اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم الحسینی دی آغا خان پنجم نے آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کی دعوت پر کیا گیا پاکستان کا 7 روزہ سرکاری دورہ مکمل کرلیا۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹورک (اے کے ڈی این) کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس دوران انہوں نے اسلام آباد سے گلگت بلتستان اور چترال کے شمالی علاقوں کا دورہ کیا اور اسماعیلی کمیو نٹی کے افراد کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔
پاکستان آمد پر نور خان ایئر بیس پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وہ ایوانِ صدر روانہ ہوئے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ صدر آصف زرداری نے ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیےکا اہتمام بھی کیا، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سینئر وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پرنس رحیم آغا خان نے صدر زرداری کے ساتھ ایک دو طرفہ ملاقات بھی کی، جس میں انہوں نے پاکستان میں ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے AKDN کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے بعد ان کے اعزاز میں وزیر اعظم شہباز شریف کی میزبانی میں ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جہاں وزیر اعظم نے امن، استحکام اور ترقی کے لیے آغا خان پنجم کے عزم کو سراہا۔
وزیر اعظم نے آغا خان پنجم کو پاکستان پوسٹ کی جانب سے جاری کیا گیا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی پیش کیا، جو مرحوم آغا خان چہارم کی عالمی بصیرت، انسان دوستی اور پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں جاری کیا گیا ہے۔
آغا خان پنجم 22 مئی کو گلگت بلتستان تشریف لے گئے، جہاں گورنر گلگت بلتستان اور سینئر سول و فوجی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ تین روز کے دوران انہوں نے پاسو، ہنزہ، گلگت، گاہکوچ بالا اور طاوس میں منعقدہ اجتماعات میں اسماعیلی کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کی۔
انہوں نے اتحاد، زندگی بھر تعلیم کے حصول، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، پرامن بقائے باہمی، اور پیشہ ورانہ و سماجی زندگی میں اخلاقی اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مزید انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمارا ایمان توحید کے تصور، حضرت محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی اہمیت پر مبنی ہے۔
چترال، خیبر پختونخوا آمد پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پرنس رحیم آغا خان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
گورنر اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات کے دوران صوبے میں ترقی اور باہمی تعاون کے مزید مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آغا خان پنجم نے پرواک اور گرم چشمہ میں اسماعیلی کمیونٹی کے افراد سے بھی ملاقات کی۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اسماعیلی کمیونٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ ایئرپورٹ پر پرنس رحیم آغا خان کو رخصت کیا۔
خیال رہے کہ اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔
اس دورے نے اسماعیلی برادری اور پاکستان کی حکومت و عوام کے درمیان گہرے اور دیرینہ روابط کو مزید مضبوط کیا۔