• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی اداکاراؤں کو جو سہولتیں و تربیت ملی ہیں، وہ ہمیں حاصل نہیں تھیں: دیا مرزا

دیا مرزا---فائل فوٹو
دیا مرزا---فائل فوٹو

 بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی نسل کی اداکاراؤں کو وہ سہولتیں اور تربیت میسر آئیں جو ہمیں اپنے آغاز میں حاصل نہیں تھیں۔

ایک خصوصی انٹرویو میں مرزا نے بتایا ہے کہ میں نے اکثر ان اداکاراؤں کے بارے میں پڑھا ہے جنہیں انڈسٹری میں لانچ کیے جانے سے پہلے مکمل تربیت اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے بالخصوص دیپیکا پڈوکون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کو اداکاری کی ورکشاپس، ڈانس کلاسز، پروفیشنل گائیڈنس اور دیگر تربیتی مواقع فراہم کیے گئے، جس سے دیپیکا کے لیے فلمی دنیا میں قدم جمانا نسبتاً آسان ہو گیا۔

دیا مرزا نے کہا کہ میں ان فنکاروں کے بارے میں کہانیاں پڑھتی تھی جنہیں بے حد توجہ، محبت اور تیاری کے ساتھ متعارف کرایا جاتا تھا، انہیں ورکشاپس، کلاسز، اداکاری کے آداب، ڈانس ٹریننگ اور دیگر رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔

اس موقع پر فرح خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ نئے فنکاروں کے لیے بہترین تکنیکی ماہرین اور تربیتی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

جس پر دیا مرزا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا بس کریں، یہ میری کمزوری والا موضوع ہے۔

اداکارہ نے بتایا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور مجھے براہِ راست کئی فلموں میں کام پر لگا دیا گیا، میں روزانہ 24 سے 28 گھنٹے تک مسلسل کام کرتی تھی اور سیکھنے کا موقع مجھے عملی تجربے کے ذریعے ہی ملا۔

واضح رہے کہ دیپیکا پڈوکون نے 2007ء میں فرح خان کی بلاک بسٹر فلم اوم شانتی اوم کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا، جس میں ان کے مدِ مقابل سپر اسٹار شاہ رخ خان تھے، یہ فلم بھارتی سنیما کی کامیاب ترین ڈیبیو فلموں میں شمار کی جاتی ہے اور اس نے دیپیکا کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید