وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ججز کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر ہونا چاہیے، ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی بار انٹرویو کیے جائیں گے۔
انہوں نے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار ججز کی کارکردگی جانچنے کے لیے آئینی نظام لا رہے ہیں۔
وزیرِ قانون نے کہا ہے کہ انٹرویوز کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گی ہے، کمیٹی تجویز کردہ ناموں پر انٹرویو کرے گی، سول اور ایڈیشنل سیشن ججز کے لیے امتحان لیا جاتا ہے تو ہائی کورٹ کے ججز کے لیے انٹرویو کیوں نہ ہوں؟
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز ایولیوایشن کمیٹی ہر سال کے آخر میں ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، شام کو کیسزکی کاز لسٹ نکلتی ہے تو وکیل کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے کیس کے ساتھ کیا ہو گا، یا تو کیس کا فیصلہ ہو گا یا بال سفید ہو جائیں گے۔
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ سب ججز بہت قابلِ عزت ہیں مگر یہ ٹیکس پیئر کا پیسہ ہے، جب تنخواہ، مراعات ایک جیسی ہیں تو کام ایک جیسا کیوں نہیں؟ جس جج کی کارکردگی اچھی نہیں ہو گی کمیٹی اس کے خلاف ریفرنس بنا کر جوڈیشل کمیشن کو بھیجے گی، کمیٹی غیر تسلی بخش کارکردگی پر جج کو برطرف کرنے کی سفارش کر سکتی ہے، قانون کی حکمرانی اور پاسداری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بارکونسل وکلاء کے لیے بہتر اقدامات کر رہی ہے، کینسر، گردے، جگر، دل کی بیماریوں کے لیے وکلاء کا علاج پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں میں ہو گا، وکیل اور وکیل کی فیملی کے علاج کے لیے ہماری پالیسی بن رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب کی حد تک 135 کروڑ روپے بار ایسوسی ایشنز کو دیے گئے ہیں جبکہ بار ووکیشنل کورس کے لیے 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں، ہمیں آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرنا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ جب بھی 28 ویں ترمیم آئے گی مشاورت سے آئے گی، 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ سمیت دیگر بارز نے ساتھ دیا تھا۔