• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں جوابی کارروائیوں میں 54 دہشتگرد مارے گئے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسکرین گریب
اسکرین گریب

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں 42 جوان شہید ہوئے ہیں، جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو۔

بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا، دہشتگردوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس نے دلیری سے مقابلہ کیا، زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے، ہنہ اوڑک کے واقعے میں چار افراد جاں بحق ہوئے اور 6 زخمی ہیں، مانگی ڈیم واقعے میں 9 پولیس اہل کار شہید ہوئے، 15 خارجی ہلاک ہوئے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گردوں نے آج 18 پولیس اہل کاروں کو شہید کیا، مانگی ڈیم واقعے میں شہید پولیس اہل کاروں کی تعداد 27 ہو گئی ہے، بیلہ کے قریب دہشت گرد واقعے میں 11 فوجی اہل کار شہید ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑوں میں آپریشن جاری تھا، جس میں دہشت گرد مارے گئے، مجموعی طور پر 26 خارجی جہنم واصل کیے گئے، آج ہونے والے واقعے میں 14 دہشتگرد مارے گئے، اس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے 14جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ دہشت گرد حملے ہندوستان کروا رہا ہے، افغان طالبان رجیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ان دہشت گرد واقعات کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی ترقی اور عزت سے مسئلہ ہے، پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو۔

قومی خبریں سے مزید