• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: بحری جہازوں کی ٹکر، 1 جہاز کو جدہ جانے سے روک دیا گیا

---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

کراچی بندرگاہ پر جہازوں کی ٹکر سے متاثرہ جدہ جانے والے جہاز ’ایم وی پاپو‘ کو روانگی سے روک دیا گیا۔

کے پی ٹی ذرائع کے مطابق جہاز کو مزید کارروائی تک بندرگاہ سے روانہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل بچھانے اور مرمت کرنے والا جہاز ’ایم وی نیوا‘ پورٹ کی برتھ پر موجود ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ’نیوا‘ جہاز بڑی مرمت کے بعد دوبارہ سمندری سفر کے قابل ہو گا۔

پورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی انکوائری کی جائے گی اور اس ضمن میں ذمے داروں کا تعین بھی کیا جائے گا۔

کراچی بندرگاہ کے قریب 2 جہاز ٹکرا گئے تھے، واقعے کی وجوہات اور حقائق کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کراچی پورٹ کے داخلی راستے کے قریب فیئر وے بوائے کے باہر 2 جہاز ایم وی نیوا (متحدہ عرب امارات پرچم بردار) اور ایم وی پاپو (لائبیریا پرچم بردار) جمعرات کو رات تقریباً 8 بجے آپس میں ٹکرا گئے۔

خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے اپنے 4 بڑے ٹگز ایم ٹی میٹھادر، ایم ٹی کھارادر، ایم ٹی لیاری اور ایم ٹی کیماڑی تعینات کیے، جنہوں نے متاثرہ جہاز ایم وی نیوا کو بحفاظت کراچی ہاربر منتقل کیا، جہاں اسے مرمت کے لیے لنگر انداز کر دیا گیا۔

کے پی ٹی کے اعلامیے کے مطابق اس بروقت امدادی کارروائی سے جہاز رانی اور سمندری ماحول کو درپیش ممکنہ خطرات کو ٹال دیا گیا۔

وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کے قریب بحری حادثے کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ یہ حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود کے باہر رونما ہوا، جس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

جنید انوار کا کہنا ہے کہ بحری حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

علاوہ ازیں چیئرمین کراچی پورٹ کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

قومی خبریں سے مزید