گزشتہ سال دسمبر 2025ءمیں یورپی یونین کے 7 رکنی مانیٹرنگ مشن نے جی ایس پی پلس معاہدے کی تجدید کیلئے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ وفد میں یورپی کمیشن کے پولیٹکل اور ٹریڈ کے سینئر ارکان شامل تھے۔ دورے کا مقصد پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے دی گئی ڈیوٹی فری جی ایس پی سہولت کیلئے اُن27کنونشنز ،جن میں 16 انسانی حقوق سے متعلق کنونشنز شامل تھے، پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔ وفد نے اپنے دورے میں وزیر تجارت جام کمال، وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم تارڑ، ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران اور ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کی تھیں جس میں، میں بھی شامل تھا۔ مانیٹرنگ مشن نے پاکستان میں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، چائلڈ لیبر، آزادی اظہار رائے اور پھانسیوں کی سزائوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے وفد کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو ان کنونشنز پر عملدرآمد کیلئے حکومت نے کئے ہیں۔
یورپی یونین، امریکہ کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ یورپی یونین نے 2014ءمیں پاکستان کو 5سال کیلئے ڈیوٹی فری ایکسپورٹ سہولت دی تھی جس میں مزید 5سال کیلئے دسمبر 2023ءاور بعد میں 31 دسمبر 2027 تک توسیع کردی گئی تھی لیکن نئے یورپی یونین قوانین کے مطابق جی ایس پی ممبر ممالک یہ سہولت 31 دسمبر 2028 تک جاری رکھ سکتے ہیں جس کیلئے انہیں نئے قوانین کے تحت درخواست جمع کرانا ہو گی۔ یورپی یونین جی ایس پی پلس سہولت کے تحت پاکستان کو ٹیکسٹائل سمیت6300سے زائد مصنوعات پر 9.6 فیصد (تقریباً 732 ملین یورو) کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جس سے پاکستان کو اپنے مقابلاتی حریفوں بھارت، ترکی، ویت نام اور چین پر ڈیوٹی فری سبقت حاصل ہوگئی ہے جسکی وجہ سے پاکستان کو پہلے 5سال میں یورپی یونین ایکسپورٹ بالخصوص ٹیکسٹائل میں 15ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور پاکستان یورپی یونین کے 27ممالک کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر اور جی ایس پی پلس سہولت سے فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا ہے جسکے بعد دوسرا بڑا ملک فلپائن، تیسرے نمبر پر سری لنکا، چوتھے نمبر پر ازبکستان اور دیگر ممالک آتے ہیں۔ پاکستان کی یورپی یونین کی ایکسپورٹ میں 2014 سے اب تک 91.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جی ایس پی پلس سہولت کی وجہ سے پاکستان کی یورپی یونین ایکسپورٹ 8 ارب یورو سالانہ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 2025ءمیں پاکستان اور یورپی یونین کی باہمی تجارت 12.2 ارب یورو سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔
یورپی یونین کی حالیہ جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی جی ایس پی پلس سہولت برقرار رکھنے کیلئے حکومت پاکستان کو انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، سزائے موت کے دائرہ کار، انسداد تشدد قانون کا نفاذ، مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور قانون کی حکمرانی پر موثر اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ یورپی یونین کی یہ جائزہ رپورٹ یورپی پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی ہے جس میں تحفظات کے ساتھ اقلیتوں کیلئے نیشنل کمیشن(NCHR) کے قیام اور سزائے موت کے قانون پر عملدرآمد میں نرمی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے جائزہ مشن کو ایف پی سی سی آئی میں میٹنگ کے دوران میں نے بتایا کہ 2024ءتک پاکستان میں 6161 مجرمان کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئیں لیکن دسمبر 2019ءسے اب تک کسی مجرم کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی بلکہ زیادہ تر پھانسی کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہیں۔ اسی طرح چائلڈ لیبر اور صنعتوں کے فضلے کے ڈسچارج سے ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر میں نے یورپی یونین کے وفد کو صنعتوں کے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا جن پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں غیر ملکی خریدار اپنے ایکسپورٹ آرڈر منسوخ کردیتے ہیں اور ان فیکٹریوں کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہماری ایکسپورٹ انڈسٹری چائلڈ لیبر اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی قوانین کی سختی سے پابندی کررہی ہے۔
یورپی یونین کے جائزہ کمیشن نے بتایا کہ 2027ء میں جی ایس پی پلس سہولت کی تجدید کیلئے کچھ نئی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں جن میں انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، جبری گمشدگیوں اور مزدوروں کے حقوق شامل ہیں۔ جائزہ کمیشن نے پاکستان میں 2014ء کے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے جبری مشقت قانون کی پارلیمنٹ سے توثیق کو سراہا لیکن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ میری حکومت پاکستان کو تجویز ہے کہ جی ایس پی پلس معاہدے کی تجدید کیلئے یورپی یونین کی بقایا شرائط اور کنونشنز پر عملدرآمد ترجیحی بنیادوں پر کرے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور یورپی یونین سے ڈیوٹی فری سہولت واپس لینے کی صورت میں پاکستان کی یورپی یونین ایکسپورٹ بالخصوص ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوں گی جس کا موجودہ حالات میں پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا۔