بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے بیوی کے مبینہ سخت جملے کو ’شدید غصہ اور اچانک اشتعال دلانے والا‘ قرار دیتے ہوئے شوہر کی عمر قید کی سزا کم کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے ملزم شیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ تھا۔
واضح رہے کہ ملزم شیو کو ٹرائل کورٹ نے اپنی حاملہ بیوی کرن کے قتل پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
پولیس کے مطابق واقعہ 2021ء میں پیش آیا تھا جب شیو نے مبینہ طور پر اپنی بیوی پر پتھر سے حملہ کر کے اسے لہو لہان کر دیا تھا، کرن اس وقت 7 ماہ کی حاملہ تھی اور بعد میں زخموں کی شدت سے جان کی بازی ہار گئی تھی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم نے واقعے کے بعد خود مقتولہ کے اہلِ خانہ اور پولیس کو اطلاع دی اور بتایا کہ جھگڑے کے دوران بیوی نے کہا تھا کہ ’میں تم جیسے ہزار شوہر رکھ سکتی ہوں،‘ جس پر وہ شدید مشتعل ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے قرار دیا ہے کہ اس جملے کو شوہر کی تذلیل اور وقار مجروح کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس سے بعض حالات میں انسان کا خود پر کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگر یہ قتل منصوبہ بندی کے تحت ہوتا تو ملزم خود پولیس اور اہلِ خانہ کو فوری طور پر اطلاع نہ دیتا۔
عدالت کے مطابق شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حملہ پہلے سے طے شدہ تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس معاملے کو ایک بھارتی قانون کے تحت قتل کے بجائے دفعہ 304 حصہ 2 کے تحت شمار کیا جائے گا۔
نتیجتاً عدالت نے مجرم کی سزائے عمر قید کو 7 سال قید با مشقت اور 1 ہزار روپے جرمانے میں تبدیل کر دیا۔