وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے خاتون کو ہراساں کرنے پر نجی کمپنی کے 5 عہدیداروں پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خوش اخلاقی رضا مندی نہیں، کام کی جگہ پر ہراسانی اور انتقامی رویہ ناقابلِ برداشت ہے، شکایت گزار خاتون نے بتایا کہ مختلف عہدوں پر فائز افراد نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔
خاتون کے مطابق ایک ملزم نے میٹنگ کے دوران ذاتی اور غیر پیشہ ورانہ جملے کہے، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ سیمپل دکھاتے وقت اس کا ہاتھ پکڑا، ایک ملزم نے خاتون کی شکایت کو آگے بڑھانے سے روکا اور وہ سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہیں کر سکا، ایک ملزم نے شکایت گزار کو قانونی نوٹس کے بعد دھمکی آمیز فون کال کی۔
فیصلے کے مطابق شکایت گزار نے کہا کہ مسلسل دباؤ کے باعث نوکری چھوڑنی پڑی، کاغذات اور واجبات بھی روک لیے گئے، ملزمان نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور اپنا دفاع شکایت گزار کی شخصیت، لباس اور نجی زندگی پر مرکوز کیا، شواہد کی بنیاد پر ہراسانی اور انتقامی کارروائی ثابت ہوئی ہے۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے 5 ملزمان پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے، جبکہ 21 لاکھ 60 ہزار روپے شکایت گزار کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔
فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ ادارہ 15 دن میں شکایت گزار کو تجربہ نامہ، کلیئرنس، تنخواہ اور واجبات فراہم کرے، ادارہ 30 دن کے اندر انسدادِ ہراسانی کمیٹی کو نئے سرے سے تشکیل دے، خوش اخلاقی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا۔