وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کے کردار کا موقع ملا۔
استنبول میں پاک ترکیہ بی ٹو بی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لازوال رشتے کی ایک تاریخ ہے، اس منفرد اور تاریخی تعلق کی بنیاد ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران رکھی گئی۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ علی برادران کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترکیہ کی جدوجہد کی حمایت کی، ترکیہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کے کردار کا موقع ملا، کٹھن سفارتی مشن ہرگز آسان نہ تھا۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں، اب ضروری ہے کہ امن کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اللّٰہ کے فضل سے جنگ بندی ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے صدور نے پاکستان کی ثالثی میں ایم او یو پر دستخط کیے، ڈسکوز کی نجکاری اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری کے لیے ترکیے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وقت کے ساتھ بزنس ٹو بزنس تعاون مزید موثر ہوگا، توانائی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں ترک سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پر جنگ مسلط ہوئی تو ہم نے اپنی خودمختاری اور وقار کا دفاع کیا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے دشمن کو وہ جواب دیا جو تاریخ کاحصہ ہے، اس مشکل وقت میں ترکیہ، سعودی عرب اور دوست ملکوں نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔