امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایران سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بریفنگ دی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ارکانِ کانگریس نے ایران کے جوہری ذخیرے اور ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے سے متعلق سوالات کیے۔
روبیو اور وٹکوف نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایک ایسا حتمی معاہدہ کرنا ہے جس کے تحت ایران کو اعلیٰ افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مفاہمتی یادداشت اسی مقصد کے لیے مذاکرات کا آغاز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوہری مذاکرات میں شامل تکنیکی ٹیمیں آئندہ بات چیت کے لیے قطر جائیں گی۔
امریکی حکام نے قانون سازوں کو یقین دہانی کروائی کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے اور مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو اب تک کسی قسم کی مالی ادائیگی، خصوصاً امریکی ذرائع سے نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی تیل پر پابندیاں اٹھانے کے معاملے پر ایک ڈیموکریٹ رکن اور امریکی حکام کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد بریفنگ کا اختتام کر دیا گیا۔