وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں نے 1 سے زائد بار کہا ہے کہ اپوزیشن کو آج بھی کہتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں، میثاقِ معیشت و میثاقِ جمہوریت کی طرف بڑھیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاست اپنی اپنی، وژن اپنا اپنا، خیالات اپنے اپنے لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ ایوان ایک گھر کی طرح ہے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کو غور سے سنا، سیاست اور خیالات اپنے اپنے لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 3 روز پہلے 22 جوان شہید ہوئے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، افسر اور جوان اپنے بچوں کو یتیم کر جاتے ہیں اور کروڑوں عوام کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں، ہمیں ان قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں کے وسائل پر صوبوں کا حق ہے اس پر کوئی اختلاف نہیں، آپ ریکوڈک کا معاہدہ پڑھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا، ریکوڈک کا معاہدہ بلوچستان کے زعما کے ساتھ مشاورت سے ہوا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا شیئر 100 فیصد بڑھایا گیا، یہ کوئی احسان نہیں لیکن یاد دہانی کے لیے کہہ رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبے کے معاشی وسائل ان کا حق ہیں، کوئی دو رائے اور اختلاف نہیں، بلوچستان کے عوام کے شیئرز چھپا ہوا راز نہیں، سب کے سامنے ہیں، ریکوڈک پر بلوچستان کے عوام کے شیئرز روشن مثال ہیں۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے جہاں غیور اور دلیر عوام ہیں، بلوچستان کے لیے پنجاب اور سندھ نے کنٹریبیوٹ کیا، بلوچستان میں کسانوں کو 75 ارب روپے کی لاگت سے سولر پینلز دیےگئے، گوادر سے چمن تک روڈ بن رہا ہے جو ہائی وے کے معیار کے مطابق ہے۔