• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی رحمتِ الہٰی کا عملی مظہر تھی، ڈاکٹر طاہرالقادری

برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں منعقدہ سالانہ ’’پروفیٹک سیرت کانفرنس‘‘ میں برطانیہ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اہتمام منہاج القرآن انٹرنیشنل یوکے نے کیا، جس میں علماء، طلبہ، سماجی رہنما، خاندانوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

کانفرنس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب کرتے ہوئے سیرتِ نبوی ﷺ اور قرآنِ مجید کے باہمی تعلق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم پہلے وحی کی صورت میں حضور نبی اکرم ﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل ہوا، پھر آپﷺ کے کردار اور شخصیت میں ڈھل کر سیرتِ طیبہ کی شکل اختیار کر گیا اور بعد ازاں آپ ﷺ کی زبانِ مبارک کے ذریعے امت تک پہنچا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے حضرت عائشہؓ کے اس مشہور فرمان کا حوالہ دیا کہ ’’آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن تھا‘‘ اور کہا کہ سیرتِ رسول ﷺ دراصل قرآنِ مجید کا عملی اور جیتا جاگتا نمونہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنتِ نبوی ﷺ کی حقیقی پیروی صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ دل کی اصلاح اور باطنی اوصاف اپنانے کا نام ہے۔ رحم، عاجزی، صبر، امانت داری، سخاوت اور مخلوقِ خدا کی خیر خواہی وہ صفات ہیں جو ایک مسلمان کی زندگی میں نمایاں ہونی چاہئیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت، عفو و درگزر اور انسانیت سے محبت کے متعدد واقعات بیان کیے۔ انہوں نے طائف کے واقعے، فتح مکہ کے موقع پر عام معافی، بچوں کے رونے پر نماز مختصر کرنے، جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ معاشرت کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی رحمتِ الہٰی کا عملی مظہر تھی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے مسجد نبوی ﷺ کی ’’روضۂ مبارک‘‘ کی فضیلت پر بھی گفتگو کی اور اس حوالے سے محدثین اور آئمہ کرام کی آراء بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام میں علماء نے ہمیشہ بارگاہِ رسالت ﷺ کے ساتھ انتہائی ادب و احترام کا رویہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے قرآنِ مجید کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے حدیث اور سنت کی ناگزیر اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز سمیت دین کے بے شمار عملی احکام سنتِ رسول ﷺ کے ذریعے ہی امت تک پہنچے ہیں، اس لیے قرآن اور سنت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

خطاب کے دوران انہوں نے علم کے ساتھ ادب، عاجزی اور اخلاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے اقوال و طرزِ عمل کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کے بغیر علم اختلاف اور انتشار کا سبب بن سکتا ہے جبکہ ادب کے ساتھ حاصل کیا گیا علم امت کے لیے خیر اور وحدت کا ذریعہ بنتا ہے۔

معاصر مسلم معاشروں میں بڑھتے ہوئے اختلافات اور باہمی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے امتِ مسلمہ کو احترامِ باہمی، برداشت اور اتحاد کی فضا کو فروغ دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ اور اکابرین کے درمیان علمی اختلافات کے باوجود باہمی احترام ہمیشہ برقرار رہا اور یہی طرزِ عمل آج بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر امتِ مسلمہ، نوجوان نسل کی ہدایت اور معاشرے میں حقیقی اخلاقِ مصطفوی ﷺ کے فروغ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغامِ رحمت، محبت، خدمت اور اتحاد کو عام کرنے کے لیے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔

قومی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید