• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، آٹے کی قیمت میں استحکام رکھنے کے لیے کارروائی کا فیصلہ کیا، ذخیرہ اندوزوں نے گندم خرید کر اسٹاک کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزرا محمد بخش مہر، مخدوم محبوب الزمان و دیگرکے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ 

انھوں نے کہا کہ اداروں کے ساتھ مل کر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں گے، وفاق چاہتا ہے تمام صوبے مل کر گندم کےلئے ایک پالیسی بنائیں۔ نئی شوگز ملز کے قیام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی بچوں کے لئے سینٹر بنانے کےلئے سندھ حکومت سے معاہدہ کیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا سندھ فیشریزسیکیورٹی سروسز کے نام سے ایک ادارہ بنا رہے ہیں، جبکہ بے نظیر بھٹو فلائی اوور کا کام ایک ماہ میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی منظوری دی گئی ہے۔

وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں نے کہا کہ گندم پالیسی کے معاملے پر وفاقی حکومت سے کچھ چیزوں پر اختلاف ہے، اپنے اعتراضات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کریں گے، ہم وفاق کی پالیسی سے متفق نہیں، صوبے خود مختار ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قوانین کے مطابق کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

مخدوم محبوب الزماں نے مزید کہا کہ گندم پالیسی بنائی تھی جس میں ہم کامیاب رہے ہیں، ایک گروہ گندم کی مصنوعی قلت پیدا کر رہا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پنجاب میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہونے والا واقعہ قابل افسوس ہے، اس کیس پر پنجاب حکومت نے فوری اور بہتر ایکشن لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کچھ دنوں سے نیا شوق چڑھا ہے وہ شوق پورا کریں، ایم کیو ایم وفاق میں سندھ کےمسائل پر احتجاجاً وزارتیں چھوڑ دے، پہلے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا وزارت چھوڑ دیتےتھے، ایم کیو ایم وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا بیان محض ایک بیان ہے۔

انھوں نے کہا سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بھارت کی مودی سرکار سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے، بھارت شکست کا بدلہ سندھ طاس معاہدےکی خلاف ورزی سے لینے کی کوشش کررہا ہے، بلاول بھٹو نے دریائے سندھ اور پاکستان کے مؤقف کو مؤثرانداز میں عالمی سطح پر پیش کیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پیٹرول کی سبسڈی ہم نے ایک پالیسی کے مطابق دیں تھی، سندھ میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، چاہتے ہیں 1991 کے آبی معاہدے پر اسکی اصل روح کے مطابق عمل ہو، سندھ سے گندم غائب ہونے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ 

انھوں نے کہا کہ صوبائی وزیرِ محنت نے اپنے محکمے میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔

قومی خبریں سے مزید