتراک عمل کرکے اپنے جبہ و دستار کی عزت بچانے میں سرگرداں ہیں۔ ایسی صورت حال کے باوجود سیاسی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے اپنے اپنے سیاسی نظریات کو حرز جاں بنا کر رکھا ہوا ہے۔ ان کی آنکھوں میں اس انقلاب کی پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں جن کا یوٹوپیائی وجود تو ممکن ہے مگر حقیقت کی دنیا اس سے مختلف بلکہ الٹ ہے۔

تازہ ترین